جمعرات , 4 مارچ 2021

ٹی وی پروگرام دیکھتے وقت چہرے کے تاثرات نوٹ کرنیوالی ٹیکنالوجی متعارف

457713-TV-1456243576-822-640x480

لندن: بی بی سے نے اعلان کیا ہے کہ وہ پروگرام نشر کرتے وقت لوگوں کے چہرے کے احساسات نوٹ کرنے والی ٹیکنالوجی متعارف کرائے گا تاکہ ان پروگراموں کی مقبولیت کا اندازہ لگاتے ہوئے مزید بہتر پروگرام بنائے جاسکیں۔
ایک سال تک کی تجرباتی آزمائش کے بعد اس جدید ترین ٹیکنالوجی کو مزید صارفین تک پھیلایا جائے گا تاکہ ٹی وی پروگرام دیکھتے ہوئے شعوری اور غیرشعوری طور پر لوگوں کے جذٓباتی ردِ عمل کا جائزہ لیا جاسکے ۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کے چہرے کو دیکھا جاسکتا ہے جس کے لیے برطانوی کمپنی حقیقی وقت میں لوگوں کے چہرے کے تاثرات نوٹ کرکے ان کا جائزہ لے گی اور اس نے یہ ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔
ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کے چہرے پڑھ کر نشر ہونے والے اشتہار کی پسند اور ناپسند بھی معلوم کی جاسکے گی جس سے بہتر کمرشل اور پروگرام بنانے میں مدد ملے گی۔ فیس ٹریکر ٹیکنالوجی کے ذریعے اداسی ، حیرت، خوشی ، خوف ، مسترد اور الجھن جیسے 6اہم تاثرات نوٹ کئے جاسکیں گے۔ اس ٹیکنالوجی کے ابتدائی تجربے میں جب لوگوں کو اشتہار دکھائے گئے تو ان کی پسندیدگی یا مثبت پہلو کی 77 فیصد تک درست پیش گوئی کی گئی لیکن انسان شعوری اورغیرشعوری طورپر بھی جذبات ظاہر کرتا ہے اور اس میں مثبت رویے کی شناخت میں 14 فیصد کامیابی ملی۔
ذرائع مطابق اس طرح پروگرام کی مقبولیت اور ریٹنگ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی کیونکہ اس سے براہِ راست لوگوں کے احساسات کا ڈیٹا حاصل ہوگا اور دنیا بھر میں پروگرامز اور اشتہارات کی مقبولیت جانچنے کا نیا معیار سامنے آئے گا۔ ادارے کے مطابقایک سال تک کی تجرباتی آزمائش کے بعد اس جدید ترین ٹیکنالوجی کو مزید صارفین تک پھیلایا جائے گا تاکہ ٹی وی پروگرام دیکھتے ہوئے شعوری اور غیرشعوری طور پر لوگوں کے جذٓباتی ردِ عمل کا جائزہ لیا جاسکے ۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کے چہرے کو دیکھا جاسکتا ہے اور ’کراؤڈ ایموشن‘ نامی ایک کمپنی حقیقی وقت میں لوگوں کے چہرے کے تاثرات نوٹ کرکے ان کا جائزہ لے گی جس نے یہ ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔
ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کے چہرے پڑھ کر نشر ہونے والے اشتہار کی پسند اور ناپسند بھی معلوم کی جاسکے گی جس سے بہتر کمرشل اور پروگرام بنانے میں مدد ملے گی۔ فیس ٹریکر ٹیکنالوجی کے ذریعے اداسی ، حیرت، خوشی ، خوف ، مسترد اور الجھن جیسے چھ اہم تاثرات نوٹ کئے جاسکیں گے۔ ابتدائی تجربے میں جب لوگوں کو اشتہار دکھائے گئے تو ان کی پسندیدگی یا مثبت پہلو کی 77 فیصد تک درست پیش گوئی کی گئی۔ لیکن انسان شعوری اورغیرشعوری طورپر بھی جذبات ظاہر کرتا ہے اور اس میں مثبت رویے کی شناخت میں 14 فیصد کامیابی ملی ۔
ذرائع مطابق اس طرح پروگرام کی مقبولیت اور ریٹنگ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی کیونکہ اس سے براہِ راست لوگوں کے احساسات کا ڈیٹا حاصل ہوگا اور دنیا بھر میں پروگرامز اور اشتہارات کی مقبولیت جانچنے کا نیا معیار سامنے آئے گا۔

یہ بھی دیکھیں

یکم جنوری سے ان اسمارٹ فونز پر واٹس ایپ نہیں چلے گا

لندن: پیغام رسانی، آڈیو اور ویڈیو کال کی معروف واٹس ایپ یکم جنوری 2021 سے …