منگل , 21 فروری 2017

شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ی کی زندگی کا مختصر جائزہ

شاہ سلمان بن عبدالعزیزبن عبدالرحمن بن فیض بن ترکی آل سعود، موجودہ سعودی عرب کے ساتویںبادشاہ ہیں۔ علاوہ ازیں شاہ سلمان سعودی مجلس وزراء (وزیراعظم )اور سعودی افواج کے کمانڈر ہیں۔
شاہ سلمان سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کے 25ویں بیٹے ہیں اور سعودی حکمران خاندان کے اہم افراد میں شمار ہوتے ہیں ۔شاہ سلمان آل سعود کے رازدان ،خادانی مجلس کے سر براہ ہیں اور متعدد سعودی شاہوں کے مشیر خاص بھی رہ چکے ہیں۔ شاہ سلمان اُن سات سعودی شہزادوں میں سے ایک ہیں جنہیں ماں کی نسبت سدیری کہا جاتا ہے جنکا حکمران خاندان میں کافی اثر و رسوخ پایا جاتا ہے۔
پیدائش: 31دسمبر1935ء
جائے پیدائش: سعودی دارالحکومت ریاض
والد کا نام : شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود (بانی سعودی عرب)
والدہ کا نام: حصہ بنت احمد السدیریففف
بیویاں: (بیویوں کی اصل تعداد نا معلوم ہے)
۱۔ سلطانہ بنت ترکی بن احمد السدیری(متوفیہ)
۲۔ فہدہ بنت فلاح بن سلطان آل جثلین العجمی
۳۔ سارہ بنت فیض ضیدان ابواثین السبیعی (مطلقہ)
۴۔ مضاوی بنت ماجد بن عبدالعزیز الدویش(مطلقہ)
۵۔ سلطانہ بنت مندیل المندیل الخاالدی
بچے: اصل تعداد نامعلوم ہے،فہد(متوفی)،سلطان ،احمد (متوفی)،عبدالعزیز،فیصل،محمد (ولی عہد کے ولی عہد)وزیردفاع ترکی، خالد ،نایف،بندر،راکان ،سعود اور حصہ
سگے بھائیوں کے نام سدیری شہزادے:
۱۔ شاہ فہد بن عبدالعزیز آل سعود (متوفی)
۲۔ شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز آل سعود (متوفی)
۳۔ شہزادہ عبدالرحمن بن عبدالعزیز آل سعود
۴۔ شہزادہ ترکی (دوم)بن عبدالعزیز آل سعود (متوفی)
۵۔ شہزادہ نایف بن عبدالعزیز آل سعود (متوفی)
۶۔ احمد بن عبدالعزیز آل سعود
شاہ سلمان کے سب سے بڑے سگے بھائی (سعد اول) بچپن میں وفا ت پاگئے تھے جس کی وجہ سے وہ اس گروپ میں شمار نہیں ہوتے۔
تعلیم : شاہ سلمان اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ الامراء (شہزادوں کے اسکول)سے حاصل کرچکے ہیں۔
دیگر حقائق:
۱۔ شاہ سلمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دس سال کی عمر میں قرآن مجید کا حفظ کیا۔
۲۔ شاہ سلمان آل سعود کی خاندانی جیل پر مامور تھے جہاں خاندان اور سعودی نظام کے مخالف خاندان کے افراد کو قید کیا جاتا ہے۔
عملی زندگی: 1955-1960ء اور پھر 1963-2011ء:صوبہ ریاض کا گورنر مقرر کیا گیا۔
نومبر 2011ءـ: بھائی (سلطان)کے وفات کے بعد سلمان بن عبدالعزیز کو اسکی جگہ وزیر دفاع مقرر کیا گیا۔
11اپریل 2012ء: امریکہ کے سرکاری دورے پر شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر باراک اوباما کے درمیان ملاقات ہوتی ہے۔
18جون 2012ء: شہزادہ سلمان کے سوتیلے بھائی شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سلمان کو ولی عہد نامزد کردیتے ہیں۔
28اگست 2012ء: شاہ عبداللہ کی (خصوصی چھٹی)پر جانے کی وجہ سے شہزادہ سلمان سعودی عرب کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔
22جنوری 2015ء: شاہ عبداللہ کی وفات پر شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز سعودی فرمانروا بن جاتے ہیں۔
23جنوری 2015ء: شاہی فرمان کے ذریعے شاہ سلمان اپنے سوتیلے بھائی مقرن کو ولی عہد اور اپنے سگے بھتیجے محمد بن نایف کو ولی عہد مقرر کرتے ہیں ۔
25مارچ2015ء: سعودی عرب شاہ سلمان کی سر براہی میں یمن پر جارحیت شروع کرنے کا اعلان کرتا ہے جو تا حال جاری ہے۔
29اپریل2015ء: شاہ سلمان ولی عہد مقرن کو عہدے سے معزول کرتے ہوئے ولی عہد کے ولی عہد محمد بن نایف کو ان کی جگہ ولی عہد مقرر کرتے ہیں اور اپنے بیٹے محمد کو ولی عہد کے ولی عہد مقرر کرتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

جنوبی سوڈان میں خانہ جنگی جاری لوگ نقل مکانی پر مجبور

جنوبی سوڈان میں خانہ جنگی جاری لوگ نقل مکانی پر مجبور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے