اتوار , 23 جولائی 2017

نواز‘راحیل مک مکا

(سلیم اے سیٹھی )
اسے نواز شریف کی سیاسی پختگی کہیں یا دیوار کے پیچھے دیکھنے کا فن، جو بھی ہو مگر ایک بات ماننا پڑے گی کہ انہوں نے اپنے والد کی طرح جنرلز کو رام کرنے کا فن سیکھ لیا ہے اور یہ فن جنرل راحیل شریف جیسے قومی ہیرو کے معاملے میں بھی نظر آتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار گزشتہ برس کی آخری چھ ماہ کی سیاست کو سمجھنے سے قاصر تھے مثال کے طور پر نواز شریف نے پیپلز پارٹی سے اچانک رخ کیوں موڑ لیا اور ان کی پارٹی کے ارکان کا پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ رویہ کیونکر تبدیل ہوا؟ دوسرا انہوں نے عمران خان کے لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد کلی مختلف اور جارحانہ رویہ کیوں اپنایا؟ اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب حکومت کیلئے لاک ڈاؤن سے بھی کہیں پیچیدہ اور سنگین مسئلہ ڈان لیکس کا خطرہ بھی موجود تھا اور قومی سلامتی کا یہ ایشو حکومت کے گلے کی ہڈی بن چکا تھا آخر ایسے وقت میں آرمی کیخلاف محاذ کھولنے کا حوصلہ آخر کہاں سے آیا؟ جب حالات اور سیاست کی ہوائیں ان کیخلاف آندھی کی صورت اختیار کرچکی تھیں؟ آرمی چیف کے رویئے اور لب لہجے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جارہا تھا اور بیانات کو دھمکی تصور کیا جارہا تھا۔
حقیقت آج ہم سب اور سیاسی پنڈتوں پر بھی آشکار ہوچکی ہے کہ اس وقت کے حالات اور پس پردہ معاملات درحقیقت ایسے نہیں تھے جس طرح ان کو بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا جارہا تھا۔ اندرون خانہ آرمی چیف کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کو کیا کرنا ہے مگر بظاہر آئی ایس پی آر کے ذریعے ان کے اہداف کو پوری شدومد کے ساتھ بڑھا چڑھا کر اور آرمی چیف کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جارہا تھا اسی طرح حکومت کو بھی پوری طرح ادراک تھا کہ آرمی چیف کی حتمی منزل کیا ہے مگر اس کے باوجود عوام کے سامنے جان بوجھ کر حالات کو تشویشناک بناکر پیش کیا جارہا تھا اور منظر کشی کچھ اس انداز میں کی جارہی تھی کہ آرمی چیف کیا کریں گے کسی کو معلوم نہیں اور یہ صورتحال حکومت اور آرمی چیف کو سوٹ بھی کرنی تھی اس ابہام کی وجہ سے آرمی چیف اپنے عہدے کے آخری دن 29 نومبر تک قوم کی امیدوں کا محور رہے تو میاں نواز شریف کی شخصیت بھی ایسے ہیرو کے مشابہہ ہوگئی جو انتہائی سنگین حالات میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نبردآزما رہے۔
ڈان لیکس کے حوالے سے نواز حکومت اور ان کا اپنا کردار ایک عرصہ تک بحث کا موضوع بنا رہا اور ان پر مختلف الزامات بھی لگتے رہے کہ انہوں نے فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے یہاں تک کہ اس معاملہ کو غداری جیسے سنگین فعل کے مترادف بھی قراردیا گیا اور بہی خواہوں کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آخر فوج انتہائی اقدام کیوں نہیں اٹھارہی اور ملٹری سویلینز کی پیش قدمی کا طاقت کے ساتھ جواب کیوں نہیں دے رہی؟
ان سوالات کا جواب اب مل رہا ہے کہ جنرل راحیل شریف کی ترجیحات مختلف تھیں ان کی نگاہیں اس منافع بخش اسائنمنٹ پر تھیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی منتظر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے روایات کے برعکس ایک سال پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہوجائیں گے باوجود اس کے کہ اس آفر کا حکومت کی طرف سے، سعودی حکومت کی طرف سے یہاں تک کہ خود راحیل شریف کی طرف سے باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا مگر وہ کو عہدہ سنبھالنے کیلئے کود پڑے، قطع نظر اس کے کہ ان کے اس فیصلے کے کیا برے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں جو ان کی ذات کے حوالے سے اس ادارے کی ساکھ کے حوالے سے جس میں انہوں نے خدمات انجام دیں یہاں تک کہ ملک کے حوالے سے بھی اور آئی ایس پی آر کے حوالے سے بھی جو ان کو 29 نومبر تک نجات دہندہ کے طور پر پیش کرتا رہا۔
اس ملک میں معاملات کو جس انداز سے نمٹایا جاتا رہا اس سے بہت ہی ناخوشگوار احساس ہوتا ہے اور بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ سب سے اہم یہ سوال کہ آخر آرمی چیف بھی انسان ہوتا ہے اس کے بھی جذبات ہوتے ہیں دوسرے اس قسم کے معاملات سے آرمی جیسے منظم ادارے پر تنقید کا دروازہ کل جائے گا جس کی تلافی ممکن نہ ہوگی۔
تیسرا یہ کہ جب آپ ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر ہوتے ہیں تو آپ کے اور قومی مفادات کے مابین محض بہت باریک لائن ہی رہ جاتی ہے اور چوتھا یہ کہ فوج بھی سول حکومتوں کی طرح پراپیگنڈہ مہم چلاتی ہے۔
یہاں یہ سوال بھی ہے کہ جنرل راحیل شریف سابق آرمی چیف ہوتے ہوئے ایک غیر ملکی فوج کی سربراہی قبول کررہے ہیں ان پر ایک عرصہ تک کوئی قانونی پابندی ہے یا نہیں؟ کیا ان کا ذاتی فیصلہ قومی مفاد سے تو متصادم نہیں؟سعودی عرب پاکستان کا دوست ہوسکتا ہے مگر پاکستان کے سابق آرمی چیف کی اتحادی فوج میں شمولیت کے بعد بھی رہے گا؟ کیا مستقبل میں عہدہ قبول کرنے سے قومی مفاد تو متاثر نہ ہوں گے؟ اور عسکری راز افشا ہونے کا اندیشہ نہ ہوگا؟
گو ابھی تک سرکاری طور پر جنرل راحیل شریف کی 39 ملکی اتحاد کی فوج کی سربراہی کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا اس لئے بہتر ہوگا کہ جنرل راحیل خودہی اپنے فیصلے پر نظرثانی کرلیں کیونکہ ان کی غیر ملکی فوج کی سربراہی کا معاملہ کافی حد تک متنازعہ ہوچکا ہے ایسے میں جنرل راحیل کا متنازعہ فوج کی سربراہی کرنا خود ان کے خاندانی وقار اور اپنی عزت کیلئے بھی بہتر نہ ہوگا۔ اس طرح فوج کو بھی معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے کیونکہ اس معاملہ میں فوج کی توقیر بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے اور حکومت کو بھی سوچ بچار کرنا ہوگا کیونکہ اتحاد فوج کی سربراہی سے سٹیٹ کے مفادات بھی متاثر ہوسکتے ہیں اگر جنرل راحیل شریف کو غیر ملکی فوج کی کمانڈ کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے تو یہ ایک بری روایت ہوگی اس کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی روکنا ہوگا۔ ان تمام تحفظات سے بڑھ کر یہاں تک کہ جنرل راحیل شریف اور حکومت سے بھی پہلے فوج کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی اور ایسا ہونے سے روکنا ہوگا۔
جنرل راحیل شریف نے فوج اور حکومت کے علاوہ جس طرح آرمی ونگ کو اپنا تاثر ابھارنے کیلئے استعمال کیا اور قوم کی نظروں میں ہیرو بنے ، اب قوم کیلئے بھی اس صدمے کو برداشت کرنا مشکل ہوگا کہ ان کا ہیرو اپنے مقام سے گر جائے۔اگر سابق آرمی چیف ان تمام خدشات کے باوجود بھی اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہیں تو اس کا امکان بہرحال موجود ہے کہ کچھ سیاسی پارٹیاں اور عوامی حلقے سڑکوں پر احتجاج کرنا شروع کردیں گے اور عوام کے ذہن میں یہ سوالات بھی اٹھیں کہ ان کے آرمی چیف نے محض اتحاد کی سربراہی قبول کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں کا دباؤ اور یہاں تک کہ لیکس کیس کے عدالت میں موجود ہونے کے باوجود معاملے سے دانستہ صرف نظر کئے رکھا اور یہ ایسا داغ ہوگا جس کی تلافی ممکن نہ ہوگی اس لئے معاملے کو یہیں دبانا مناسب ہوگا۔ ویسے جنرل صاحب آپ ایسے جہاز میں سوار ہونے جارہے ہیں جس کا انجن ہی نہیں۔بشکریہ خبریں نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیا پاکستان میں شیعہ ہزارہ کے لیے کہیں‌ جائے اماں ہے؟

صوبہ بلوچستان کے شہر مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک ہزارہ ...

ایک تبصرہ

  1. ہمارے ملک کے لیڈر خواہ آلا عہدوں پر فائز لوگ فقط اپنے لیے زیادہ سوچتے ہیں اور ملک کے لئے کم!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے