پیر , 1 مارچ 2021

ترکی کے اہم مذہبی رہنما کی اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل سے ملاقات

ترکی کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم الدیانۃ کے سربراہ ’’محمت گورمز‘‘ اور ان کے ہمراہ وفد نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل سے ملاقات اور گفتگو کی۔

ترکی کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم الدیانۃ کے سربراہ ’’محمت گورمز‘‘ اور ان کے ہمراہ وفد نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل سے ملاقات اور گفتگو کی۔
یہ ملاقات جو گزشتہ روز سرکار دوعالم حضرت محمد مصطفیٰ(ص) اور بانی شریعت حضرت امام جعفر صادق (ع) کے یوم ولادت پر تہران میں اسمبلی کی مرکزی دفتر میں انجام پائی اس میں دونوں شخصیتوں نے شیعہ سنی اتحاد پر زور دیا۔

ASD9

حجت الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے اس ملاقات کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے آپسی تعامل کے لیے غنیمت شمار کیا اور کہا: ہم ایران اور ترکی کے باہمی روابط کو بہت اہمیت دیتے ہیں ان دونوں ممالک کو آپس میں متحد ہونا چاہیے اور یہ اتحاد دن بدن گہرا اور وسیع تر ہونا چاہیے۔
انہوں نے ان تکفیری پروپیگنڈوں کی مذمت کی جو امت واحدہ میں اختلاف کا باعث بنے ہیں اور کہا: قرآن کریم کے حکم کے مطابق کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے کو اسلام سے خارج کرے مگر کیا ہم خدا کے وکیل ہیں کہ جو دوسروں کے ایمان یا عدم ایمان کو پرکھیں؟!

جناب اختری صاحب نے مزید کہا: افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض افراد اپنا نام مفتی رکھتے ہیں لیکن بے گناہ افراد کے قتل کا فتویٰ دیتے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ انقلاب اسلامی کی سب سے پہلی ندا اور امام خمینی(رہ) کی دعوت مسلمانوں میں اتحاد اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف قیام کی تھی کہا: ہمیں ہر اس چیز سے پرہیز کرنا چاہیے جو مسلمانوں کے درمیان فتنہ اور تفرقہ پیدا کرے۔
آقائے اختری نے مزید کہا: گزشتہ علما جیسے سید جمال الدین اسد آبادی اور شیخ محمد عبدہ نے بھی مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور اتفاق پیدا کرنے کی بہت کوششیں کیں اور آج کے دور میں انشاء اللہ آپ جیسی شخصایت اس مہم کو آگے بڑھائیں گی۔
بعد از آں ترکی کی الدیانہ تنظیم کے سربراہ محمت گورمز نے گفتگو کرتے ہوئے اپنے ایران کے سفر اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی میں حاضری کو خوشی کا موقع قرار دیا اور اس کے بعد عالم اسلام کے بحرانی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہماری فقہی کتابوں میں یہ مسئلہ پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی مسلمان نماز میں مصروف ہو اور ایک بچہ آگ کی طرف بڑھ رہا ہو تو نماز کو توڑ کر بچے کو بچانا واجب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچے کی نجات نماز سے واجب تر ہے آج امت مسلمہ کے فرزند آگ کی سمت بڑھ رہے ہیں ایسے میں امت کے بزرگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ تمام کاموں کو چھوڑ کر انہیں بچائیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اتحاد اور ہمدلی ہماری ضرورت ہے کہا: لیکن یہ ہمدلی اور اخوت صرف باتیں کرنے یا کانفرنسیں منعقد کرنے سے پیدا نہیں ہو گی بلکہ اس کے کچھ آداب ہیں کچھ اصول ہیں جن کی رعایت کرنا سب پر ضروری ہے ان آداب میں سے ایک اہم چیز’’ صداقت‘‘ ہے۔
انہوں نے ایران اور ترکی کے درمیان بھی باہمی روابط کی بہتری پر زور دیا اور کہا کہ اس کے مثبت آثار نہ صرف ان دو ملکوں بلکہ پوری امت مسلمہ پر اثرانداز ہوں گے۔

ASD10

قابل ذکر ہے کہ اس ملاقات میں، تہران میں ترکی کے سفیر ’’رضا ہاکان تکین‘‘، ترکی میں اہل بیت(ع) اسمبلی کے سربراہ ’’حسن قناعت لی‘‘، قونیہ کے مفتی اعظم ’’افندی علی اخلار‘‘، مفسر قرآن اور یونیورسٹی کے استاد ’’استاد انور‘‘ ترکی کے بزرگ فقیہ اور فقاہت کی اعلی کونسل کے سربراہ ’’ڈاکٹر امرم کلش‘‘، محمد گورمز کے ہمراہ وفد میں شامل تھے۔
واضح رہے کہ الدیانہ تنظیم ترکی میں سب سے بڑی مذہبی تنظیم ہے اور اس ملک میں انجام پانے والے تمام دینی امور، مساجد، دینی مدارس، حج، اوقاف، روئت ہلال وغیرہ اس کے زیر نگرانی انجام پاتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …