منگل , 21 فروری 2017

مستقبل ایشیا کا ہے !

 

تحریر: سلیم جاوید
انقرہ میں روسی سفیر کا قتل خطے میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو روکنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ روس، چین، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے اس واقعے کے نتیجے میں اپنی نئی منزل کی جانب سفر کی رفتار مزید بڑھادی ہے۔ افغان طالبان کے روس کے ساتھ سمجھوتے نے کابل کے میئر اشرف غنی کے قدموں تلے زمین ہلادی ہے کیونکہ سمجھوتے کے تحت روس نہ صرف افغان طالبان کو "ہر طرح کا”
اسلحہ فراہم کرے گا بلکہ انٹیلی جنس شیئرنگ بھی کرے گا۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ یہ ہتھیار داعش کی سرکوبی کے لئے فراہم کرنے جا رہا ہے لیکن اشرف غنی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ محض سیاسی بیان ہے، فی الحقیقت یہ ہتھیار امریکہ اور اس کی پٹھو افغان حکومت کے خلاف ہی آ رہے ہیں۔ اس تازہ صورتحال نے افغانستان میں مستقل اڈوں کے خواب دیکھنے والے امریکہ کو وہیں کھڑا کردیا ہے جہاں سٹینگر میزائل کی آمد کے وقت سوویت یونین کھڑا تھا۔ اس تازہ ترین منظر نامے میں روس اور پاکستان اس قدر مضبوط پوزیشن پر کھڑے ہیں کہ پاکستان نے نائین الیون کے بعد ایک بار پھر کھل کر افغان طالبان کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا ہے جسے وہ اب تک محض رابطوں کا عنوان دیتا آ رہا تھا۔ اس پس منظر میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ کابل اشرف غنی کے لئے اس لحاظ سے فیصلے کی گھڑی بن گیا ہے کہ انہیں طے کرنا ہوگا کہ وہ امریکی کیمپ چھوڑ کر خطے کے اصل پلیئرز سے ہاتھ ملانا پسند کریں گے یا افغان طالبان کی لات کھا کر کابل سے نکلنا ؟ پاکستان، روس اور چین اپنے پڑوس میں ایک ایسا پر امن اور مستحکم افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں جہاں افغان طالبان سمیت تمام سٹیک ہولڈرز پر مشتمل حصہ بقدرِ جسہ والی قومی حکومت ہو۔ شمالی اتحاد روس کے زیرِ اثر ہے جبکہ افغان طالبان پاکستان کے کنٹرول میں ہیں ایسے میں اس تازہ صورتحال میں محض چند روز قبل نرندر مودی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اونچی آواز میں بولنے والے اشرف غنی کی حیثیت اس خانہ بدوش کی ہو کر رہ گئی ہے جس کے پاس گٹھڑیاں تو بہت ہوتی ہیں لیکن ایک انچ زمین نہیں ہوتی۔
خطے کی اس بدلتی صورتحال کی سب سے اہم پیش رفت مشرق وسطیٰ میں ہو رہی ہے۔ 40 ممالک میں مشتمل فوجی اتحاد میں اہم ترین کردار کے لئے جنرل راحیل شریف کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے اور ان کا این او سی آج کل میں جنرل باجوہ سائن کرنے والے ہیں۔ جنرل راحیل شریف سعودی عرب میں دفاعی مشیر کی حیثیت سے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے جہاں سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان ان کے "کفیل” کا کردار ادا کریں گے اور اس سلسلے میں فیصلوں کا اصل مرکز پاکستانی جی ایچ کیو ہی ہوگا۔ اس پیش رفت میں پاکستان نے سعودی عرب سے یہ بات منوائی ہے کہ خطے کے تنازعات کا اولین حل ثالثی کی صورت ہوگا اور یہی جنرل راحیل کا اصل ٹاسک ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے پاکستان کو گرین سگنل موصول ہوچکا ہے یوں آنے والے دنوں میں روس، ترکی، ایران، پاکستان اور سعودی عرب ایک میز پر ہوں گے جس کے نتائج نہ صرف شام اور یمن کی جنگ ختم کرنے کی صورت دیکھے جا رہے ہیں بلکہ پہلی بار سعودی عرب اور ایران کے مابین مذہبی منافرت کے خاتمے کا بھی بند و بست کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لئے مولانا فضل الرحمن کو اہم ترین کردار سونپا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روس کے افغان طالبان کے ساتھ ہاتھ ملانے میں بھی مولانا فضل الرحمن کا اہم کردار تھا۔ روسی بخوبی جانتے تھے کہ افغان طالبان کی جڑیں پاکستان کے دیوبندی مکتب فکر میں ہیں لھذا ان سے ہاتھ ملانا تب تک لاحاصل ہی ہوگا جب تک پاکستانی دیوبندیوں کی اہم قیادت آن بورڈ نہ ہو۔ یوں روسیوں کی خواہش پر مولانا بات چیت میں شامل رہے۔ مولانا کے اسی کردار کو اب مشرق وسطیٰ تک بڑھا دیا گیا ہے اور وہ عرب ممالک اور ایران کی قربت میں حائل مذہبی رکاوٹیں دور کرنے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔

یہ بھی دیکھیں

تہران، انتفاضہ فلسطین کانفرنس کی اہمیت و اہداف

ایران کے دارالحکومت تہران میں انتفاضہ فلسطین کی حمایت کی چھٹی بین الاقوامی کانفرنس منگل ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے