اتوار , 25 جون 2017

بحرینی عوام اور آل خلیفہ حکومت کی اسرائیل نوازی

(سبطین شیرازی)
پوری دنیا میں مسلمان صیہونی سازشوں کا شکار ہیں خاص کر عرب دنیا ان سازشوں کا بری طرح نشانہ ہے اور اسکی وجہ عرب حکمرانوں کی بے حسی اور اپنی بادشاہت کو بچانے کے لئے استعمارنوازی ہے۔ یہ جانتے اور سمجھتے ہوئے کہ اسرائیل ایک غاصب اور خائن ریاست ہے اور اس نے عرب دنیا کی پشت میں خنجر گھونپاہوا ہے اس کے باوجود وہ اس صیہونی ریاست کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہیں اور اس کا ہر امر تسلیم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ۔سعودی عرب سمیت اس کے تمام اتحادی ممالک کے تعلقات اور مراسم صیہونت کے ساتھ نہایت گہرے ہیں بے شک وہ انکا ر کریں لیکن یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی اب نہیں رہی ہے۔ عرب ممالک کے غیور عوام اپنے حکمرانوں کی اس روش سے تنگ دکھائی دیتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کے عوام اپنے حکمرانوں کے خلاف نفرت رکھتے ہیں اور اسرائیل کے خلاف اپنے غم و غصہ کا برملا اظہار کر رہے ہیں عرب ممالک کے عوام اپنے فلسطینی بھائیوں کا خون اسرائیل کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں
بحرین میں بھی اس عوامی غم و غصہ کا ایک مظاہرہ اس وقت دیکھا جا سکتا ہے کہ جب بحرینی عوام نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے سے متعلق آل خلیفہ حکومت کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کے پرچم کو نذر آتش کر دیا تھا بحرینی حکام آل سعود کی تاریخ کو تازہ کرتے ہوئے ہر اس لیڈر کی گرفتاری عمل میں لا رہے ہیں جو انکے مظالم پر تنقید کرتا ہےبحرین نے اسرائیل کے ساتھ گہری دوستی اور وفادار ی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی وفد کو اپنے ملک آنے کی دعوت دی ۔ذرائع کے مطابق بحرینی عوام نے جمعرات کی رات دارالحکومت منامہ کے مغرب میں واقع الدراز کےعلاقے میں بحرین کے معروف عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی رہائشگاہ کے سامنے مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی وفد کے دورہ بحرین کو آل خلیفہ حکومت کے لئے کلنک کا ٹیکہ اور اس کے اس اقدام کو مسلمانوں، عربوں نیز بحرینی قوم سے خیانت کا حامل قرار دیا۔مظاہرے کے شرکاء نے اسرائیل کی ظالمانہ ماہیت کی بناء پر صیہونی وفد کے دورہ منامہ کو بحرینی قوم کے عزم و ارادے کے منافی قرار دیا اور تاکید کے ساتھ اعلان کیا کہ بحرین کی قوم، فلسطین کے تقدیر ساز مسئلے کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی حمایت جاری رکھے گی
واضح رہے کہ بحرین کی آل خلیفہ حکومت کی دعوت پر ایک عید کا جشن منانے کے لئے صیہونیوں کا ایک وفد حال ہی میں منامہ پہنچا تھا جس پر بحرینی عوام کا غم و غصہ بھڑک اٹھا تھا۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب بحرین میں فروری دو ہزار گیارہ سے آل خلیفہ حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔صیہونی وفد کے دورہ بحرین پر مچا ہوا ہنگامہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ ایک نئے انکشاف نے بحرین میں ہنگامہ مچا دیا ہے۔صیہونی حکومت کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ بحرین کے بادشاہ کی بیٹی نے علاج کے لئے مقبوضہ فلسطین کا دورہ کیا تھا۔صیہونی حکومت کے علاقائی تعاون کے نائب وزیر ایوب قرا نے بتایا کہ وہ صیہونی خاخام کے بحرین دورے کا پروگرام بنانے اور سفر کو کامیاب بنانے کے ذمہ دار تھے۔صیہونی حکومت کے اخبار ہاریٹز نے لکھا کہ وہ گزشتہ ہفتے صیہونی خاخام کے دورہ بحرین کا پروگرام بنانے والے تھے اور انہوں نے ہی بحرینی حکام سے صیہونی خاخام کی ملاقات کا پروگرام تیار کیا تھا۔ایوب قرا نے بتایا کہ شاہ بحرین کی بیٹی نے کچھ سال پہلے خفیہ طور پر اسرائیل کا سفر کیا تھا اور وہاں آپریشن کرایا تھا۔
قرا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ صیہونی حکومت کے خلیج فارس کے تقریبا تمام ممالک کے ساتھ رابطے ہیں۔ اس صیہونی عہدیدار نے بتایا کہ خفیہ طور پر اور میڈیا کی نظروں سے بچتے ہوئے کوئی بھی عرب ملک مسئلہ فلسطین کو اہمیت نہیں دیتا اور تمام ملک اپنے داخلی مسائل میں گرفتار اور خود کے اقتدار میں باقی رکھنے کے لئے کوشاں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے داخل ہونے کے بعد ایران کے خطروں کی وجہ سے، اسرائیل اور عرب ممالک کے تعلقات وسیع ہوں گے۔

یہ بھی دیکھیں

یمن کی تباہی کا ذمہ دار کون؟

(بقلم: عادل فراز) سعودی اتحاد کا دعویٰ ہے کہ منصور ہادی اور عبداللہ صالح کو ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے