جمعہ , 18 اکتوبر 2019

شیعوں کی تباہی کے لئے MI-6 اور C.I.A کا منصوبہ بے نقاب

منصوبہ ”تفرقہ ڈالو اور مذہب [شیعہ] کو تباہ کرو“ نامی ایک کتاب امریکہ میں شائع ہوئی، جس میں سی آئی اے کے سابق نائب سربراہ «ڈاکٹر مائکل برانٹ» کا مفصل انٹرویو شائع ہوا ہے. مائکل برانٹ کو مالی اور انتظامی کرپشن کی بنا پر برطرف کیا گیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اس نے انتقام لینے کے لئے سی آئی اے کا یہ اہم راز فاش کرتے ہوئے اپنے انٹرویو میں جھنجوڑ دینے والے رازوں سے پردہ اٹھایا:

اس طویل انٹرویو کے چند نکات پیش خدمت ہیں:
… ایران کے اسلامی انقلاب نے 1979 میں ہماری پالیسیوں کو نقصان پہنچایا… اسلامی بیداری کی نشوونما کا ظہور لبنان، عراق، کویت، بحرین اور پاکستان میں ہوا تو C.I.A کے عہدیداروں کا ایک اجلاس ہوا جس میں برطانوی خفیہ سروس 6-MI کا نمائندہ بھی شریک تھا… اس اجلاس میں معلوم ہؤا کہ انقلاب کے اہم ترین اسباب مذہبی مرجع کی قیادت اور 1400 سال پہلے کربلا میں [امام] حسین [علیہ السلام] نواسہ محمد [صلی اللہ علیہ و آلہ] کی شہادت کی یاد میں شیعوں کی صدیوں سے جاری عزاداری، ہیں اور ان ہی اسباب کی بناء پر شیعہ دوسرے مسلمانوں سے زیادہ متحرک اور اکٹیو ہیں … ابتدائی تحقیقات اور منصوبہ سازی کے لئے چالیس ملین ڈالر کا بجٹ منظور ہؤا…

مراحل:
1: انفورمیشن اور اعداد و شمار فراہم کرنا:
2: قلیل المدت ہدف یا “Short Term Target” کے طور پر شیعوں کے خلاف پراپیگنڈا کرانا، شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دے کر فسادات کرانا شیعوں کو سنی اکثریت کے ساتھ لڑانا، اور ان کی توجہ امریکی پالیسیوں سے ہٹانا۔
3: طویل المدت ہدف (Long Term Target) کے طور پر تشیع کا خاتمہ کرنا۔
پہلے مرحلے میں کچھ افراد پاکستان بھیج دیئے گئے جنہوں نے اسی مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں اور کراچی کے ایک شیعہ نشین علاقے رضویہ سوسائٹی میں بعنوان (Paying Guests) مقیم رہے اور اسی طرح «نکومہ» نامی ایک جاپانی عورت نے کوئٹہ شہر کے شیعوں کے درمیان رہ کر ”شیعہ سٹڈیز“ کے موضوع پر اپنا ڈاکٹریٹ کا رسالہ مکمل کیا۔
ڈاکٹر مائکل برانٹ نے کہا ہے: شیعہ ممالک میں فیلڈ ورک ریسرچ اور حاصلہ انفارمیشن کے مطابق مندرجہ ذیل نتائج سامنے آئے ہیں:

مرجعیت:
مراجع تقلید، شیعہ مذہب کی اصلی طاقت ہیں جو ہر زمانے میں دین کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کے اصول پر انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہتے ہیں انہوں نے تشیع کے پوری تاریخ میں کبھی بھی غیر اسلامی حکمران کے ہاتھ بیعت نہیں کی۔ گذشتہ صدی کے ایک مرجع (آیۃ اللہ میرزا شیرازی) کے فتوے کی وجہ سے انگریز، ایران میں قدم نہ جما پائے۔
دوسری علمی مراکز میں ایسا نہیں رہا اور ان مراکز نے اکثر حکمرانوں کا ساتھ دیا ہے، جبکہ قم جیسے مراکز سے شاہانہ نظام کا خاتمہ شروع ہوگیا جہاں اب بھی امریکہ جیسی سپر پاور پیر جمانے کے لئے ناکام کوشش کر رہا ہے۔
شیعوں کا عظیم ترین علمی مرکز عراق میں تھا جسے صدام اپنی تمام کوششوں کے باوجود نہ خرید سکا بلکہ اسے بند کرنے پر مجبور ہوا۔
امام موسی صدر کی تحریک نے برطانوی، فرانسیسی اور اسرائیلی افواج کو لبنان سے مار بھگایا اور اسرائیل کو پہلی مرتبہ حزب اللہ کی شکل میں بہت بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ۔
ڈاکٹر برانٹ مزید کہتے ہیں: سب سے زیادہ اہم نتیجہ اور فیصلہ جو ہمیں ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ شیعوں کو براہ راست نقصان پہنچانا اور انہیں اپنا فرمانبردار بنانا مشکل ہے؛ لہذا یہ فیصلہ ہوا کہ پس پردہ رہ کر کام کیا جائے۔ ہم نے برطانیہ کے پرانے فارمولے «تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو» کو ایک اور فارمولے «تقسیم کرو اور ختم کرو» میں بدل کر اس پر عملدرآمد شروع کردیا۔ ہمیں چاہیے کہ اس پروپیگنڈے کو جگہ جگہ پھیلادیں کہ ”شیعہ کافر ہیں“۔ کم پڑھے لکھے اور ان پڑھ افراد کا ایک گروہ بنایا جائے یہاں تک کہ ان کی (جو ہمارا پانچواں اہم رکن ہیں) تعداد اتنی ہوجائے کہ شیعوں کے خلاف مسلح جہاد کر سکے۔ ہمیں چاہئے کہ شیعہ کا چہرہ اس حد تک مسخ کردیں کہ عام لوگوں میں شیعہ نفرت انگیز بن جائیں۔
شیعہ مراجع کے خلاف ہوشیاری کے ساتھ محاذ کھولنا، شیعوں کے درمیان مذہب کا لبادہ اوڑھنے والے پیسہ پرست اور شہرت طلب نوحہ خواں اور ذاکرین کا «ففتھ کالم» بنانا اور اس طرح شیعیت کا چہرہ مسخ کرانا تا کہ نوبت یہاں تک پہنچے کہ تشیع ہر خاص و عام میں غیر مقبول ہو کر رہ جائے اور لوگ خود مرجعیت کا خاتمہ کردیں۔

عزاداری:
شیعہ، واقعہ کربلا کی یاد میں مجالس برپا کرتے ہیں، ایک آدمی تقریر کرتاہے اور سامعین سنتے ہیں اور جوان اس کے بعد سینہ زنی کرتے ہیں ۔ یہ مقرّرین اور سامعین ہمارے لئے بہت اہم ہیں؛ کیوں کہ ان ہی مجالس کی بدولت شیعوں میں جوش وخروش، جذبہ آزادی کے ساتھ ساتھ باطل کے خلاف جنگ کا جذبہ پيدا ہوتا ہے؛ لہذا ہم نے دسیوں ملین ڈالرز کے فنڈز ان سامعین اور مقررین کو خريدنے کےلئے مختص کئے اور یہ کام اس طريقے سے انجام دے رہے ہيں:

باریک لیکن تباہ کُن منصوبہ:
پہلے مرحلے میں ایسے افراد تلاش کرنا جو دنيا پرست با اثر اور شہرت طلب ہوں اور ایمانی لحاظ سے کمزور ہوں۔ ہم ان کے ذریعے سے عزاداری میں اثر و رسوخ پیدا کریں گے ان افراد سے مطالبہ کریں گے کہ وہ :
1۔ ایسے مرثیہ خواں پیدا کریں جو شیعہ عقائد سے ناواقف ہوں اور ان کی سرپرستی کریں۔
2۔ ایسے افراد کو سامنے لائیں جو تالیف و تصنیف کے ذریعے شیعوں کے مراکز اور عقائد کو نشانہ بنائیں اور تشیع کی بنیادیں نابود کردیں۔ یہ اہل قلم اپنی بات کو شیعہ مراجع کا کلام ظاہر کرکے پیش کریں گے۔
3۔ عزاداری میں ایسی رسومات کا اضافہ کرنا یا انکی حفاظت کرنا جو شیعہ عقائدکے منافی ہوں۔ شیعہ مذہب میں عجیب و غریب رسومات کا اضافہ ہو تا کہ ظاہر ہوجائے کہ تشیع ايک جاہل اور وہم پرست مذہب ہے. یہ لوگ محرم میں عام انسانوں (دوسرے مذاہب والوں) کےلئے بہت ساری مشکلات کھڑی کرديتے ہیں ہمیں چاہئے کہ ان پروگراموں کی تشہير کےلئے بہت بڑی رقوم خرچ کریں اور مرثیہ خوانوں کو اچھی خاصی سرپرستی کریں۔
اور یوں شیعہ جو لاجیکل قوت و طاقت کا مالک مذہب ہے، محض ایک ملنگی مذہب میں تبدیل ہوکر اندر سے کھوکھلا ہوجائے گا۔
4- عام لوگوں کےدرمیان شیعوں کی نفرت اور خود شیعوں میں فرقہ بندی پھيلا دیں یہاں تک کہ بالآخر جہادیوں کے ہاتھوں انہیں نیست ونابود کردیا جائے۔
5۔ مرجعیت کے خلاف مواد اکٹھا کرکے دولت پرست اور غیرمعروف مؤلفین کے سپرد کیا جائے گا اور اس کی نشر و اشاعت کےلئے اچھی خاصی رقوم خرچ کی جائیں گی۔ یہ مواد مرثیہ خواں اور جاہل ماتمی گروہوں کے ہاتھوں شیعہ عوام میں پھیلادیا جائے گا۔
آخری مرحلے میں شیعہ خود شیعوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور 2010 تک مرجعیت یا دوسرے الفاظ میں تشیع کی مرکزیت ختم ہوکر رہ جائے گی اور باقی شیعہ منتشر ہوجائیں گے اور مرجعیت جو آج تک ہماری حکومتوں کے سامنے تشیع کے دفاع کا ایک مستحکم قلعہ سمجھی جاتی تھی خود شیعوں کے ہاتھوں ہی تباہ ہو جائے گی۔بشکریہ شفقنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

آنکھیں کھلی رکھیں، شام میں اتحادی بدل رہے ہیں

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس صرف دو ہفتے پہلے اگر کوئی یہ کہتا کہ شام کی …