منگل , 17 جنوری 2017

مقبوضہ کشمیر؛ احتجاج کے 6ماہ مکمل، 97 شہری شہید، ہزاروں زخمی

سری نگر (مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کے 6 ماہ مکمل ہوچکے ہیں، اس عرصے میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں 97 شہری شہید، 16 ہزار سے زائد زخمی، 7ہزار پیلٹ کا نشانہ بنے، ایک ہزار شہری بینائی سے محروم ہوئے، 12 ہزار سے زائد گرفتار، 463 کو پی ایس اے کے تحت نظر بند رکھا گیا، 318 تا حال زندان خانوں میں بند، 184 میں سے صرف 24 دن ہڑتال کے بغیر گزرے۔تفصیلات کے مطابق، وادی میں پرتشدد احتجاج کی وجہ بننے والا شہید برہان وانی متاثر کن شخصیات کی عالمی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں، قابض فوج کا پیلٹ گن کیلئے طے شدہ قواعد وضوابط (ایس او پی) اور ان ہتھیاروں سے متعلق جانکاری دینے سے انکار، وادی میں فی الوقت ہفتہ میں دو روزہ ہڑتال اور احتجاجی پروگرام کا سلسلہ جاری ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد شروع ہونے والے پر تشدد احتجاج کے چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں اس دوران وادی میں قابض فورسز کے ہاتھوں 97 عام شہری شہید اور 16 ہزار سے زائد زخمی ہوئے جبکہ 7 ہزار افراد پیلٹ گنوں کا نشانہ بنے، اس عرصے میں ایک ہزار شہری بینائی سے محروم ہوئے، 12ہزار سے زائد گرفتار، 463کو پی ایس اے کے تحت نظر بند رکھا گیا، 318 تا حال زندان خانوں میں بند، 184 میں سے صرف 24 دن ہڑتال کے بغیر گزرے۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد شروع ہونے والے پر تشدد احتجاج کے چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں جبکہ گردش ایام کے ساتھ ہی احتجاجی مظاہروں پر سکوت چھا گیا ہے۔
جاریہ احتجاجی لہر نے6ماہ کا عرصہ مکمل کیا ہے اور 7ویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے جبکہ فی الوقت ہفتے میں 2 دنوں کی ہڑتال اور احتجاجی پروگراموں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 6ماہ کے اس عرصے میں غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 97 شہری فورسز اور پولیس کی گولیوں کا شکار بن گئے اور زائد از 16 ہزار زخمی ہوچکے ہیں جن میں شکاری بندوق سے نکلنے والے چھروں کی وجہ سے زخمی ہونے والوں کی تعداد 7 ہزار اور آنکھوں کی بصارت سے متاثر ہوئے زخمیوں کی تعداد بھی 700 کے قریب ہے۔
ہند مخالف مظاہروں اور مبینہ سنگبازی کے الزام میں 12 ہزار کے قریب لوگوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ سرکاری ذرائع کے مطابق 2 ہزار 632 کیسوں کا اندراج کر کے 463 افراد کو بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا جن میں سے 145 کو اگرچہ رہا کیا گیا تاہم ابھی بھی 318 زندان خانوں میں زندگی کے ایام گزار رہے ہیں۔
ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس قدر طویل احتجاجی لہر اور ہڑتال ہوئی ہے جو ابھی بھی جاری ہے۔ 8 جولائی کو شروع ہوئے ہڑتال، احتجاج اور مظاہروں کے اگرچہ 184 دن مکمل ہوچکے ہیں تاہم اس دوران مجموعی طور پر صرف 24دنوں کو ہی ہڑتال میں مکمل ڈھیل دیکھنے کو ملی جبکہ باقی160 دنوں تک ہڑتال رہی۔دنیا کی سب سے طویل ترین ایجی ٹیشن کے ہم پلہ ہونے کا ریکارڑ بھی اس دوران قائم ہوا جبکہ اس سے قبل فلسطین میں6ماہ تک مکمل ہڑتال کی گئی ہے۔
فلسطین میں 1936 سے 1939 تک فلسطینی اور عرب عوام کی طرف سے برطانیہ کے نو آبادیاتی نظام کے خلاف آواز بلند کرنے کی تحریک کے دوران مسلسل6ماہ تک احتجاج اور ہڑتال کی گئی جس کے دوران برطانیہ سے مکمل آزادی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس سے قبل وادی میں 2008میں قضیہ اراضی امرناتھ کے دوران بھی لوگ سڑکوں پر آئے اور قریب3ماہ اگر چہ ہڑتال رہی تاہم یہ ہڑتال 2مرحلوں اور غیر مسلسل و متواتر ہوئی اور اس دوران قریب65شہری ہلاکتیں ہوئیں۔
2009 میں 2 خواتین کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے بعد سرینگر میں20روز کی ہڑتال رہی جبکہ شوپیاں ضلع میں قریب40روز تک ہڑتال رہی۔2010میں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی والی حکومت کے دوران بھی 100 دنوں تک ہڑتال، احتجاجی مظاہرے اور 120 کے قریب شہری ہلاکتیں ہوئیں تاہم ہڑتال میں وقفہ وقفہ سے ڈھیل دی گئی۔فلسطین میں بھی پہلے اور دسرے انتفادہ کی صور ت میں طویل ایجی ٹیشن کا دور دیکھنے کو ملا تاہم اس دوران بھی متواتر اور مسلسل ہڑتال نہیں ہوئی۔ پہلی انتفادہ فلسطین میں اسرائیلی قبضے کے خلاف1987میں شروع ہوا جو1991تک جاری رہا جبکہ دوسرا انتفادہ ستمبر2000میں شروع ہوکر2005میں شرم الشیخ سمٹ کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوئی۔
یوکرین میں نومبر2013میں یورپی انضمام کے خاتمے کے خلاف ایجی ٹیشن شروع ہوئی جو3ماہ تک یوکرین کے صدر وکٹر یان کوئچ کے اقتدار کے خاتمے تک جاری رہی۔ اس دوران بھی تاہم مسلسل ہڑتال دیکھنے کو نہیں ملا۔ یوکرین میں ہی نومبر2004سے جنوری2005تک انتخابات میں دھاندلیوں کے خلاف احتجاجی لہر جاری رہی جس کو آرینج انقلاب کا نام دیا گیا۔وادی میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے6ماہ گزر جانے کے بعد بھی مزاحمتی کلینڈروں کا سلسلہ جاری ہے تاہم ہفتے میں اب5دنوں کی ڈھیل کا سلسلہ بھی شروع ہوا ہے۔ 8جولائی کو شروع ہوئی احتجاجی لہر نے جولائی اور اگست کی سخت گرمی کا دور بھی دیکھا اور اکتوبر و نومبر میں کشمیر کے موسم خزان سے بھی آشنا ہوئی۔ ایجی ٹیشن نے جہاں چلہ کلان کی سرد و یک بستہ ہواؤں کا نظارہ بھی دیکھا وہی سال نو میں داخل ہوکر ہڈیوں کو گلا دینے والی سردی سے بھی وقف ہوئی۔
مزاحمتی خیمے کی طرف سے27احتجاجی کلینڈروں کا جاری کر نے کے بعد ہر آنکھ منتظر ہے کہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے اس کو کب تک جاری رکھا جائے گا، کیونکہ مزاحمتی خیمے نے طویل ایجی ٹیشن کا اشارہ بھی دیا ہے۔دوسری جانب برہان مظفر وانی کو سال 2016 کی متاثر کن شخصیات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ترک میڈیا کی جانب سے سال 2016 کی متاثر کن شخصیات میں برہان مظفر وانی کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔
ترک میڈیا گروپ ٹی آر ٹی ورلڈ کی جانب سے جاری فہرست میں ان 20 لوگوں کے نام شامل ہیں، جنہوں نے اپنے کاموں سے دنیا میں ہلچل مچا دی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ برہان وانی نے سوشل میڈیا کو تحریک آزادی کے لیے استعمال کر کے کشمیر کی تحریک آزادی میں نئی روح پھونکی۔ برہان نے مختصر عرصے میں سوشل میڈیا کے ذریعے وہ شہرت حاصل کی جواپنی مثال آپ ہے۔ متاثر کن شخصیات کی فہرست میں منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بیٹی ایونکا ٹرمپ کا نام پہلے نمبر پر ہے۔ فہرست میں پہلی مسلمان امریکی ایتھلیٹ ابتحاج محمد کا نام بھی شامل ہے، ابتحاج نے گزشتہ سال اولیمپکس ایونٹ کے دوران گولڈ میڈل جیتا، تاہم انہوں نے گولڈمیڈل جیت کر اپنا نام تاریخ میں رقم نہیں کیا بلکہ ان کا نام اس لیے دنیا میں گونجا کیونکہ انہوں نے پورے ایونٹ کے دران حجاب میں اپنے کھیل کا مظاہرہ کیا تھا۔
فہرست میں 22 سال تک گیمبا میں برسر اقتدار رہنے والے یحیحی جیمی، برنی سینڈرز، بورس جونسان، کولن کائیپرنک، جوناتھن بینیڈ، پیٹر تھیل، عمر متین، جیمی وردے شامل ہیں۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں قابض فوج نے پیلٹ گنوں کے استعمال کیلئے طے شدہ قواعد و ضوابط (ایس او پی)اور جموں و کشمیر میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے استعمال کئے گئے ہتھیاروں کے بارے میں جانکاری فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔جانکاری حاصل کرنے کیلئے حق اطلاعات کے تحت درخواست دینے والے نے اپنی درخواست میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور نہ رشوت ستانی کا کوئی ذکر کیا تھا۔ انسانی حقوق کارکن ونکٹیش نائک نے پیلٹ گنوں کے بڑے پیمانے پر استعمال کے نتیجے میں زخمی ہوئے افراد کی تعداد کو دیکھتے ہوئے پیلٹ گن چلانے کیلئے طے شدہ سٹنڈارڈ آپریٹنگ پروسیجر اور یکم جولائی 2016سے ابتک مظاہرین کے خلاف استعمال کئے گئے ہتھیاروں کی مقدار کے تفاصیل طلب کئے تھے۔
مذکورہ انسانی حقوق کارکن نے عہدے کے اعتبار سے زخمی ہونے والے سی آر پی ایف اہلکاروں کی فہرست بھی طلب کی تھی۔ سینٹرل انفارمیشن آفیسر نے اپنے جواب میں لکھا ہے اس کیس میں نہ کوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور نہ ہی رشوت ستانی کا کوئی ذکر ہے اور اسلئے مذکورہ محکمہ حق اطلاعات 2005کے تحت کوئی بھی جانکاری فراہم کرنے کا پابند نہیں ہے۔انفارمیشن آفیسر کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں انسانی حقوق کارکن نائک نے کہا ایس او پیز کو صیغہ راز میں رکھا جارہا ہے کوئی انسان کیسے یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور طاقت کا زیادہ استعمال ہوا ہے کہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بغیر کسی خطا کے زخمی ہونے والے والے کیسے معاوضے اور فورسز اہلکاروں کو جواب دہ بنانے کی مانگ کرسکتے ہیں، جب انہیں کوئی جانکاری ہی فراہم نہیں کی گئی ہو۔

یہ بھی دیکھیں

داعش نے مشرقی افغانستان میں 60 گھروں کو آگ لگادی

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک )دہشت گرد گروہ داعش نے مشرقی افغانستان میں رہائشی مکانات کو نذر ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے