منگل , 9 مارچ 2021

ضرورت ہے ایک حجام کی۔۔۔۔۔

457241-hairdresserneeded-1456163291-244-640x480

نارمن ویلز کینیڈا کا ایک قصبہ ہے۔ آٹھ سو نفوس پر مشتمل قصبے کی آبادی کوشدت سے ایک حجام کی تلاش ہے! آپ یہ مت سمجھ لیجیے گاکہ حجام قصبے میں کوئی واردات کرکے فرار ہوگیا ہے اور لوگ اسے ڈھونڈ رہے ہیں۔
دراصل قصبے میں کوئی حجام نہیں ہے اور لوگ خود اپنے بال تراشنے اور داڑھیاں مونڈنے پر مجبور ہیں۔ نارمن ویلز علاقے کا مرکزی قصبہ ہے۔ آس پاس کے گاؤں دیہات کے لوگ بھی اشیائے ضرورت کی خریداری کے لیے یہیں کا رُخ کرتے ہیں۔ اس کے باوجود یہاں کوئی پیشہ وَر نائی نہیں ہے۔ حجام کی عدم دستیابی کی وجہ سے قصبے کے رہائشی شیو کرنے اور بال تراشنے میں ایک دوسرے کی مدد کرنے پر مجبور ہیں۔
نارمن ویلز کی اکنامک ڈیولپمنٹ آفیسر نکی رچرڈز نے ایک برطانوی روزنامے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دو سال سے وہ اپنے شوہر کی داڑھی مونڈ رہی ہے اور کئی بار اس کے بال بھی تراش چکی ہے۔ خود اپنے بال بھی اس نے شوہر کی مدد سے تراشے تھے۔ نکی کا کہنا ہے قصبے کے تمام لوگ سَر اور داڑھی کے بال تراشنے میں اپنے اپنے اہل خانہ سے مدد لینے پر مجبور ہیں۔ اکنامک ڈیولپمنٹ آفیسر ہونے کی وجہ سے قصبے کے باسیوں کے لیے حجام کی تلاش میں نکی آگے آگے ہے مگر ہنوز اس کی کوششیں کام یاب نہیں ہوسکیں۔
آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ نارمن ویلز قطب شمالی کے بالکل آغاز پر واقع ہے۔ یہاں اوسط درجۂ حرارت منفی 31 ڈگری سیلسیئس ہوتا ہے۔ انتہائی سرد موسم میں پارہ منفی 50 ڈگری سیلسیئس تک گرجاتا ہے۔ قصبے کے باسیوں میں سے کوئی بال تراشنے میں ماہر نہیں ہے اور دوسرے علاقوں سے پیشہ وَر حجام سردترین موسم کے پیش نظر ادھر کا رُخ کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ اگر کوئی آ بھی جائے تو اس کے لیے چند ہفتوں سے زیادہ یہاں ٹکنا محال ہوجاتا ہے۔
دو سال سے کسی حجام نے یہاں کا رُخ نہیں کیا۔ چناں چہ اب قصبے کے باسی شدت سے حجام کی خدمات حاصل کرنے کی تگ و دو کررہے ہیں۔ قصبے کا کوئی فرد اگر حجام سے بال ترشوانا چاہے تو اسے گاڑی میں 17 گھنٹے کا سفر طے کرنا ہوگا، یا پھر چار گھنٹے طویل فلائٹ کے بعد وہ قریب ترین شہر ایڈمونٹن پہنچ پائے گا، جہاں اس کی خدمت کے لیے پیشہ وَر حجام تیار ہوں گے، مگر یہ خدمت اسے کم از کم ایک ہزار کینیڈین ڈالر میں پڑے گی۔
حجام دستیاب نہ ہونے کے باعث نارمن ویلز کے مرد بال ترشوانے سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اہل خانہ یا پھر دوستوں کے ہاتھوں بے ڈھنگے بال کٹوانے سے بہتر ہے کہ بال بڑھا لیے جائیں۔ مگر کب تک؟ بالآخر انھیں بال ترشوانے پڑتے ہیں مگر وہ من پسند ہیئراسٹائل اپنانے کے لیے ترس گئے ہیں اور شدت سے پیشہ وَر حجام کے منتظر ہیں۔ کینیڈا کے قومی بینک کی مقامی شاخ میں ملازم سوزن کول بیک کہتی ہیں کہ اہل قصبہ کی تلاش شدت کی انتہا کو چُھونے لگی ہے۔ اگر کوئی حجام قصبے کا رُخ کرے تو سب لوگ کسی بادشاہ کی طرح اس کا استقبال کریں گے۔
نکی رچرڈز کے مطابق حجام کی تلاش کے لیے مقامی ذرائع ابلاغ میں اشتہار شائع و نشر کروائے گئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے رابطہ بھی کیا مگر جب ان کے علم میں تمام تفصیلات آئیں تو وہ یہاں آنے سے انکاری ہوگئے۔

یہ بھی دیکھیں

لاک ڈاؤن سے پریشان ہیں تو اپنی چیخ آئس لینڈ تک پہنچائیں!

آئس لینڈ سیاحوں کے لیے اپنی تشہیر کرتا رہتا ہے اور اب اسی مہم کے …