اتوار , 7 مارچ 2021

داعش نے لاہور میں پنجے گاڑنا شروع کر دیئے، 3 خواتین بچوں سمیت داعش میں شامل

حکومتی دعوؤں کے باوجود داعش کی لاہور میں موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ لاہور میں داعش کیلئے خواتین کو قائل کر کے شام بھیجا جا رہا ہے اور اب تک متعدد خواتین بچوں سمیت داعش میں شامل ہونے کیلئے شام جا چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی خواتین اور بچے شام میں داعش سے تربیت بھی لے رہے ہیں۔ پولیس نے 3 خاندانوں کے شام جانے پر ایف آئی آر درج کر لی۔ جوہر ٹاون سے خالد حبیب چیمہ کے مطابق اس کی اہلیہ بشریٰ چیمہ عرف حلیمہ آپا، جو جوہر ٹاؤن میں اقصیٰ مدرسہ میں بچیوں کو دینی تعلیم دیتی تھیں وہ اپنی ساتھی فرخانہ حامد اور ارشاد بی بی کے ہمراہ اکثر دیگر شہروں میں بھی درس دینے کیلئے جایا کرتی تھیں وہ داعش میں شامل ہو چکی ہے۔

حلیمہ آپا اپنے تین بیٹوں عبداللہ چیمہ، عیسیٰ چیمہ، محمد چیمہ اور بیٹی عائشہ چیمہ کے ساتھ گھر سے خاوند کو یہ بتا کر نکلی کے وہ اوکاڑہ میں درس دینے کیلئے جا رہی ہے، جس کے بعد اس کا اپنے خاوند خالد چیمہ سے کوئی رابطہ نہ ہوا۔ خالد چیمہ نے اپنی بیوی کے لاپتہ ہونے کے بعد ٹاؤن شپ تھانے میں اغوا کا مقدمہ درج کروا دیا۔ اس واقعہ کے تین دن بعد ایک اور کہانی منظر عام پر آئی جس میں ہنجروال کی رہائشی ایک ستر سالہ خاتون نے مقدمہ درج کروایا کہ اس کی پوتی کو وحدت کالونی کی رہائشی فرخانہ حامد نے اغوا کر لیا ہے۔ اس کہانی نے نیا موڑ تب لیا جبکہ وحدت کالونی میں عمران خان نامی شخص نے یہ ایف آئی آردرج کروا دی کہ اس کی بہن فرخانہ اپنے پانچ بچوں کے ہمراہ گھر سے لاپتہ ہو چکی ہے، جس کا مقدمہ تھانہ وحدت کالونی میں درج کر لیا گیا۔

پولیس افسران کیس کو عام اغوا کا مقدمہ درج کر کے تفتیش کر رہے تھے کہ اس دوران پتہ چلا کہ اغوا ہونیوالے تینوں خاندان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ تینوں خاندانوں میں بشریٰ چیمہ عرف حلیمہ آپا اپنے تین بیٹوں عبداللہ چیمہ، عیسیٰ چیمہ، محمد چیمہ اور بیٹی عائشہ کو ساتھ لے کر شام پہنچ چکی ہیں۔ اُس کیساتھ ہنجروال کی چودہ سالہ حفصہ، وحدت کالونی کی فرخانہ حامد، اس کے تین بیٹے عبداللہ، محمد، ربیع، بیٹیاں زینت اور عائشہ بھی ان کے ساتھ ہیں۔ دوسری جانب ہنجروال سے جانے والی چودہ سالہ حفصہ کی پھوپھی ارشاد بی بی، جو پہلے ہی اپنے دو بیٹوں عثمان نذیر اور بلال نذیر کے ساتھ داعش میں شمولیت اور تربیت کیلئے جا چکے ہیں۔ داعش میں شمولیت کیلئے جانے والے تینوں خاندان دینی تعلیم پر عبور رکھتے ہیں اور شہر میں مدارس اور دیگر مقامات پر لوگوں کو دینی تعلیم دے رہے تھے۔

چونکا دینے والے انکشافات کے بعد حساس اداروں اور پولیس میں تھرتھلی مچ گئی۔ جس کے بعد اس نیٹ ورک کو توڑنے کیلئے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ داعش کیلئے جانیوالی تمام خواتین کے ساتھ بچوں کی عمریں دس سے بیس سال کے درمیان ہیں جبکہ تینوں خواتین کا تعلق بھی ساہیوال سے ہے۔ امریکہ میں ماری جانے والی تاشفین ملک بھی جنوبی پنجاب کے ایک مدرسے سے تعلیم حاصل کر چکی ہے اور اسی مماثلت سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان خواتین کا تعلیمی ریکارڈ بھی حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اب تک صرف تین خاندانوں کی ایف آئی آر ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایسے متعدد خاندان شام جا چکے ہیں جن کے بارے میں کسی مقام پر رپورٹ نہیں کیا گیا اور صرف انہیں خاندانوں کے لواحقین نے رپورٹ درج کروائی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں داعش کے وجود کے پیچھے بھی امریکہ ہے , علامہ محمد امین شہیدی

گڑھ مہاراجہ: ابلاغ نیوز کی رپورٹ کے مطابق اُمتِ واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ محمد …