جمعہ , 26 فروری 2021

داعش کو امریکا اور یورپ امداد فراہم کرتے ہیں، حافظ حسین احمد

جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کی آج کل انوکھی پالیسی چل رہی ہے، اس کا ایک نمونہ یہ ہے کہ ہند کو گلے لگا رہے ہیں، جبکہ سندھ گلے پڑ رہا ہے، میاں صاحب کو ایک بار پھر دسمبر میں پنگا لینے کا موڈ لگ رہا ہے، لگتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، اس سے پہلے نواز شریف اور مشرف تھے، واجپائی کے لاہور یاترہ سے تنازعہ شروع ہوا تھا، اور آج پھر مشرف تو نہیں ہے دو شریف نظر آتے ہیں، واجپائی کی یاترہ کے وقت بھی سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر نہیں تھی، آج یوں لگتا ہے کہ قیادت ایک پیج تو الگ بات ایک گراﺅنڈ میں بھی نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر کیا، اس موقع پر نومنتخب صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اے ایچ خانزادہ سمیت دیگر عہدیداران کو مبارکباد دی، اس موقع پر جے یو آئی سندھ کے نائب صدر قاری محمد عثمان اور دیگر بھی موجود تھے۔ بعد ازاں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے کہا کہ مودی نواز شریف ملاقات اتفاقیہ نہیں طے شدہ تھی، نواز شریف نے یوفا میں سرگوشی کرتے ہوئے مودی کو اپنے پریوار میں شادی کی دعوت دی تھی، جو کہ انہوں نے قبول کی، جنرل راحیل شریف نے دوسرے دن کابل کا چکر لگا کر اس یاترہ کو کاﺅنٹر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے فیصلے دبئی میں ہو رہے ہیں، اور کراچی کے فیصلے لندن میں ہو رہے ہیں، صوبائی حکمران خود اب صوبائی خود مختاری کا احترام نہیں کر رہے، بلکہ صوبائی خود مختاری کے گلے پر چھری پھیر رہے ہیں۔ رہنما جے یو آئی نے کہا کہ جے یو آئی نے مسلم لیگ (ن) سے پارلیمانی تعاون کیا ہے، پالیسی کے مطابق اتحاد نہیں ہوا، جے یو آئی نے 21 ویں ترمیم اور نیشنل ایکشن پلان پر اپنا ووٹ نہیں دیا تھا۔

حافظ حسین احمد نے کہا کہ امریکہ افغانستان کی چوہدراہٹ ہندوستان کے حوالے کرنا چاہتا ہے، جبکہ اس کا استحقاق صرف پاکستان کو حاصل ہے، پہلے ہندوستان کے ساتھ واحد تنازعہ کشمیر تھا، لیکن اب افغانستان بھی اس تنازعہ میں شامل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا، نیٹو اور ان کے اتحادیوں کی افغانستان میں حکمت عملی ناکام ہوگئی ہے، اس لئے انہوں نے مشرق وسطیٰ کا رخ کیا ہے۔ رہنما جے یو آئی کا کہنا تھا کہ مودی کا لاہور یاترہ کابل سے واپسی پر طے شد اور ہندوستان کی پالیسی حصہ ہے، جبکہ پاکستان کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے، خارجہ پالیسی سرتاج عزیز اور طارق فاطمی دو بیساکھیوں کے سہارے چل رہی ہے، جو کب سے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 34 اسلامی ممالک کے اتحاد کا اعلان پہلے ہوا، اور طریقہ کار اب طے ہو رہا ہے، جبکہ سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ ان کو کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلا کر خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی جائے، اور موجودہ حالات کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی کو قومی مفادات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں حافظ حسین احمد نے کہا کہ داعش کو امریکا اور یورپ امداد فراہم کرتے ہیں، انہوں نے ہی داعش پیدا کی اور اب وہی ان کو مار رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں داعش کے وجود کے پیچھے بھی امریکہ ہے , علامہ محمد امین شہیدی

گڑھ مہاراجہ: ابلاغ نیوز کی رپورٹ کے مطابق اُمتِ واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ محمد …