ہفتہ , 6 مارچ 2021

دس لاکھ سے زائد تارکینِ وطن سمندر عبور کر کے یورپ آئے: اقوام متحدہ

151224165821_migrants_640x360_ap
سمندر کے راستے یورپ پہنچنے والےاس مہلک سفر کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3735 ہے:اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ 2015 کے دوران دس لاکھ سے زائد تارکینِ وطن سمندر عبور کر کے یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔

منگل کو یورپ میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن سے متعلق یو این ایچ سی آر نے اپنی ویب سائٹ پر تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں داخل ہونے والے 80 فیصد تارکینِ وطن سمندر کا مشکل سفر طے کر کے یونان پہنچے ہیں۔

2015: پناہ گزینوں، دولتِ اسلامیہ اور پوتن کا سال

تارکینِ وطن کے لیے یورپی یونین کا 17 نکاتی معاہدہ

ادارے کے مطابق ساڑھے آٹھ لاکھ تارکینِ وطن ترکی سے یونان میں داخل ہوئے جبکہ ڈیڑھ لاکھ افراد لیبیا سے بحیرۃ روم عبور کے اٹلی پہنچے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد اب یورپ کو تارکینِ وطن کے بحران کا سامنا ہے۔

سنہ 2014 کے مقابلے میں سمندر کے راستے یورپ آنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور 2014 میں محض 216000 افراد سمندر کے راستے یورپ آئے تھے۔

یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن تعداد میں اضافے سے غیر پائیدار اور غیر محفوظ کشتیوں کے استعمال کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

’ اپنے ملک میں جنگ، تشدد، بدحالی سے بھاگ کر بین الاقوامی تحفظ کے لیے یہ افراد اس خطرناک سفر پر روانہ ہوتے ہیں۔‘

یو ین ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ بحیرۃ روم عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے والوں میں 49 فیصد کا تعلق شام سے جبکہ 21 فیصد کا تعلق افغانستان سے ہے۔

اس مہلک سفر کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3735 ہے۔

اس سے قبل آئی او ایم نے کہا تھا کہ رواں سال خشکی اور سمندر کے ذریعے یورپ میں مجموعی طور پر 10 لاکھ چھ ہزار تارکینِ وطن داخل ہوئے ہیں۔

یہ تارکینِ وطن سخت سردی میں بھی مشکل سفر طے کر کے یورپ پہنچے رہے ہیں اور یورپ میں تارکینِ وطن کی آمد سے بحران پیدا ہو گیا ہے۔ بعض یورپی ممالک نے تارکینِ وطن کے داخلے کو روکنے کے لیے سرحدی باڑیں لگا دی ہیں اور سرحدی نگرانی کے لیے خصوصی ادارہ بنایا ہے۔

جرمنی میں دس لاکھ تارکینِ وطن نے پناہ لی ہوئی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …