اتوار , 26 فروری 2017

علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی زندگی کا مختصر جائزہ

پیدائش : 25اگست 1934ء
جائے پیدائش: رفسنجانی ۔صوبہ کرمان ۔ایران
وفات : 8جنوری 2017ء (82سال)
والد کا نام : میرزا علی ہاشمی بصرمانی(کسان اور پستے کا روبار کرتے تھے)
والدہ کا نام : حاجی خانم ماہ بی بی ہاشمی
شریکہ حیات : عفت مراشی
بچے : محسن،فاطمہ،فائزہ،مہدی ،یاسر
تعلیم : ہاشمی رفسنجانی نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں موجود ینی مدرسہ سے حاصل کی۔ چودہ سال کی عمر میں رفسنجانی تعلیم مکمل کرنے کے غرض سے قم منتقل ہوئے اور وہاں کے حوزہ سے منسلک ہوگئے۔ان کے اساتذہ میں آیت اللہ حسین بروجردی،آیت اللہ روح اللہ خمینی ؒ،آیت اللہ شہاب الدین مرعشی نجفی اور آیت اللہ محمد حسین طباطبائی شامل ہیں۔
1961ء: میں رفسنجانی نے عملی طور پر سیاست میں قدم رکھا اور اپنے استاد آیت اللہ روح اللہ خمینی ؒ کے نقش قدم پر چل پڑے اور جلد ہی انکے قریب ترین حامیوں میں شمار ہونے لگے۔
رفسنجانی کو ایران میں امام خمینی ؒ کے حامیوں کے انتظامی اُمور کو سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
رفسنجانی کو شاہ ایران کے دور میں 7مرتبہ گرفتار کیا گیا ،اور انہیں 4سا ل 5 مہینے قید بھی کاٹنی پڑی۔
1980ء: ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد رفسنجانی اسلامی انقلاب کونسل کے رکن بنے۔ رفسنجانی اسلامی انقلاب کونسل کے طاقتور ارکان میں شمار ہوتے ہیں۔رفسنجانی کو انہی دنوں میں ڈپٹی وزیرداخلہ کا چارج سونپا گیااور بعد میں رفسنجانی نے وزیرداخلہ کا عہد سنبھالا۔
1988ء: ایران عراق جنگ کے آخر ی برس میں رفسنجانی ایرانی افواج کے کمانڈر مقرر ہوئے ،اس جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کا قوام متحدہ کی قرارداد قبول کرنے میں رفسنجانی کا اہم کردار تھا۔
1989-1980ء: اسلامی ایرانی مجلس شوریٰ کے صدر رہے (پہلے صدر ہیں)
1997-1989ء: ایرانی صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ (اسلامی جمہوری ایران کے چوتھے صدر)
2011-2007ء: خبرگان رہبری کونسل کے صدر کے عہدے پر فائز رہے (دوسرے صدر ہیں)
1989ءسے وفات تک : تشخیص مصلحت نظام کونسل کے صدر رہے۔
علی اکبر ہاشمی رفسنجانی 8جنوری 2017ء کو 82سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور یوں ایرانی اسلامی انقلاب کے ایک عظیم رہنما اور امام خمینی ؒ کے شاگرد اور قریبی ساتھی کا سفر زندگی اختتام پذیر ہوا۔
رفسنجانی کی وفات بلاشبہ ایران کے لیے ایک بڑا صدمہ ہےکیونکہ ایران کو اس عظیم مقام تک پہنچانے میں علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کا اہم قربانیوں بھرا کردار ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مسئلہ فلسطین ایران کی خارجہ پالیسی میں سرفہرست ہے: آیت اللہ موحدی کرمانی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک )تہران کے خطیب جمعہ نے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین، اسلامی جمہوریہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے