جمعرات , 29 جون 2017

ایسی بے غیرتی کی سزا موت نہیں تو اور کیا ہے؟

(تحریر: عدنان خان کاکڑ )
اطلاعات ملی ہیں کہ ادھر کوہاٹ کے نواح میں کوئی استرزئی نامی گاؤں ہے جس کے غیرت مند مردوں کی شہرت اب چہار دانگ عالم میں پھیلی ہے۔ خبروں کے مطابق، وہاں حنا شاہنواز نامی ایک لڑکی نے رواج اور روایات سے متواتر بغاوت کی اور اپنی برادری کی ناموس کو مسلسل تباہ کرتی رہی۔ پہلے تو اس نے تعلیم حاصل کی۔ اور تعلیم بھی ایسی نہیں کہ بس محلے کی مسجد سے سپارہ پڑھ لیتی بلکہ اس نے سیکولر تعلیم حاصل کی جو کہ اس کی گمراہی اور بے غیرتی کا سبب بنی جس سے اس کے چچا کا گھر تباہ ہو گیا۔ خبروں کے مطابق اس نے نہ صرف پرائمری بلکہ مڈل، میٹرک، ایف اے، بی اے اور ایم اے کیا، بلکہ ایم فل ہی کر ڈالا۔ بلکہ ایک اخبار تو بتا رہا ہے کہ اس نے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی سند پائی تھی۔

ظاہر ہے کہ تعلیم کے نام پر ایسی بے غیرتی اس خاتون نے ایسے اداروں میں ہی کی ہو گی جہاں مخلوط تعلیم دی جاتی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس کا ایک بھائی موجود تھا جس نے اسے اس بے غیرتی سے نہیں روکا۔ اس کا ایک باپ بھی حیات تھا جس نے الٹا اس کی حوصلہ افزائی کی کہ پڑھتی رہو۔ حالانکہ سب غیرت مند افراد جانتے ہیں کہ تعلیم گمراہی کی طرف لے جاتی ہے اور تعلیم پا کر عورتیں ہانڈی چولہا کرنے کی بجائے مردوں کے معاملات میں دخل دینے لگتی ہیں۔ بعض تو گھروں میں ٹکنے سے انکار کر دیتی ہیں اور ملازمت ہی شروع کر دیتی ہیں اور وہ ڈاکٹر تک بن جاتی ہیں جن سے غیرت مند افراد اپنی بیبیوں کا علاج کروانے پر زور دیتے ہیں۔

ایسا ہی حنا کے ساتھ بھی ہوا۔ پہلے تو اس پر کچھ روک تھی مگر جب اس کا بھائی محلے کے کسی معمولی جھگڑے میں قتل ہو گیا اور باپ کو کینسر جیسا موذی مرض چاٹ گیا تو اسی سیکولر تعلیم کی وجہ سے دماغ میں رچ بس جانے والی بےغیرتی کی وجہ سے حنا نے بہانہ بنایا کہ گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہے، باپ کی بیماری کی وجہ سے بے شمار قرضہ چڑھ چکا ہے، بھائی کی بیوہ اور اس کے دو یتیم بچوں کی کفالت کرنی ہے، ایک چھوٹی بہن بھی بیوہ ہو چکی ہے اور اس کے یتیم بچے کو دادا نے چھین لیا ہے، اس کو بھی گھر بٹھا کر کھلانا ہے، تو ملازمت کر لیتی ہوں۔

ان تعلیم یافتہ عورتوں کو تو گھر سے باہر نکلنے کا بہانہ چاہیے ورنہ جس کا جتنا نصیب ہو اتنا رزق تو اسے ملتا ہی ہے، تو اس کے لئے کوشش کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہوتی ہے۔ وہ آرام سے گھر بیٹھتی اور نصیب میں ہوتا تو ان سب کے حصے کا رزق خود بخود اس کے گھر پہنچ جاتا۔ پھر مزید ظلم یہ ہوا کہ اس نے عدالت کچہری کے چکر بھی لگانے شروع کر دیے کہ بھائی اور باپ کے مرنے پر رشتہ داروں نے جائیداد پر جو قبضہ کیا ہے، اسے واپس حاصل کرے۔ دوسری طرف بیوہ بہن کے یتیم بچے کا مقدمہ لڑ کر اسے بھی دادا سے واپس لیا۔ بہن کے سسر نے ہائی کورٹ میں اپنا پوتا واپس لینے کے لئے کیس کر دیا تو اس جگہ بھی مقدمے بازی کرنے لگی۔

اس بے غیرت کے چچا نے اسے سمجھایا کہ ملازمت چھوڑو، اپنی ساری زمین جائیداد میرے حوالے کرو، اور میرے نیم خواندہ اور بے روزگار بیٹے سے شادی کر کے سارے معاملات اس کے حوالے کر
دو۔ ورنہ رواج کے مطابق اس جاہل سے شادی نہیں کرتیں اور تمہارا دماغ تمہاری تعلیم نے اتنا ہی خراب کر دیا ہے، تو پھر تمام عمر کنواری رہو اور اپنے گھر بیٹھو کہ تمہاری طبعی یا غیر طبعی موت کے بعد جائیداد ہمیں ہی ملے۔ مگر تریا ہٹ تو مشہور ہے اور سونے پر سہاگہ اس کی تعلیم تھی۔ اس لڑکی نے انکار کر دیا اور کہنے لگی کہ تعلیم تو ہوتی ہی اس لئے ہے کہ کوئی مشکل پڑے تو لڑکیاں بھی عزت سے کچھ کھا کما سکیں اور پیٹ کا ایندھن بھرنے کو انہیں کسی بے غیرتی والے کام پر نہ اترنا پڑے۔ اندازہ کیجیے کہ یہ تعلیم کیسے بہکا دیتی ہے۔ حنا شاہنواز کو ملازمت میں بے غیرتی تک دکھائی نہیں دے رہی تھی ورنہ غیرت والیاں تو بھوکی مر جاتی ہیں مگر ہاتھ ہلا کر کام نہیں کرتی ہیں۔ اگر تعلیم ایسی ہی ضروری ہوتی تو حنا کے مشفق اور دانش مند چچا اپنے بیٹے محبوب عالم خان کو تعلیم نہ دلوا دیتے یا خود کچھ نہ پڑھ لیتے؟

بہرحال خاندان کا جرگہ بیٹھا اور کہنے لگا کہ دیکھو حنا، تمہارا بھائی مرا، ہم بیچ میں نہیں پڑے، تمہارا باپ بیمار ہوا اور حالت یہ ہوئی کہ مانگ تانگ کر تمہیں اس کے علاج اور اپنے کھانے کا بندوبست کرنا پڑا لیکن ہم نے کہا کہ یہ معاملات تم خود ہی سنبھال لو تو اچھا ہے کہ ہمارے کچھ مدد کرنے پر تمہاری عزت نفس مجروح نہ ہو، باپ کے مرنے کے بعد سب گھر والوں کو کھانے کے لالے پڑے تو ہم نے تمہیں نہیں پوچھا کہ تمہارے گھر کچھ پکا ہے یا نہیں کہ کسی کے گھر کے اندرونی معاملات میں ہم دخل نہیں دیتے۔ لیکن یہ جو تم ملازمت کرنے پر تلی ہوئی ہو تو اس سے ہماری غیرت اور عزت پر حرف آتا ہے اور تمہاری یہ بے غیرتی ہماری برداشت سے باہر ہے۔ بہتر تو یہ ہے کہ تم اپنے محبوب عالم خان نامی چچا زاد سے شادی کر لو۔ آگے اس کی مرضی کہ تمہیں اور تمہاری بیوہ بہن اور بیوہ بھابھی اور اس کے یتیم بچوں کو کیسے رکھے یا گھر سے ہی نکال دے کہ رواج یہی کہتا ہے۔

مگر تعلیم نے تو اس لڑکی کا دماغ خراب کر رکھا تھا۔ وہ تو بے غیرتی پر تلی ہوئی تھی۔ آپ حنا شاہنواز کی تصویر سے ہی بے غیرتی کی انتہا دیکھ سکتے ہیں کہ یہ قبائلی لڑکی شٹل کاک برقعہ پہننے کی بجائے شہری خواتین جیسے کپڑے پہنتی تھی اور سر پر دوپٹہ بھی کبھی اوڑھتی تھی اور کبھی نہیں۔ اس بے غیرت نے جرگے کی بات ماننے سے ہی اس نے انکار کر دیا۔ لاش کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہلکے پھلکے تشدد سے بھی وہ قائل نہیں ہوئی تو پھر اس کے حساس چچا زاد بھائی کو غیرت کی انتہا پر جانا پڑا اور اب وہ مفرور ہے۔ ہاں اس کا باپ اور حنا کا غیرت مند چچا پولیس نے گرفتار کیا ہوا ہے کہ شاید محبوب عالم اپنے باپ کی خاطر پولیس کو گرفتاری دے دے مگر پولیس کو سوچنا چاہیے کہ جیسے غیرت کے نام پر کسی دوسرے کو مار دینا فرض ہے، ویسے ہی اپنی جان بچانا بھی فرض ہے خواہ اس کی خاطر سگے باپ کے ساتھ کچھ بھی ہو جائے۔

غیرت تو مار ڈالنے کا نام ہے، بچا لینے کا نہیں۔

اب تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی صوبائی حکومت کی پولیس نے ایک غیرت مند گھرانے کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے تو امید ہے کہ ہمارے پریس کی غیرت مند ترین آوازیں یعنی حضرت اوریا مقبول جان صاحب اور جناب انصار عباسی اس مظلوم اور غیرت مند شخص
یعنی محبوب عالم خان کے حق میں آواز بلند کریں گے جس نے معاشرے کو بے غیرتی سے پاک اور روایات کا پابند رکھنے کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈال دی ہے۔ ہماری قوم کو ایسے ہی غیرت مند اور جاہل نوجوانوں کی ضرورت ہے، ان استادوں کی نہیں جو لڑکیوں کو کالجوں یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہیں اور بے غیرتی والی تعلیم دیتے ہیں جسے پا کر وہ نام نہاد مشکل وقت میں اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کو ملازمت جیسی قبیح ترین حرکت ہی کر ڈالتی ہیں۔ اندازہ کریں۔ یہ بے غیرت روٹی مانگتی ہیں۔ انصاف مانگتی ہیں۔ ایسی بے غیرتی کی سزا موت نہیں تو اور کیا ہے؟
بشکریہ: ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

لاشوں کی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ

عثمان غازی پاراچنار میں تین لاکھ روپے فی لاش قیمت لگائی گئی مگر بہاول پور ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے