اتوار , 26 فروری 2017

اسرائیل کا شرمناک رویہ

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے دریائے اردن کے مغربی کنارے پر یہودی بستیاں بسانے کے خلاف اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔ حالانکہ اسرائیل نے فلسطینی عوام کے حقوق غصب کرنے اور اقوام متحدہ کے علاوہ متعدد عالمی اداروں ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مبصرین کی رائے کو مسترد کرتے ہوئے فلسطینی املاک اور سرزمین پر قبضہ کرنے اور دو ریاستی حکمت عملی کو ناکام بنانے کی جو کوششیں کی ہیں ، انہیں ہر لحاظ سے شرمناک اور افسوسناک کہا جا سکتا ہے۔ اسرائیل وزیر اعظم کو دراصل صدر باراک اوباما کی حکومت کی طرف سے قرار داد کو ویٹو نہ کرنے پر غصہ ہے جسے وہ نیوزی لینڈ اور سینی گال پر نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان دونوں ملکوں سے اسرائیل نے اپنے سفیر واپس بلا لئے ہیں۔
فلسطین کے صدر محمود عباس کا یہ بیان حقیقت پسندانہ ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد اسرائیل کی توسیع پسندانہ اور فلسطین دشمن حکمت عملی کے لئے شدید دھچکہ ہے۔ اگرچہ نیتن یاہو کے غیر ضروری طور سے شدیدرد عمل کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کا خیال تھا کہ منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد امریکہ اس بارے میں اسرائیل نواز دیرینہ پالیسی ہی اختیار کرے گا۔ لیکن وہائٹ ہاؤس کو اس بات کا صدمہ تھا کہ نیتن یاہو نے صدر باراک اوباما کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹرمپ سے براہ راست مدد لینے کی درخواست کی۔ ٹرمپ نے روائیتی طریقہ کار کے مطابق یہ نہیں کہا کہ وہ 20 جنوری کو صدر کا عہدہ سنبھالیں گے ، اس سے قبل وہ خارجہ پالیسی کے کسی اقدام میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے۔ بلکہ مصر کے صدرعبدالفتح السیسی سے کہا کہ وہ اسرائیلی بستیوں کے خلاف قرارداد واپس لے لیں۔ مصر کے صدر نے بزدلانہ بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کے نو منتخب صدر کی خوشامد کے نقطہ نظر سے اس قرارداد کو مؤخرکردیا ، جس کے بعد یہ امکان پیدا ہوگیا تھا کہ سلامتی کونسل شاید اس پر غور نہیں کرے گی۔ لیکن سلامتی کونسل کے رکن دیگر چار ملکوں نیوزی لینڈ، سینی گال، وینزویلا اور ملائیشیا نے یہ قرارداد رائے شماری کے لئے پیش کردی۔ سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے 14 ارکان نے قرارد کی حمایت میں ووٹ دیا جبکہ امریکہ نے یہ کہہ کر رائے شماری میں حصہ لینے سے انکار کیا کہ اسرائیلی پالیسی سے متفقہ دو ریاستی منصوبہ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
اس حوالے سے ایک عرب اور مسلمان ملک مصر کا طرز عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عرب ممالک کے حکمرانوں نے کس طرح ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے ہمیشہ فلسطینیوں کے مفادات کے خلاف اقدام کیا ہے تاکہ انہیں اپنا آمرانہ اقتدار برقرار رکھنے کے لئے امریکہ کی اعانت حاصل رہے۔ فلسطینیوں اور مسلمانوں کو اب ایسے حکمرانوں کے مکروہ چہرے پہچان لینے چاہئیں تاکہ مستقبل میں وہ ان کی خوبصورت باتوں پر بھروسہ کرنے کی بجائے ان کے عمل پر نظر رکھیں ۔ السیسی جیسے لیڈروں کو مسترد کرنا اور ان کے چہرے سے نقاب اتارنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق اسرائیل نے نیوزی لینڈ اور سینی گال سے اپنے سفیروں کو واپس بلالیا ہے۔ جبکہ وینزویلا اور ملائیشیا کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ لیکن اسرائیلی لیڈروں کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ عالمی رائے اس کے خلاف متحد ہے۔ متفقہ سلامتی کونسل کی رائے کو مسترد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل متفقہ عالمی اصولوں اور طریقہ کار کو تسلیم کرنے سے انکار کررہا ہے۔ اسرائیل کو بوجوہ امریکہ اور دیگر طاقتور مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے ورنہ اس قسم کی قانون شکنی کوئی کمزور ملک کرتا تو اقوام متحدہ کے ذریعے اس کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کرتے دیر نہ لگتی۔
اب نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل فلسطین معاملہ میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا۔ یہ مسئلہ انہیں براہ راست بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔ یہ بیان دھوکہ اور فریب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ کیوں کہ امریکہ مسلسل اسرائیل کا پشت پناہ ہے۔ اسرائیل ہی فلسطینیوں سے مذاکرات کرنے سے انکار کررہا ہے۔ اسی نے فلسطینیوں کی سرزمین پر غاصبانہ قبضہ کیا ہؤا ہے اور وہ امریکی اعانت کی وجہ سے من مانی کرنے کے درپے ہے۔ نیتن یاہو کی طرف سے اقوام متحدہ کے خلاف غصیلے بیانات کی وجہ بھی یہی ہے کہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد انہیں امید ہے کہ امریکہ اسرائیل کی ہر غلطی کو درست قرار دے گا۔ اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں آباد کرنے کے کام میں سرعت پیدا کی ہے۔ اب تک اسرائیل فلسطینی سرزمین پر 140 بستیاں آباد کرچکا ہے جن میں پانچ لاکھ سے زائد یہودی آباد ہیں۔ اب وہ ان میں اضافہ کرنے کا خواہشمند ہے اور ان منصوبوں پر عمل کررہا ہے۔ یہ حکمت عملی مسلسل فلسطینیوں میں مایوسی اور بے چینی پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور متعدد ادارے اسرائیلی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں خطرناک طریقہ قرار دیتے رہے ہیں۔ لیکن امریکہ کے پالیسی ساز جب تک اسرائیلی جارحیت کو تسلیم کرکے توازن قائم کرنے کی کوشش نہیں کریں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ فلسطینی تنازعہ عربوں کے علاوہ مسلمانوں میں غم و غصہ پیدا کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ اسی مایوسی اور رنج کو استعمال کرتے ہوئے بعض دہشت گرد گروہ نوجوان مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب بھی ہو تے ہیں۔ نو منتخب صدر ٹرمپ اگر واقعی دہشت گردی کے اسباب سمجھ کر اس عفریت سے نمٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہیں مسلمانوں پر امریکہ کے دروازے بند کرنے کی بجائے ، فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی۔ تب ہی انہیں روایت شکن اور دھن کا پکا کہا جا سکے گا۔ وگرنہ ان کا تبدیلی کا نعرہ بے معنی رہے گا اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھے گا۔بشکریہ شفقنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

برطانیہ کا داعش کو 20 ملین پائونڈ دینے کا قصہ

برطانیہ میں آجکل ایک اسکینڈل گردش میں ہے اور وہ یہ کہ برطانیہ نے 20ملین برطانوی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے