ہفتہ , 27 فروری 2021

ٹریفک جام سے تنگ ہیں؟ تو کشتی میں سفر کریں!

457251-trafficjamtravelboat-1456163730-981-640x480

گنجان آباد شہروں میں ٹریفک جام ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس کی شدت اس وقت صحیح معنوں میں محسوس ہوتی ہے جب ٹریفک کے ازدحام میں پھنسے ہونے کی وجہ سے آپ وقت پر دفتر نہ پہنچ سکیں۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی باوجود کوشش کے روزانہ تاخیر کا شکار ہونے لگتا ہے اور اس کی نوکری خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
امریکی ریاست میری لینڈ میں رہنے والے گیبریل ہورچلرکو بھی اسی صورت حال کا سامنا تھا۔ وہ واشنگٹن ڈی سی کی ایک لائبریری میں لائبریرین ہے۔ دفتر مسلسل تاخیر سے پہنچنے کے باعث اسے وارننگ مل چکی تھی۔ ٹریفک جام کے ہاتھوں پریشان گیبریل نے اپنی ہیوی بائیک کو خیر باد کہا اور کشتی کے ذریعے دفتر جانا شروع کردیا۔ پچھلے پندرہ سال سے اس کا معمول ہے کہ وہ صبح سویرے کشتی میں بیٹھ جاتا ہے اور ہمیشہ وقت سے پہلے دفتر پہنچتا ہے۔ کشتی اس کی ذاتی ملکیت ہے۔
1999 میں ایک روز وہ حسب معمول ٹریفک جام میں پھنسا ہوا تھا جب شاہراہ کے ساتھ سے گزرتے دریائے ایناکوسٹیا کو دیکھ کر اچانک اسے خیال آیا کہ کیوں نہ اس میں سفر کرتے ہوئے دفتر پہنچ جایا کرے۔
چناں چہ اس نے اپنے فیصلے کو عملی جامہ پہنانے پر کام شروع کردیا۔ کچھ عرصے کی بھاگ دوڑ کے بعد اس نے اپنے لیے اکیس فٹ طویل ایک کشتی کا انتظام کرلیا۔ مگر دریا اس کے گھر سے خاصے فاصلے پر ہے۔ اس لیے وہ گھر سے موٹر سائیکل کے ذریعے دریا کے کنارے پہنچتا ہے جہاں اس کی کشتی ریلنگ سے بندھی ہوتی ہے۔ وہ کشتی کھینچتا ہوا پانی کے بہاؤ کے ساتھ چل پڑتا ہے۔ پانچ میل کا سفر طے کرنے کے بعد وہ کشتی سے اترتا ہے اور پیدل چلتا ہوا واشنگٹن میں واقع لائبریری آف کانگریس پہنچ جاتا ہے۔
گھر سے دفتر تک پہنچنے میں اسے ڈیرھ گھنٹہ لگتا ہے یہ تمام مشقت وہ صرف ٹریفک جام سے بچنے اور بروقت دفتر پہنچنے کے لیے اٹھاتا ہے۔ گیبریل کا کہنا ہے کہ دریا کے راستے آمد و رفت اس کے لیے ہر طرح سے فائدہ مند ہے۔ وہ ٹریفک جام میں پھنسنے کی اذیت سے محفوظ رہتا ہے، روزانہ کشتی کھینے سے اس کی صحت اپنی عمر کے لوگوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔
گیبریل71 برس کا ہے مگر اس کی صحت قابل رشک ہے۔ اپنے ہم عمروں کے مقابلے میں وہ چاق چوبند ہے اور اسے کوئی مرض بھی لاحق نہیں۔ دریا کے راستے سفر کرتے ہوئے اسے تازہ ہوا ملتی ہے اور کنارے کے ساتھ ساتھ اگا ہوا سبزہ اور درخت، اور ان میں چہچہاتے پرندوں کی آوازیں اسے تازگی اور فرحت کا احساس دلاتی ہیں۔
اس روٹ سے جاتے ہوئے اسے نہ تو بلند و بالا عمارات کے درمیان سے گزرنا پڑتا ہے اور نہ ہی ٹریفک کا شو و غل اس کی سماعت سے ٹکراتا ہے تاہم اس کا یہ سفر پندرہ برسوں کے دوران یکسر پرسکون نہیں رہا۔ ایسا بھی ہوا کہ اسے دوران سفر یکا یک بارش نے آلیا یا کبھی اچانک ہوا نے رخ بدل لیا اور اسے چپو چلاتے ہوئے دانتوں پسینہ آگیا۔ تین مواقع پر کشتی بھی الٹی اور ایک بار وہ دریا پر بنے ہوئے آہنی پل سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔ مگر گیبریل کا کہناہے وہ اس نوع کی مشکلات کو انجوائے کرتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

لاک ڈاؤن سے پریشان ہیں تو اپنی چیخ آئس لینڈ تک پہنچائیں!

آئس لینڈ سیاحوں کے لیے اپنی تشہیر کرتا رہتا ہے اور اب اسی مہم کے …