بدھ , 18 جنوری 2017

فوجی عدالتیں اور نیشنل ایکشن پلان کا مستقبل

 

(تحریر :حسنین اشرف ایڈووکیٹ ہائی کورٹ)
دو دون پہلے فوجی عدالتوں کی معیاد ختم ہوگئی اور ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا کہ آیا فوجی عدالتوں کی معیاد بڑھائی جائے گی یا نہیں؟ہر ادارے کے نظم وضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے اپنے قوانین ہوتے ہیں اسی طرح فوجی عدالتوں کا قانون صرف فوجی اہلکاروں اور فوج میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کےلیے ہوتا ہےاور سویلین عوام کےلیے بالعموم ہر ملک میں اپنا اپنا آزاد نظام عدل ہوتا۔فوجی عدالتوں کو سویلین کے ٹرائل کا اختیار صرف حالت جنگ میں، مارشل لاء کی صورت میں یا ملک میں ایمر جنسی کی صورت میں ہی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے مملکت پاکستان گذشتہ تقریباً70سال سے کئی بارمارشل لاء اور فوجی حکمرانوں کے زیر اقتدار رہا اور اس دوران جمہوری حکومتیں اپنا سیاسی تشخص بہتر نہ بنا سکیں۔
فوجی اور سویلین ادوار میں قومی ادارے خصوصاًعدلیہ پربہت سے عروج و زوال آئے ،اگرچہ ہر دور میں عدلیہ نے اپنی بقا کی جنگ بہت اچھے طریقے سے لڑی اور ہر آمر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن سول حکومتوں اور مارشل لاء آمروں کے مسلسل دبائو کے نتیجے میں لوگوں کو انصاف پہنچانے کا یہ بنیادی ادارہ ابھی ارتقاءکے مراحل میں ہے اور بارہا غیر ضروری اور آمرانہ ترمیم کرکے 1973ء کے بنیادی آئین کی اصل شکل کو بگاڑ دیا گیاہے۔ بدقسمتی سے ہر آمر اور سول حکومتوں نے بار بار اپنے ذاتی مفادات کے لیے آئینی ترامیم کا سہارا لیا مثلاً سابق فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے سیاستدانوںکو قابو میں رکھنے کے لیے آٹھویںآئینی ترمیم کے ذریعے 58(2)بی کا اضافہ کیا۔جس کے نتیجے میں 4سول حکومتیں اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے ہی برطرف کردی گئیں۔ اسی طرح سول حکومتوں نے بھی مشرف کے LFOکے تحت پارلیمنٹرینرز کے لیے B.Aکی شرط کو غیر ضروری قرار دے کر منسوخ کردیا۔ (یہ صرف ایک مثال ہے ایسی کئی مثالیں موجود ہیں)۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ قیام پاکستان سے لےکرآج تک جتنی بھی آئینی ترامیم کی گئیں اوّل تو ان کا مطمع نظر عوامی بہبود تھاہی نہیں بلکہ سیاسی مفادات یا حالات کی مجبوری تھی۔ اگر کوئی قانون عوامی مفاد کے لیے بنایا بھی گیا تو اس پر کبھی بھی مکمل عملدر آمد نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر نیشنل ایکشن پلان پر آج بھی مکمل در آمد نہیں ہورہا اور کالعدم جماعتیں دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود حکومت کی چھتری تلے جلسے منعقد کرتی ہیں ۔جس میںکھلم کھلا تکفیری نعرے لگائے جاتے ہیں اوروزیر داخلہ پوری ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ ہم نے خود اجاز ت دی تھی۔
ملٹری کورٹس کا قیام ہنگامی حالات میں تھوڑے عرصہ کے لیے توممکن ہوسکتا ہے لیکن یہ 1973ء کے آئین کی روح کیخلاف ہے اور مستقل حل نہیں۔ جب ملک میں ایک آزاد عدلیہ اور 1973ء کے آئین کےتحت ملک گیر عدالتی نظام موجود ہے تو اس کے متوازی فوجی عدالتی نظام یا فوجی عدالتیں قائم کرنا بنیاد ی طور پر غیر قانونی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے موجودہ عدالتی نظام میں کئی خامیاں ہیں اور موجودہ نظام عدل لوگوں کو جلد انصاف کی فراہمی میں مکمل طور پر کامیاب نہیںہوسکالیکن اس کا حل یہ ہے کہ عدالتوںکی تعداد میں اضافہ کیا جائے، جلد سے جلد مقدمات کا فیصلہ اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور انسدادہشت گردی کی خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں ۔ اسکے علاوہ عدلیہ کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے، جوڈیشل ریفارمز کے ذریعے سے۔
نیشنل ایکشن پلان کا ایک حصہ فوجی عدالتیں بھی تھیں اور ان فوجی عدالتوں کی طرف سے دہشت گردوں کو دی جانے والی سزائوں سے ملک میں دہشت گردی میںخاطر خواہ کمی اورامن وامان کی صورت حال کو بہتر بنانے میں بہت مدد ملی ہے لیکن یہ ملک کے عدالتی نظام کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد کی بنیادی ذمہ داری حکومت کی ہے۔فوج اور سیکورٹی کے ادارے اس پر عملدر آمد کویقینی بنانے کےلیے بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ کراچی میں رینجرز بہت اچھا کام کررہی جبکہ پاکستان فوج قبائلی علاقہ جات اور افغان سرحد اور بلوچستان میں امن کو یقینی بنانے میں مصروف ہے۔
جنوبی پنجاب اور بلوچستان اور قبائلی علاقوں سےملحقہ کچھ علاقے ابھی تک دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک نہیں کیے جاسکے۔اس سلسلے میں حکومت کو پاک فوج اور سیکورٹی کے اداروں سے مکمل تعاون کرنا چاہیے اور مکمل اختیار دینے چاہیںتاکہ پاک وطن سے ان ناپاک عناصر کا مکمل طور پر خاتمہ ہوسکے اور دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔
حکومتی صفوں میں موجودکچھ کالی بھیڑیں جوان دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں ان کی بھی نشاندہی ہونی چاہیے اور ان کو منظر عام پر لاکر ان قلع قمع ضروری ہے۔اگر نیشنل ایکشن پلان پر بلاتفریق عمل نہ کیا گیا تو(خدانخواستہ) ہمارا ازلی دشمن بھارت ہمارے میر جعفر اورمیر صادق جیسے غداروں سے پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی ہرممکن کوشش کرے گا۔

یہ بھی دیکھیں

یہ سب امریکہ کی سازش ہے

(فیصل قریشی ) ماہ اکتوبر کا پہلا جمعہ تھا، میں نہا دھو کر نماز کی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے