جمعہ , 24 مارچ 2017

جنرل راحیل سے متعلق وزیرِ دفاع خواجہ آصف پالیسی بیان دیں گے: ترجمان وزیراعظم پاکستان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم نواز شریف کے ترجمان مصدق ملک نے واضح کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کی سعودی اتحاد کی سربراہی سے متعلق خبروں پر تبصرہ کرنا نامناسب ہے، کیونکہ ابھی تک انھوں نے اس عہدے کے لیے فوج یا حکومت سے اجازت طلب نہیں کی۔ذرائع کے مطابق، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصدق ملک کا کہنا تھا کہ جو چیز ابھی تک ہوئی ہی نہیں اس بارے میں پہلے سے سوالات اٹھانا اور حکومتی لاعلمی کا تاثر پیش کرنا درست نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف اس معاملے پر پالیسی بیان دیں گے، لہذا وہ پہلے سے کچھ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بغیر کسی ثبوت الزام تراشی سے گریز کرنا چاہئے اور اسی سے ریاست مضبوط ہوسکتی ہے۔پروگرام میں موجود پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سابق وزیر دفاع سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ راحیل شریف کی سعودی اتحاد کی سربراہی سے متعلق خبروں نے عوام اور سیاسی حلقوں میں بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کوئی بھی سول اور فوجی شخص جس نے ملک کے کسی بھی ادارے میں کام کیا ہو، اسے کم از کم دو سال تک کسی ایسی جگہ جانے کے لیے حکومت اور اپنے ادارے سے اجازت لینی پڑتی ہے، جہاں پر مفادات میں تضاد پیدا ہونے کا خدشہ ہو، لہذا اس وقت سب جاننا چاہتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا حقیقت ہے، جسے عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔خیال رہے کہ کچھ روز قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو دہشت گردی کے خلاف 39 اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کا سربراہ بنائے جانے کی تصدیق کی تھی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے اعتراف کیا تھا کہ اس حوالے سے معاہدے کو چند روز قبل حتمی شکل دی گئی۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس معاہدے کے حوالے سے زیادہ تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔خواجہ آصف کے اس بیان کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کی پیشکش ہوئی تو وہ یقیناً حکومت سے اس کی اجازت لیں گے۔حال ہی میںمیڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب کی خواہش تھی کہ آرمی چیف رہتے ہوئے راحیل شریف سعودی اتحاد کے سربراہ بنیں، لیکن حکومت اور فوج کا خیال تھا کہ ایسا کرنا مناسب نہیں اور اس سے مفادات میں تضاد پیدا ہوگا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد بنائے جانے کے بعد پاکستان ابتدا میں اس میں شمولیت سے متعلق مخمصے کا شکار رہا۔تاہم ابہام دور ہونے کے بعد پاکستان نے اس اتحاد میں اپنی شمولیت کی تصدیق کردی، لیکن کہا گیا کہ اتحاد میں اس کے کردار کا تعین سعودی حکومت کی طرف سے تفصیلات ملنے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں 2016 میں یومیہ 11 بچوں کا جنسی استحصال

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ برس جنسی استحصال یا تشدد کے شکار ہونے والے بچوں سے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے