بدھ , 18 جنوری 2017

دولت اسلامیہ کو اسلحہ کہاں سے ملتا ہے؟

مغرب کے حمایت یافتہ بشار الاسد مخالف شامی جنگجوؤں کو بھیجا جانے والا اسلحہ عراق میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ہاتھ لگ رہا ہے لیکن ایسا کیسے ہو رہا ہے۔جیمز بیون کا تعلق ‘کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ’ نامی تنظیم سے ہے۔ جیمز بیون کی ٹیم اس وقت ان علاقوں میں ایسے اسلحے کا معائنہ کر رہی ہیں جو عراقی فوج نے دولت اسلامیہ کے قبضے سے چھڑائے ہیں۔جیمز بیون موصل کے قریبی قصبے قراقوش کے ایک گھر میں داخل ہوتے ہیں جو کچھ ہفتے پہلے تک دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے قبضے میں تھا۔ اس گھر میں ہر طرف خون کے نشانات واضح ہیں اور قریب ہی خود کش حملوں کے لیے تیار جیکٹیں بھی پڑی ہیں۔جیمز بیون کی ٹیم کے پاس نوٹ بکس اور کیمرے ہیں اور وہ شہادتوں کو تلاش کر رہے ہیں۔اس گھر میں بستر، کپڑے اور دوسرا سامان ہر طرف بکھرا ہوا ہے۔ جیمز بیون کی ٹیم کو جس چیز کی تلاش ہے وہ انھیں اس گھر کے ایک پچھلے کمرے سے ملتی ہے اور وہ ایک بلند آواز میں ایک دوسرے کو اطلاعات دے رہے ہیں۔
جمیز بیون کی ٹیم یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اسلحہ دولت اسلامیہ کے ہاتھ کیسے لگ رہا ہے۔جیمز بیون کی ٹیم کو اسلحے کے ان ڈبوں سے زیادہ دلچسپی ہے جن میں اسلحہ دولت اسلامیہ تک لایا گیا۔ جیمز بیون کی ٹیم لائیو اسلحے کا معائنہ کرتی ہے لیکن انھیں زیادہ دلچسپی استعمال شدہ اسلحے سے ہے جس سے زیادہ معلومات ملتی ہیں جہاں سے وہ اسلحے کے سیرئل نمبر اور بیچ نمبر حاصل کر کے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ اسلحہ کہاں تیار ہوا اور اسے عراق تک کون لایا۔ اس ٹیم کو قراقوش کے گھر سے بم بنانے کا فارمولہ ملا۔
قراقوش ایک عیسائی آبادی والا قصبہ تھا لیکن دولت اسلامیہ کے قبضے کے بعد وہ عیسائی اس علاقے کو چھوڑ کر اربیل چلے گئے ہیں۔ دولت اسلامیہ کے جانے کے بعد اب دوبارہ عیسائی شہری واپس قرقوش آنا شروع ہو گئے ہیں لیکن ابھی ان کی تعداد بہت کم ہے۔عراقی فوج کو قراقوش سے بڑی مقدار میں اسلحہ ملا۔جیمز بیون کی ٹیم کو اس گھر سے بم بنانے کا فارمولہ ملا۔ دولت اسلامیہ نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اسلحے کی پیدوار شروع کر رکھی تھی اور گھریلو ساخت کے اسلحے کی فیکڑیاں لگائیں۔جیمز بیون کی ٹیم کو ایسی شہادتیں ملی ہیں کہ دولت اسلامیہ کو اسلحہ بنانے کے لیے خام مال جنوبی ترکی سےآتا ہے۔اس ٹیم کو قواقوش سے ایسے صنعتی بیگ بھی ملتے ہیں جن میں انڈسٹریل کیمیکل پیک تھا جو بڑی مقدار میں ترکی سے لایا گیا تھا۔شام کے متحرب گروہوں کو اسلحہ ترکی کے راستے ہی پہنچتا ہے۔
جیمز بیون کی ٹیم ایسی شہادتیں بھی ملی کہ دولت اسلامیہ کو انڈسٹریل کیمیکل کے تین سے پانچ ہزار تھیلے مہیا کیے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘یہاں سے کوئی ترکی گیا اور اس نے پوری فیکٹری کی پوری پیدوار کا آدھا حصہ خرید کر یہاں لے پہنچا دیا۔’عراق اور شام کی لڑائی کے ابتدائی عرصے میں دولت اسلامیہ کو سب سے زیادہ اسلحہ عراق اور شام کی حکومتی افواج سے ملا جو اسلحہ چھوڑ کر علاقوں سے بھاگ گئیں تھیں ۔ لیکن 2015 میں صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوئی اور دولت اسلامیہ کو اسلحہ کہیں اور سے ملنا شروع ہوا۔
دولت اسلامیہ کے پاس اسلحے سے بھرے باکس پہنچ رہے تھے۔ جیمز بیون کی ٹیم نے پتہ لگایا کہ دولت اسلامیہ کو ملنے والے اسلحہ مشرقی یورپ کی فیکٹریوں سے نکل کر ترکی کے راستے شام پہنچتا ہے۔جیمز بیون کی ٹیم نے جب مشرقی یورپ کی فیکٹریوں سے رابطہ کیا تو انھیں معلوم ہوا کہ مشرقی یورپ میں تیار ہونے والا اسلحہ امریکہ اور سعودی عرب کی حکومتوں کو بیچا جا رہا ہے۔اس اسلحے کی منزل شمالی شام میں بشار الاسد کے مخالف جنگجو گروپ ہیں۔اس اسلحے کے خریداروں کا مقصد بشار الاسد کے مخالفین کو مسلح کرنا تھا نہ کہ دولت اسلامیہ کو ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلحہ دولت اسلامیہ کے ہاتھ میں پہنچ رہا ہے۔جتنی تیزی سے یہ اسلحہ مشرقی یورپ کی فیکٹریوں سے نکل کر دولت اسلامیہ کے ہاتھوں میں پہنچ رہا تھا وہ حیران کن ہے۔ جیمز بیون کی ٹیم کو معلوم ہوا کہ بعض اوقات صرف دو ماہ کے اندر اسلحہ یورپ کی فیکٹری سے نکل کر دولت اسلامیہ کے ہاتھوں پہنچ گیا۔جیمز بیون کہتے ہیں کہ غیر ریاستی عناصر کو اسلحہ مہیا کرنا ہمیشہ ہی ایک پیچیدہ عمل ہے۔جس انداز میں اسلحہ دولت اسلامیہ کے ہاتھ لگ رہا ہے اس کی ایک مثال افغانستان کی جنگ تھی جہاں امریکہ پاکستان کے ذریعےایسے مجاہدین کی مدد کرتا تھا جو سوویت یونین کے خلاف برسرپیکارتھے۔ لیکن ایسا اسلحہ اسامہ بن لادن جیسے امریکہ مخالف شدت پسند گروہوں کے ہاتھ بھی لگنا شروع ہو گیا تھا۔
عراق اور شام کی صورتحال افغانستان سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔جیمز بیون کو یقین ہے کہ ہتھیاروں کو غلط ہاتھوں میں پہنچنے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس روٹ کا پتہ چلایا جائے جس کے ذریعے اسلحہ شام پہنچ رہا ہے۔جیمز بیون کہتے ہیں کہ انھوں نے اسلحہ فروخت کرنے والوں کو بتایا کہ ان کا تیار شدہ اسلحہ ان کی مرضی کے خلاف دولت اسلامیہ کے ہاتھ لگا رہا ہے اور یہ ایک مسئلہ ہے۔ یورپ کے اسلحہ سازوں کا موقف ہے کہ وہ قانونی طریقے سعودی عرب اور امریکہ کو اسلحہ بیچ رہے ہیں۔اس اسلحےسے جو تباہی عراق اور شام میں ہوئی وہ ہر طرف عیاں ہے۔ اس اسلحے کو دولت اسلامیہ کے ہاتھ لگنے سے روکنا اس وقت تک مشکل ہو گا جب تک بیرونی حکومتیں عراق اور شام میں اپنے حواریوں کی مدد کرنا بند نہیں کرتیں۔
بشکریہ: بی بی سی نیوز

یہ بھی دیکھیں

یہ سب امریکہ کی سازش ہے

(فیصل قریشی ) ماہ اکتوبر کا پہلا جمعہ تھا، میں نہا دھو کر نماز کی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے