بدھ , 21 اگست 2019

ترکی نے ہالینڈ کاسفارتخانہ بند کر دیا

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ہالینڈ کی جانب سے ترک وزیر خارجہ کے طیارے کولینڈنگ کی اجازت دینے سے انکار کے بعد ترکی نے ہالینڈ کا سفارتخانہ اور قونصل خانہ بند جبکہ قائم مقام سفیر اور قونصل جنرل کے دفاترکو سیل کر دیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر ترکی میں قائم ہالینڈ کا سفارت خانہ اور قونصل خانہ بند کرنے کے بعد ہالینڈ کے قائم مقام سفیر اور قونصل جنرل کا دفتربھی سیل کردیا گیا ہے۔ ”انقرہ کچھ وقت کے لیے ہالینڈ کے سفیر کی واپسی نہیں چاہتا“۔ ترک وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ترکی میں متعین ہالینڈ کے سفیر ان دنوں تعطیلات پر ملک سے باہر ہیں۔ انقرہ ان کی واپسی نہیں چاہتا۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ ہالینڈ میں موجود ترک تارکین وطن اور دیگر لوگوں کے ساتھ اس خطرناک فیصلے کی جلد وضاحت کرے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی اور ہالینڈ کے باہمی تعلقات اس وقت سفارتی، سیاسی، اقتصادی اور دیگر شعبوں میں بحران سے گذر رہے ہیں۔دونوں ممالک میں اختلافات اس وقت پیدا ہوئے ہیں جب حال ہی میں ہالینڈ نے اپنے ہاں ترک صدر رجب طیب اردگان کی حمایت میں ریلیوں پر پابندی لگائی اور گذشتہ روز ترک وزیرخارجہ احمد جاویش اوگلو کو ہالینڈ کے دورے سے روک دیا گیا۔
ترکی کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کے دورے میں رکاوٹ ڈالی گئی تو سخت قسم کی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔قبل ازیں ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں ترکی کے قونصل خانے کے باہر صدر رجب طیب اردوغان کے حامیوں کی جانب سے منعقد کئے جانے والے مظاہرے کو ڈچ پولیس نے منتشر کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ایک خاتون ترک وزیر فاطمہ بتول سایان کایا کو قونصل خانے میں داخل نہ ہونے دینے کے بعد عمل میں آئی۔
پولیس نے مظاہرین کے خلاف منظم انداز میں گھوڑوں پر سوار ہوکر کارروائی کی۔ یہ مظاہرین دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تنازعے میں اضافے کے بعد وہاں جمع ہوئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کو گھیر لیا تھا اور ان پر بوتلیں پھینک رہے تھے۔
ترکی میں خاندان اور سماجی منصوبوں کی وزیر فاطمہ بتول سایان کایا ہفتے کو سڑک کے راستے روٹرڈیم پہنچیں تھیں تاکہ وہ ہالینڈ میں رہنے والے ترکیوں کے ووٹ کو حاصل کر سکیں۔ لیکن جب فاطمہ بتول وہاں پہنچیں تو ہالینڈ کے حکام نے انھیں قونصل خانے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد ٹویٹ کا ایک دور شروع ہو گيا جس میں غم و غصے کا اظہار تھا۔روٹرڈیم کے میئر نے اتوار کی صبح بتایا کہ اس کے بعد فاطمہ بتول کایا ہالینڈ سے چلی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ آئندہ ماہ 16 اپریل کو ترکی میں صدر اردوغان کے اختیارات میں اضافہ کے لیے ایک ریفرینڈم کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت ترکی کو پارلیمانی طرز حکومت کے بجائے امریکہ کی طرح صدارتی طرز حکومت میں تبدیل کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر یہ ریفرینڈم کامیاب رہتا ہے تو صدر کو مزید اختیارات حاصل ہو جائیں گے جس کے تحت وہ وزیر نامزد کر سکیں گے، بجٹ تیار کر سکیں گے، سینیئر ججز کی تقرری کر سکیں گے اور بعض قوانین وضع کر سکیں گے۔
اس کے تحت صدر ملک میں ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں اور پارلیمان کو برخاست کر سکتے ہیں۔ ریفرینڈم کو کامیاب بنانے کے لیے انھیں اندرون اور بیرون ملک رہنے والے دونوں قسم کے ترکیوں کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔
خیال رہے کہ 55 لاکھ ترکی بیرون ملک رہتے ہیں جس میں سے 14 لاکھ اہل ووٹرز تو صرف جرمنی میں رہتے ہیں اور ان سے حمایت حاصل کرنا انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس لیے جرمنی آسٹریا اور ہالینڈ سمیت ان ممالک میں مختلف قسم کی ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے جہاں ترکیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
بہر حال سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بہت سے ممالک میں ریلیوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ آسٹریا کے وزیر خارجہ سیبسٹیئن کرز نے کہا کہ صدر اردوغان کو وہاں ریلیاں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ اس سے اختلاف بڑھے گا اور ہم آہنگی کو دھچکہ لگے گا۔بہت سے یورپی ممالک گذشتہ سال ناکام بغاوت کے بعد ترکی کے رویئے سے بھی نالاں ہیں جس میں ہزاروں لوگوں کو حراست میں لیا گیا اور لاکھوں کو نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی دھاوے کھلی اشتعال انگیزی ہے:کویت

کویت سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک)کویت نے مسجد اقصیٰ پریہودی آباد کاروں کے منظم دھاووں کی شدید …