پیر , 26 جون 2017

جنرل راحیل شریف کی اسلامی فوج کی کمانڈ کے لیےپہلی شرط اس اتحاد میں ایران کی شمولیت

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )جنرل (ر) راحیل شریف کی سعودی سرپرستی میں تشکیل کئے گئے اتحاد کی سربراہی قبول کرنے کے شرائط منظر عام پر آگئے ہیں جس میں پہلی شرط اس اتحاد میں ایران کی شمولیت، راحیل شریف کسی کی کمان میں کام نہیں کریں گے اور انہیں مسلم ممالک میں ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے صلح کار کے طور پر کام کی اجازت ہوگی۔تفصیلات کے مطابق، سعودی اتحاد کی کمان سابق آرمی چیف راحیل شریف نے تین شرائط پر سنبھالنے کی حامی بھری جبکہ سعودی عہدیداروں سے ملاقات میں وزیراعظم نوازشریف نے بھی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے راحیل شریف کی تعیناتی کو پاکستان کیلئے اعزاز قرار دیا۔
ذرائع سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا تھا کہ سعودی حکام نے وزیراعظم نواز شریف سے بات کی تھی کہ جنرل راحیل شریف کو اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بنایا جائے جس کی انہوں نے اجازت دی تھی۔اُنہوں نے کہا کہ راحیل شریف نے اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بننے کیلئے سعودی عرب کے سامنے 3 شرائط رکھی تھیں، پہلی شرط، ایران کو فوجی اتحاد میں شامل کیا جائے، چاہے وہ مبصر کی حیثیت سے ہی ہو۔
دوسری شرط یہ تھی کہ راحیل شریف کسی کی کمان میں کام نہیں کریں گے، ایسا نہ ہو کہ اصل سربراہی کسی سعودی کمانڈر کے پاس ہو اور انہیں اس کے نیچے کام کرنا پڑے جبکہ تیسری شرط یہ تھی کہ انہیں مسلم ممالک میں ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے صلح کار کے طور پر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے تاکہ بوقت ضرورت وہ مسلم دنیا میں اپنا کردار اداکرسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ راحیل شریف سے رابطہ ہوا اور یہ سب کچھ راحیل شریف نے ہی انہیں بتایا۔

یہ بھی دیکھیں

پارا چنار میں دو دھماکوں میں 30 افراد جاں بحق، 100 زخمی

پاراچنار (مانیٹرنگ ڈیسک ) پارا چنار میں دو دھماکوں میں کم از کم 30 افراد ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے