اتوار , 26 فروری 2017

ریاض کے دورے پر سعودی قوم کے لیے محبت اور دوستی کا پیغام لے کرآیا ہوں:لبنانی صدر

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک )لبنان کے نو منتخب صدر میشل عون نے کہا ہے کہ سعودی عرب دوستی اور محبت کا پیغام لے کرآیا ہوں،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاض کے ساتھ مل کر کام کریں گے، دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے شکوک اور ابہام کو دور کرنا اور محبت ودوستی کو فروغ دینا ہے۔سعودی نیوز چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں لبنانی صدر میشل عون نے کہا کہ خانہ جنگیاں صرف سیاسی مساعی سے ختم ہوسکتی ہیں۔ دہشت گردی سعودی عرب سمیت پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے اور ہمیں مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنا ہوگی۔
دہشت گردی کا تعلق صرف مشرق وسطیٰ یا کسی ایک ملک کے ساتھ نہیں۔ اس ناسور سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کی ضروررت ہے۔ایک سوال کے جواب میں لبنانی صدر کا کہنا تھا کہ میں ریاض کے دورے پر سعودی قوم کے لیے محبت اور دوستی کا پیغام لے کرآیا ہوں۔ میں اس لیے آیا ہوں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے ابہام دور کیے جاسکیں۔لبنان کی داخلی صورت حال پر بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ لبنان اپنا داخلی توازن نہ صرف برقرار رکھے گا بلکہ زیادہ مستحکم اور مضبوط ہوگا۔ شام میں ہزاروں شہروں کی نقل مکانی کا بوجھ لبنان کو اٹھانا پڑا ہے۔
انتہائی قلیل مدت میں لبنان میں آبادی کے بوجھ میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شامی پناہ گزینوں کے بوجھ کے باوجود ہم شام میں تباہی و بربادی کے حامی نہیں بلکہ تنازع کا جلد سیاسی حل دیکھنا چاہتے ہیں۔واضع رہے کہ صدرمیشل عون سوموار کو اپنے دورہ سعودی عرب پر ریاض پہنچے تھے۔ صدر منتخب ہونے کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ سعودی عرب ہے۔
اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سمیت دیگر رہ نماو¿ں سے ملاقات سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ان کے ہمراہ سعودی عرب کا دورہ کرنے والے لبنانی رہ نماو¿ں میں وزیر برائےامور تارکین وطن جبرایل باسیل، وزیر تعلیم مروان حماد?، وزیرخزانہ علی حسن خلیل، وزیر دفاع یعقوب صراف، وزیر داخلہ وبلدیات نہاد المشنوق، وزیر برائے صدارتی امور بیار رفول، وزیر اطلاعات ملحم الریاشی، وزیر تجارت راید خوری، اور سعود عرب میں لبنان کے سفیر عبدالستار عیسیٰ شامل تھے۔
لبنانی صدر کے دورہ سعودی عرب کو نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب لبنان میں طویل کوششوں کے بعد صدر کا چناو¿ عمل میں لایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سعد حریری کی قیادت میں ایک نئی کابینہ تشکیل دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنانی وفد نے سعودی عرب میں حکام کے ساتھ بات چیت میں سعودی شہریوں کے لبنان سفر پر پابندیوں کے اٹھائے جانے اور دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی، دفاعی اور تجارتی تعلقات ماضی کی طرز پر بحال پر کرنےپر تفصیلی بات چیت کی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

یمن کی سعودی عرب کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے حملے کی دھمکی

صنعا(مانیٹرنگ ڈیسک )یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح نے سعودی عرب اور اس کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے