ہفتہ , 25 مارچ 2017

جرمنی آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی

برلن (مانیٹرنگ ڈیسک )سنہ 2015 برس جرمنی میں مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور افریقہ سے 10 لاکھ سے زائد تارکین وطن داخل ہوئے تھےجرمنی کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ 2016 میں جرمنی میں آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں 2015 کے مقابلے میں چھ لاکھ کی کمی ہوئی ہے۔گذشتہ سال جرمنی پہچنے والے تارکین وطن کی تعداد 2,80,000 تھی جبکہ سنہ 2015 میں آنے والوں سے چھ لاکھ سے کم ہے۔وزارتِ داخلہ کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ بلقان روٹ کی بندش اور ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہے۔
جرمنی کو تارکین وطن کی زیادہ ضرورت کیوں؟جرمنی میں تارکین وطن کے حق میں ریلی، سینکڑوں افراد شریکواضح رہے کہ 8,90,000 تارکینِ وطن کی ریکارڈ تعداد نے یونان اور بلقان کی ریاستوں سے جرمنی کا سفر کیا تھا۔یہ تارکینِ وطن جرمنی چانسلر انگیلا میرکل کی جانب سے عارضی سیاہ پناہ کی پالیسی کھولنے کے حکم جاری کرنے کے بعد وہاں پہنچے تھے۔
انگیلا میرکل کی تارکینِ وطن پالیسی پر تنقید کی گئی تھی اور گذشتہ سال ہونے والے وفاقی انتخابات سے پہلےتارکینِ وطن کا موضوع ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن گیا تھا۔جرمنی کے ووٹروں نے انگیلا میرکل کی جماعت سی ڈی یو کو علاقائی انتحابات میں ووٹ نہیں دیا تھا جس کے بعد انھوں نے تسلیم کیا تھا کہ تارکینِ وطن کا مسئلہ بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا تھا۔جرمنی کے وزیرِ داخلہ تھامس ڈی میزیئر کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور یورپی یونین کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے فائدہ ہو رہا ہے اور ہم پناہ گزینوں کے معاملے کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
جرمن وزیرِ داخلہ تارکینِ وطن کے حوالے سے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے معاہدے کا حوالہ دے رہے تھے۔تھامس ڈی میزیئر نے کہا کہ سنہ 2016 میں 2,70,000 خواہشمند افراد نے درخواستیں دیں جب کہ سنہ 2015 میں یہ تعداد 7,45, 545 رہی۔سنہ 2015 برس جرمنی میں مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور افریقہ سے 10 لاکھ سے زائد تارکین وطن داخل ہوئے تھے۔جرمن حکومت نے البانیہ سے آنے والے تارکینِ وطن کی پناہ کی درخواستوں کو ‘محفوظ ملک’ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا اور وہ افغان باشندوں کو بھی ڈی پورٹ کر رہی ہے۔حکومت نے گذشتہ برس کہا تھا کہ جرمنی سے واپس آنے والے زیادہ تر تارکینِ وطن عراق اور افغانستان واپس جا رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

روس پر طالبان کو اسلحہ فراہمی کا امریکی الزام، ناکامی چھپانے کی کوشش ہے۔ روس

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روسی وزارت خارجہ نے شدت پسند تنظیم طالبان کو اسلحہ فراہمی کے امریکی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے