جمعرات , 29 جون 2017

ایران میں دھماکے کیوں نہیں ہوتے؟ سعودی وزیر خارجہ

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی اعلی قومی سیکورٹی کونسل کے سکریٹری نے عراق میں سعودی عرب کے وزير خارجہ سے ملاقات سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔ ایران کی اعلیٰ قومی سیکورٹی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی نے تہران میں سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق نمائش کے دورہ کے موقع پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے اس سوال کے جواب میں کہ کیا آپ نے بغداد میں سعودی عرب کے وزير خارجہ عادل الجبیر سے ملاقات کی تھی؟ کہا کہ میں اس خبر کی تردید کرتا ہوں۔

انہوں نے سعودی عرب کے وزير خارجہ عادل الجبیر کے اس دعوے پر کہ ایران میں دہشت گردانہ حملے کیوں نہيں ہوتے؟ کہا کہ سعودی عرب اور دہشت گرد جہاں پر دھماکے کر سکتے ہیں اور دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دے سکتے ہیں، وہاں پر ان کی پرورش ہوئی ہے اور وہی پر انہیں ٹریننگ حاصل ہوئی ہے۔

علی شمخانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران، دہشت گردوں کے لئے انجانی سرزمین ہے، کہا کہ اس کے علاوہ ہمارا سیکورٹی نظام چاک و چوبند ہے اور عوام بیدار ہیں، ہمارے عوام ہمیشہ محاذ پر موجود رہتے ہیں۔

انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہمارے علاقے کے پڑوسی ممالک میں ایسے افراد دہشت گردانہ حملے کرتے ہیں، جنہوں نے وہاں تعلیم حاصل کی ہے، رہتے ہیں اور وہیں پر ان کو تعینات کیا گیا، ذمہ داری دی گئی اور وہاں سے دوسری جگہ منتقل ہوگئے، کہا کہ آج وہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے انتقامی کاروائی کر رہے ہیں، کیونکہ عوام میں اتحاد نہیں ہے، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے مناسب سیکورٹی نظام بھی نہيں ہے اسی لئے وہاں پر دہشت گردانہ حملے ہوتے رہتے ہیں اور ایران میں نہیں ہوتے، یہ ایران اور دوسرے ممالک کے درمیان اساسی فرق ہے۔

یہ بھی دیکھیں

لاشوں کی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ

عثمان غازی پاراچنار میں تین لاکھ روپے فی لاش قیمت لگائی گئی مگر بہاول پور ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے