جمعرات , 25 فروری 2021

مولانا عبدالعزیز اگر اشتہاری ہیں تو پولیس گرفتار کیوں نہیں کرتی؟

تحریر: طاہر یاسین
یہ سوال اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ ریاست کی رٹ کو ہر آن چیلنج کرنے والے مولوی کے اوپر سے سارے مقدمات یک بیک ختم کیسے ہوگئے؟ کیا مولوی عبدالعزیز طالبان کا نمائندہ نہیں؟ کیا اس کی لڑکیوں کے مدرسے کی طالبات نے ویڈیو پیغام میں داعش کو پاکستان پر حملہ آور ہونے کی دعوت نہیں دی تھی؟ کچھ بھی ہو جائے ریاستی اداروں کو مولوی عبدالعزیز اور اس جیسے طالبان و داعش کے حمایت کاروں پر ہاتھ ڈالنا ہی پڑے گا۔ مولانا اپنی سرشت میں ایک شرارتی انسان ہیں، وہ اپنے فہم ِ اسلام کو ہی عین اسلام سمجھتے ہیں اور ریاست پر اپنی حکمرانی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ اسلام آباد پھر سے مذہبی جنونیوں کی درندگی کا اکھاڑہ بنے، لال مسجد والے مولوی کو نہ صرف گرفتار کر لیا جائے بلکہ سی ڈی اے اس زمین کو بھی واگزار کرائے، جس پر مسجد و مدرسہ والوں نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔

 ریاستیں جب اپنی رٹ قائم کرنے پر آتی ہیں تو ان کے سامنے بڑے بڑے دہشت گرد گروہوں اور تنظیموں کی ایک نہیں چلتی۔ جدید تاریخ اس امر کی شاہد ہے، معلوم تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ ریاست کے باغی بالآخر رسوا و پسپا ہی ہوئے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر خبریں دیکھ رہا تھا کہ ایک خبر نے میری توجہ کھینچ لی۔ خبر کیا تھی؟ پہلے اسے دیکھ لیا جائے تو بہتر رہے گا۔ ’’اسلام آباد میں قائم لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کو ایک مقدمہ میں عدالت نے اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ یہ بات بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر ظاہر کی ہے۔ اسلام آباد پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا عبدالعزیز کو ایف آئی آر نمبر F569/14 کے تحت 506 ضمن 2 کے جرم میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ مولانا عبدالعزیز پر جان سے مار دینے کی دھمکی دینے کا الزام ہے، تاہم ان کی گرفتار سے متعلق کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ دوسری طرف چند دن پہلے ہی پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پارلیمان میں ایک بیان میں کہا تھا کہ مولانا عبدالعزیز نے جو ماضی میں کیا، اس پر سپریم کورٹ نوٹس لے چکی ہے اور اب بھی اگر پولیس انھیں گرفتار کر بھی لے تو وہ کتنی دیر عدالتوں کے پاس رہیں گے؟ ان پر تو کوئی مقدمہ نہیں ہے۔‘‘ تاہم اسلام آباد پولیس کے مطابق اس مقدمہ میں انھیں اشتہاری قرار دیا گیا ہے اور اس مقدمے کے مدعی سماجی کارکن سید نعیم اختر بخاری ہیں۔ باوثوق پولیس ذرائع کے مطابق علاقہ آبپارہ کے سول جج نے گذشتہ مہینے مولانا عبدالعزیز کو اشتہاری قرار دیا ہے۔

یہ بات بڑی اہم ہے کہ مولانا عبدالعزیز نے گذشتہ برس پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے میں 144 سے زیادہ بچوں کے قتل عام کو جائز قرار دیا تھا، جس کے بعد پاکستانی قوم میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔، جس پر مولانا نے معافی مانگی تو حکومت نے معاملہ رفع دفع کر دیا۔ کیا حکومت کو ایسا ہی کرنا چاہیئے تھا؟؟ اپنی جگہ یہ بھی بڑا اہم سوال ہے، تاہم اسی سلسلے میں لال مسجد کے باہر ہونے والے مظاہرے کے دوران سماجی کارکنان کو لال مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے ایک پریس ریلیز کے ذریعے دھمکایا گیا تھا۔ چند مہینے پہلے پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے وزرات داخلہ کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ لال مسجد مافیا کے انتہا پسندوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ مسجد اور اس کی تعلیمات کے اثرات جڑواں شہروں کی سکیورٹی کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس کے باوجود حکومت اس مسئلے میں ابہام کا شکار کیوں ہے؟ اس سلسلے میں سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر کہتے ہیں: مولانا عبدالعزیز کئی بار حکومت کی رٹ چیلنج کرچکے ہیں، انھیں طالبان اپنی مذاکراتی کمیٹی کا رکن نامزد کر چکے ہیں، اس کے بعد بھی چوہدری نثار اگر یہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ گچھ یا ان کے خلاف تحقیقات یا کسی قسم کے ایکشن کی ضرورت نہیں تو یہ غیر ذمہ دارنہ رویہ ہے۔

انہوں نے کہا مولانا عبدالعزیز کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے ریاستی عناصر نے ان سارے لوگوں کے ہاتھ مضبوط کر دیئے ہیں، جن کا ذہن مولانا عبدالعزیز اور ان کے چاہنے والے یہ کہہ کر برین واش کرتے ہیں کہ مولانا حق بات کرتے ہیں، جبکہ وہ پاکستانی جو انتہا پسند سوچ کا جڑ سے خاتمہ چاہتے ہیں انہیں کمزور کر دیا گیا ہے۔ 2007ء میں ہونے والے لال مسجد کے آپریشن سے متعلق تمام مقدمات میں عدالتیں پہلے ہی مولانا عبدالعزیز کو بری کرچکی ہیں۔ تاہم ایک لمبی خاموشی کے بعد مولانا عبدالعزیز شریعت کے نفاذ کے لئے ایک بار پھر سرگرم ہیں۔ حال ہی میں ان کے مدارس کی بعض طالبات نے عالمی دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی تھی۔ مولانا عبدالعزیز نے اس پیغام سے لاتعلقی تو ظاہر کی مگر مذمت یا تردید نہیں کی۔ بعض ماہرین کے خیال میں لال مسجد کے خلاف کارروائی کے معاملے سے حکومت نہ صرف بے بس نظر آتی ہے بلکہ اس مسئلے سے نظریں بھی چراتی ہے۔ مگر تا بہ کے؟

ایک لمبی خاموشی کے بعد جبکہ پاک فوج آپریشن ضربِ عضب سمیت دیگر داخلی و خارجی محاذوں پر انتہائی مصروف ہے اور ملک میں داعش کے ’’سلیپرز سیلز‘‘ بھی داعش کی آمد کے لئے ماحول سازگار بنانے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں، ایسے میں ایک ایسا مولوی جسے طالبان ریاست پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے اپنا نمائندہ منتخب کرچکے ہوں اور جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ظالمانہ کارروائیوں کا جائز سمجھتا ہو، وہ اگر اچانک نفاذِ شریعت ریلی کے انعقاد کی بات کرے تو اس کے عزائم ڈھکے چھپے نہیں۔ بے شک جب 2007ء میں جامعہ حفضہ کی طالبات نے مولانا عبدالعزیز اور ان کے بھائی غازی عبدالرشید کے ایما پر اسلام آباد میں اپنی من پسند:: شریعت کے نفاذ کے لئے ڈنڈے اٹھا لئے تھے تو ان کا جو علاج سابق جنرل نے کیا تھا، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، مگر ہم سمجھتے ہیں کہ سابق جنرل صاحب نے بھی آدھا علاج کیا۔ 2007ء کے ان ایام کے اخبارات اس امر کے شاہد ہیں کہ لال مسجد والوں نے کہا تھا کہ ہم پورے پاکستان کو بغداد بنا دیں گے۔ بغداد اس لئے کہ ان دنوں بغداد خودکش حملوں کا گڑھ تھا۔ کیا ان لوگوں نے پورے پاکستان میں خودکش حملہ آوروں کے لئے سہولت کاروں کا کردار ادا نہیں کیا؟ بے شک کیا۔

گذشتہ جمعہ کو نمازِ جمعہ کے وقت کوئی دو گھنٹوں کے لئے اسلام آباد میں میں موبائل سروس بند رہی، کیوں؟ مبادا کہ مولوی عبدالعزیز کوئی ٹیلی فونک خطاب ہی نہ کر دے۔ آخری تجزیے میں ریاست لال مسجد کے، پھر سے سرگرم ہونے والے مولوی عبدالعزیز کو لگام ڈالے۔ سادہ بات یہی ہے کہ مولوی عبدالعزیز اگر اشتہاری ہے تو پولیس اسے گرفتار کیوں نہیں کرتی؟ یہ سوال اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ ریاست کی رٹ کو ہر آن چیلنج کرنے والے مولوی کے اوپر سے سارے مقدمات یک بیک ختم کیسے ہوگئے؟ کیا مولوی عبدالعزیز طالبان کا نمائندہ نہیں؟ کیا اس کی لڑکیوں کے مدرسے کی طالبات نے ویڈیو پیغام میں داعش کو پاکستان پر حملہ آور ہونے کی دعوت نہیں دی تھی؟ کچھ بھی ہو جائے ریاستی اداروں کو مولوی عبدالعزیز اور اس جیسے طالبان و داعش کے حمایت کاروں پر ہاتھ ڈالنا ہی پڑے گا۔ مولانا اپنی سرشت میں ایک شرارتی انسان ہیں، وہ اپنے فہم ِ اسلام کو ہی عین اسلام سمجھتے ہیں اور ریاست پر اپنی حکمرانی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ اسلام آباد پھر سے مذہبی جنونیوں کی درندگی کا اکھاڑہ بنے، لال مسجد والے مولوی کو نہ صرف گرفتار کر لیا جائے بلکہ سی ڈی اے اس زمین کو بھی واگزار کرائے، جس پر مسجد و مدرسہ والوں نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

یہودیوں سے وفاداری کے ثمرات ! شدید خسارے کا پھندا بن سلمان کے گلے میں

سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہونے کے باوجود …