بدھ , 18 جنوری 2017

ایران سے مذاکرات کے لئے سعودی عرب کے خالی ہاتھ

سعودی عرب کے وزیر دفاع اور جانشین محمد بن سلمان نے فارین آبزور جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کے مستقبل اور اس سوال کے جواب میں کہ کیا ریاض، تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات کا آغاز کرنے کے لئے آمادہ ہے، کہا کہ دونوں ممالک میں مذاکرات کے لئے کوئی مشترکہ نقطہ نہیں پایا جاتا۔ محمد بن سلمان نے جنہیں مغربی حکام مسٹر پرفیکٹ کے نام سے یاد کرتے ہیں، بے بنیاد دعوی کرتے ہوئے کہ اس ملک سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے جو اپنے عقائد کو دوسرے ممالک میں صادر کرتا ہے، دہشت گردی میں شریک ہے اور دوسرے ممالک کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اگر تہران اپنی روش میں تبدیلی نہیں کرتا تو ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعاون کی صورت میں ریاض کو کاری ضرب لگے گی۔
یہ بیان در اصل حقیقت سے فرار ہے۔ زمینی حقیقت سے پتا چلتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سعودی عرب میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں ذرہ برابر بھی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کے دو سبب ہیں :
1- علاقائی تبدیلیوں میں ایران کی برتری :
سعودی حکام کی جانب سے ایران کے لئے سفارتی دروازہ کھولنے اور مذاکرات کے لئے تہران کی دعوت کا مثبت جواب نہ دینے کی اصل وجہ علاقے میں تہران کی میدان جنگ میں برتری ہے۔ عراق، شام، یمن اور لبنان کی جنگوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے سعودی عرب کے مقابلے میں ایران کو پوزیشن کو مزید مضبوط کر دیا ہے اور موجود وقت میں ایران، متعدد مقامات پر برتری حاصل کئے ہوئے۔ ان حالات میں طبیعی طور پر سعودی عرب ایران سے مذاکرات کے لئے آمادہ نہیں ہے کیونکہ ان حالات میں ہر طرح کے مذاکرات کا مطلب دنیائے عرب میں ایران کی موجودگی اور اس کے اثر و رسوخ کی تائید کرنا ہے جو یقینی طور پر سعودی عرب کے مفاد میں نہیں ہے۔ اسی لئے سعودی عرب ایران سے مذاکرات میں دلچسپی کا مظاہرہ تک نہیں کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے حکام اس کوشش میں تھے کہ کنٹرول اور اثر و رسوخ کا سد باب کرنے کی پالیسی اختیار کرکے ایران کے اثر و رسوخ میں رکاوٹ پیدا کریں اور تہران کے لئے ان اثرات کے اخراجات میں اضافہ کردیں۔ اس بنیاد پر موجود حالات میں مذاکرات کی بات جب سعودی حکام کو اپنے ہاتھ خالی نظر آتے ہیں، عملی طور پر غیر منطقی اور سعودی عرب کے بہت بڑی اسٹرٹیجک غلطی شمار ہوگی۔
2 – بحرانوں کا جاری رہنا :
دوسرا سبب جس کے سبب سعودی حکام ایران سے مذاکرات سے فرار کر رہے ہیں بحرانوں کا جاری رہنا اور ان کا وسیع ہونا ہے۔ در اصل ایران اور سعودی عرب کے درمیان تصادم کے علاقے عراق، شام اور یمن ہیں جہاں بحران بدستور جاری ہیں اور ابھی تک ان نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے اور طبیعی طور پر ان پر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ خاص طور پر سعودی عرب کے حکام کو امید ہے کہ ان علاقوں میں اور جب تک بحران جاری رہتا ہے، ایران سے برتری سلب کر لیا ہے تاکہ مذاکرات میں ان سے استفادہ کر سکیں۔ اس بنا پر ان طرح کے ماحول سے اپنے حریف کی برتری ختم کرنے کے لئے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
در ایں اثنا سعودی عرب کے حکام خاص طور پر محمد بن سلمان جو اب تک ایران کے بارے میں واضح موقف اختیار نہیں کر سکے، بے بنیاد دعوؤں کا سہارا لے کر عمداً دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے اور انقلاب کے صادر ہونے، دہشت گردی کی حمایت اور عدم استحکام میں اضافے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ موجودہ وقت میں علاقے کی زیادہ تر عرب حکومتیں، سلفی نظریات کے گہوارے کی حیثیت سے سعودی عرب کے کردار اور اس کے مقام سے آگاہ ہو چکے ہیں اور پوری دنیا میں یہ واضح ہو چکا ہے کہ سعودی عرب، شام، عراق اور دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کی مالی اور اسلحہ جاتی امداد کرتا ہے اور علاقائی سطح پر پیدا ہونے والے بحرانوں اور کشیدگی میں ریاض کا اہم کردار ہوتا ہے۔بشکریہ الوقت نیوز

یہ بھی دیکھیں

یہ سب امریکہ کی سازش ہے

(فیصل قریشی ) ماہ اکتوبر کا پہلا جمعہ تھا، میں نہا دھو کر نماز کی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے