ہفتہ , 6 مارچ 2021

پانچ روز بعد کان میں پھنسے مزدوروں کو ڈھونڈ لیا گیا

151230091630_china_mine_640x360_ap_nocredit

اطلاعات کے مطابق نو کان کن تاحال لاپتہ ہیں
پانچ روز قبل منہدم ہونے والی کان میں پھنسے مزدوروں میں سے آٹھ کان کنوں کو زندہ حالت میں ڈھونڈ لیا گیا ہے۔
امدادی کارکن ابھی انھیں کان کے ملبے سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں تاہم کان کنوں سے رابطہ ہوگیا ہے اور ان تک کھانے پینے کی اشیا پہنچا دی گئی ہیں۔
چین کے مشرقی صوبے شانڈونگ میں جپسم کی کان پر چٹان گرنے کا واقعہ اتنا زوردار تھا کہ اس کی تھرتھراہٹ چین کے زلزلہ پیما مرکز میں بھی ریکارڈ کی گئی تھی۔
نو کان کن تاحال لاپتہ ہیں۔ سات کان کنوں کو بچا لیا گیا ہے جبکہ ایک کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
امدادی کارکنوں تباہ ہونے والی کان کے اندر اندھیرے میں دیکھنے کے لیے انفراریڈ کیمرے استعمال کر رہے ہیں۔ بچ جانے والے ان افراد کو ہاتھ ہلاتے ہوئے کیمرے کی آنکھ سے ہی دیکھا گیا تھا۔
کان میں کام کرنے والے کارکن بھوک کے باعث نڈھال ہیں تاہم ان کی صحت ٹھیک ہے۔ کان کنوں نے امدادی کارکنوں کو بتایا ہے کہ وہ زیر زمین صحیح حالت میں بچ جانے والی سرنگوں میں تھے۔

151227091659_shandong_mine_accident_640x360_ap

چین کی کانوں کو دنیا کی خطرناک ترین کانیں سمجھا جاتا ہے
یورونگ کمپنی کے چیئرمین ما کونگبو نے اتوار کی صبح کان کے ایک کنویں میں چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی۔
ان کی خودکشی کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکی ہیں تاہم چینی حکام کی جانب سے اُن کاروباری مالکان کے لیے سخت سزائیں رکھی گئی ہیں جو غفلت کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔
چین میں صنعتی حادثات کی تاریخ خاصی طویل ہے۔ اس واقعے سے چند روز قبل ہی جنوبی چین کے علاقے میں تعمیراتی کام کے باعث مٹی کا تودہ گرنے کے واقعے میں اب بھی درجنوں افراد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں شبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔
چین کی کانوں کو دنیا کی خطرناک ترین سمجھا جاتا ہے تاہم حالیہ سالوں میں اٹھائے جانے والے حفاظتی اقدامات کے بعد ہلاکتوں میں کمی آئی ہے۔
گذشتہ سال چین کی کانوں میں ہونے والے حادثات میں نو سو 31 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ سنہ 2002 میں سات ہزار کے قریب کان کانوں کی ہلاکتیں دیکھنے میں آئی تھیں۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …