منگل , 21 فروری 2017

شیخ مفید کی زندگی کا جائزہ

شیخ مفید، ابن معلم
محمد بن محمد بن نعمان
پیدائش: 11 ذیقعد 336 یا 338 ھ عکبرا
وفات: 413ھ بغداد
مدفن: بغداد
رہائش: بغداد
قومیت: عرب
تعلیم: اجتہاد
وجہِ شہرت: علمی شخصیت
مذہب اسلام: (شیعہ اثنا عشری)
شیخ مفید عالم تشیع کی معروف ترین شخصیت ہیں، جنھوں نے اپنی زندگی امام زمانہ کے نزدیک ترین ایام میں بسر کی، آپ 334 یا 338 ھ کو پیدا ہوئے اور 413 ھ میں اس دار فانی کو چھوڑا۔ اپنی زندگی کے تمام شب و روز علوم آل محمد (ع) کی ترویج میں مشغول رہے۔ آپ نے جب ذات پروردگار کی آواز پہ لبیک کہا تو اس وقت تک آپ نے اپنے علمی اساسے کے طور پر نہایت اہم علمی ذخیرہ مذہب تشیع کیلئے چھوڑا۔ اس ذخیرے کی تعداد 200 کے قریب ذکر کی جاتی ہے۔ جن میں حدیث جیسے اہم موضوع سمیت علم کلام کے موضوع پر بیشتر کتب لکھیں لیکن علم اصول فقہ، علوم قرآن ، امام شناسی جیسے موضوعات پر بھی آپ نے قلم اٹھایا۔ آپ کی زندگی کا ایک نہایت اہم پہلو جو قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے دوسرے اسلامی مکاتب فکر کے علماء سے مختلف علمی موضوعات پر گفتگو کی اور ہمیشہ اپنے علمی دلائل سے اپنے مخاطب کو زیر کیا۔ اپنے اس زندگی کے سفر میں تحریر و تالیف کے ساتھ ساتھ آپ نے شاگرد پروری کی اور اپنے بعد شاگردوں کا ایک بے نظیر نمونہ چھوڑا۔

زندگی نامہ
نام: محمد بن محمد بن نعمان
کنیت: ابو عبد اللہ
نسب
شیخ مفید کے نسب کو نجاشی نے یوں بیان کیا ہے:
محمد بن محمد بن النعمان بن عبد السلام بن جابر بن النعمان بن سعيد بن جبير بن وهيب بن هلال بن أوس بن سعيد بن سنان بن عبد الدار بن الريان بن قطر بن زياد بن الحارث بن مالك بن ربيعة بن كعب بن الحارث بن كعب بن علة بن خلد بن مالك بن أدد بن زيد بن يشجب بن عريب بن زيد بن كهلان بن سبإ بن يشجب بن يعرب بن قحطان‏ بیان کیا ہے۔ عکبرا اور بغداد میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے انھیں "عکبری” اور "بغدادی” کہا جاتا ہے.
گنجینہ آثآر کے مصنف نے ابن شہر آشوب کی رجال کی کتاب کے حوالے سے شیخ مفید کے قم میں شیخ صدوق اور ان کے بھائی ابو عبد اللہ حسین بن علی بن بابویہ سے سماع حدیث کی بنا پر آپ کے "قمی” ہونے کا تذکرہ کیا ہے، لیکن یہ درست معلوم نہیں ہوتا ہے چونکہ شیخ مفید کے قم آنے کا ذکر کسی نے نہیں کیا ہے. جبکہ شیخ صدوق کے متعلق ذکر کیا جاتا ہے کہ آپ دو دفعہ بغداد تشریف لے گئے.

پیدائش
شیخ مفید دجیل کی طرف دس فرسخ کے فاصلے پر عکبرا کے علاقے میں سویقہ بن بصری نامی مقام پر 11/ ذیقعد 336 ھ ق یا 338ھ ق کو پیدا ہوئے.
ذاتی خصوصیات
ابن عماد حنبلی نے ان الفاظ میں آپ کے جسمانی خدوخال بیان کئے ہیں : آپ نحیف اور گندمی رنگ کے مالک تھے۔ سخت اور موٹا لباس زیب تن کرتے ،کثرت سے صدقہ دیتے ،اکثر روزے سے رہتے اور اپنا بیشتر وقت نماز میں مشغول رہتے تھے۔ ابو حیان توحیدی آپ کی زندگی کے شب و روز کے بارے میں کہتے ہیں :رات کو بہت کم سوتے ،رات کے اکثر حصے میں نماز، تلاوت قرآن، مطالعہ یا درس و تدریس میں مشغول رہتے۔
القاب
ابن معلم اور مفید
ابن معلم : آپ کے والد شعبہ تدریس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے "معلم” کے نام سے مشہور تھے.اسی نسبت سے آپ کو بھی "ابن معلم” کہا جانے لگا یہاں تک کہ اہل سنت برادران کی کتب میں اسی شہرت کی بدولت یہ آپ کے لئے لقب قرار پایا۔
”’مفید”’: بزرگان دین اور احوال علماء کی تمام کتب میں آپ کے یہ لقب ہوا ہے لہذا ان کا لقب مفید ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ مفید کا لقب ایک نا قابل انکار حقیقت ہے۔

اساتذہ
شیخ مفید کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے، البتہ اپنے والد کے استاد ہونے کی وجہ سے کوئی بعید نہیں کہ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار سے ہی حاصل کی ہو گی.

شیخ مفید کے شیوخ
شیخ مفید نے اپنی زندگی میں جن بزرگان سے کسب فیض کیا ان ان میں سے چند مشہور شخصیات :
ابو حسن احمد بن محمد بن حسن ولید قمی
ابو غالب احمد بن محمد بن سلیمان زراری
ابو حسن احمد بن حسین بن اسامہ بصری(اجازہ)
ابو علی احمد بن علی بن محمد بن جعفر صولی
شیخ مفید کی عظمت
شیخ مفید کی عظمت کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جسے معتزلی عالم دین ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں سید فخار بن علوی سے ان الفاظ سے نقل کیا ہے :
” شیخ مفید ابو عبد اللہ محمد بن نعمان امامی نے خواب میں دیکھا کہ وہ کرخ کی مسجد میں بیٹھے ہیں کہ اسی اثنا میں سیدہ کونین حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام اپنے ساتھ اپنے دونوں فرزند حضرت امام حسنؑ، اور حضرت امام حسین علیہم السلام کو لئے ان کے پاس آئیں. اپنے بیٹوں کو شیخ مفید کے سپرد کرتے ہوئے سیدہ نے فرمایا : تم انہیں فقہ کی تعلیم دو. شیخ مفید اس خواب کو دیکھ کر نہایت حیران ہوئے، صبح جب مدرسے میں تدریس کیلئے آئے تو کیا دیکھتے ہیں سیدہ فاطمہ بنت ناصر اپنی کنیزوں کو ساتھ لئے اپنے دو بیٹوں: سید محمد رضی اور سید علی مرتضی کو شیخ مفید کے پاس آئیں اور ان سے کہا : انھیں فقہ کی تعلیم دو۔ یہ ماجرا دیکھ کر شیخ مفید کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے. آپ نے رات کا خواب ان کے سامنے بیان کیا.
شیخ مفید نے ان کی سرپرستی کو قبول فرمایا اور تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ خداوند کریم نے سیدین پر اپنے انعامات کو نازل فرمایا اور ان پر ایسے علم و فضائل کے ابواب کھولے کہ جن کی بدولت رہتی دنیا تک آفاق میں ان کا نام ہمیشہ باقی رہے گا۔
شاگرد پروری
آپ کے اندر علم کو دوسروں تک پھیلانے کا جذبہ بہت زیادہ موجود تھا، اس کا اندازہ ذہبی کے درج ذیل بیان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے :
"شیخ مفید جب بھی گھر سے باہر جاتے اور کسی بھی ذہین بچے کود یکھتے تو اس کے والدین سے اسے پڑھانے کی اجازت طلب کرتے اور اس کی تعلیم و تربیت میں مشغول ہو جاتے۔ اپنے شاگردوں کی حاجت روائی میں کسی قسم کی کمی و کسر نہ آنے دیتے، ہمیشہ اپنے شاگردوں سے کہتے ” علم کے حصول سے مت گھبرائیں محنت اور مشقت سے اس کا حصول آسان ہو جاتا ہے۔
ذیل میں چند اسماء کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس مدرسے سے فیضیاب ہوئے:
ابو عباس، احمد بن علی بن أحمد بن عباس نجاشی.
احمد بن علی بن قدامہ.
ثقۃ العین، جعفر بن محمد بن احمد بن عباس دوريستی.
حسين بن علی نيشاپوری.
فقیہ ابو يعلى، سلار بن عبد العزيز ديلمی.
تالیفات کی فہرست
شیخ مفید کی کتابوں کی عناوین کے لحاظ سے درجہ بندی کی جائے تو ان میں سے 60 فیصد کتابیں علم کلام کے موضوع سے متعلق ہیں۔ ان میں سے 35 کتابیں امامت،10 کتابیں حضرت امام مہدی عجل اللہ فرجہ،41 کتابیں فقہ،12 کتابیں علوم قرآن،5 کتابیں اصول فقہ، 4 کتابیں تاریخ اور 3 کتابیں حدیث کے موضوع پر لکھی ہوئیں ہیں جبکہ 40 کتابوں کے عنوان کا علم نہیں ہے۔

شیخ مفید کے زمانے کا بغداد
عباسی خلیفہ منصور نے 145 ھ میں بغداد نامی دیہات کا نام "مدینۃ السلام” میں بدل کر اس شہر کی تعمیرات پر خصوصی توجہ دی لیکن یہ شہر اپنے قدیمی نام کی شہرت پر باقی رہا۔ اس شہر کے ایک محلے کا نام "کرخ” تھا. قرائن کی بنا پر وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ چوتھی صدی میں کافی تعداد میں شیعہ یہاں موجود تھے۔ ساتویں صدی میں صرف شیعہ نشین ہی تھے جبکہ باقی اطراف اہل سنت رہائش پذیر تھے۔
مامون کے زمانے سے یہ شہر ایک علمی مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا فقہاء ،متکلمین ادباء وغیرہ نے اس شہر میں سکونت اختیار کی جیسا کہ اس کی بارے میں ابن طیفور کی "کتاب بغداد ” میں اس کی تصریح موجود ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہی صورتحال شیخ مفید کے زمانے میں اسی طرح باقی تھی کیونکہ بغداد کی مختلف شخصیات سے مختلف جگہوں پر شیخ مفید کی دوسرے مذہب کے علماء سے علمی بحثیں اس کا ایک عمدہ مؤید ہے۔ جہاں یہ علمی بحثیں بغداد کی علمی حیثیت کو اجاگر کرتی ہیں اس کے ساتھ ہی وہ شیخ مفید کے بلند علمی مقام کو بھی ظاہر کرتی ہے.
شیخ مفید اور دوسرے مذاہب کے علماء
شیخ مفید نے مختلف اوقات میں دوسرے مذہب کے جن علماء سے علمی گفتگو کی۔ ان میں سے چند کے اسماء درج ذیل ہیں :
کتبی:
قاضی ابو بکر احمد بن سیار : ان سے بغداد میں محمد بن محمد بن طاہر کے گھر اور دوسری مرتبہ تاجروں کی موجودگی میں بحث کی۔
عرزالہ معتزلی
ابو عمرو شطوی۔ مذکورہ علماء معتزلہ مکتب سے تعلق رکھتے تھے۔
مذہب کرابیسی اختیار کرنے والا محدث۔
قاضی ابو محمد عمانی: نقیب ابو الحسن عمری کے ہاں گفتگو ہوئی.
وفات
413ھ کے رمضان کے مہینے میں شیخ مفید 75 سال یا 77 سال کی پر برکت عمر گزار کر اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے، بعض نے ان کی تاریخ وفات میں جمعرات کا دن اور رمضان کی دو تاریخ نقل کی ہے۔ شیخ طوسی کے کہتے ہیں کہ "میں نے اپنی زندگی میں کسی کی وفات پر اس سے بڑا جم غفیر نہیں دیکھا۔ لوگ اعتقادی اور مذہبی تفریق کے بغیر ان کے جنازے میں شریک ہوئے تھے. ہر مذہب و عقیدے کے شخص نے ان کے جنازے میں شرکت کی”۔ مؤرخین نے ان کے جنازے میں شریک ہونے والے شیعہ لوگوں کی تعداد 80000 بیان کی ہے دوسرے مذاہب کے لوگ ان کے علاوہ تھے۔ میدان "اشنان” میں ان کی نماز جنازہ سید مرتضی نے پڑھائی اور انہیں ان کے گھر کے صحن میں دفن کیا گیا۔ دو سال کے بعد ان کے جسد کو حرمین کاظمین کی پائنتی کی جانب قریش کی قبروں کی طرف ابو القاسم جعفر بن محمد بن قولویہ کی سمت دفنایا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

داعش … پاکستان کی سلامتی کو خطرہ

تحریر: سرورمنیر راؤ | جمعرات کی شام صوفی بزرگ حضر ت لعل شہباز قلندرؒ کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے