بدھ , 18 جنوری 2017

لشکر جھنگوی کی بقا پاکستان کی بقا کے لیے انتہائی خطرناک ہو تی جا رہی ہے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )لشکر جھنگوی اور القاعدہ کی شاخ اے کیو آئی ایس کے سلیپر سیلز کراچی میں پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں پر حملوں اور انہیں قتل کرنے میں ملوث ہیں۔بدھ کی شام کراچی کے علاقے گلشن جوہر میںایک پولیس کانسٹیبل اقبال محمد کے قتل اور پانچ ستارہ چونگی پر ٹریفک کانسٹیبل بشیر رمضان پر قاتلانہ حملوں میں یہی گروپ ملوث پائے گئے ہیں۔
یہ سلیپر سیلز نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران بلکہ شیعہ اور بوہرا کمیونیٹیز پر حملوں کی بھی ذمہ دار ہے۔گزشتہ ہفتے ہی لشکر جھنگوی اور جما عت الاحرار سے جڑے چھ دہشت گردوں کو تھانہ غربی کراچی میں سے گرفتار کیا گیا ہے۔جن کا ٹارگٹ رزاق آباد پولیس ٹریننگ سنٹر ‘ ایس ایس پی راؤ انوار ‘ ٹریفک کے اہلکار اور کراچی کے پولیس آفیسر تھے۔
یاد رہے کہ کراچی میںپولیس ٹریننگ کیمپ کر حملے میںبھی لشکر جھنگوی ملوث تھی جس میں159 اہلکار جان کی بازی ہار گئے تھے۔ لشکر جھنگوی نہ صرف کئی پولیس والوں پر حملوں بلکہ امام بارگاہوں اور مساجد پر بھی حملوںمیںملوث ہے۔یہ وہی گروپ ہے جس نے امریکہ صحافی ڈینیل پرل اور کراچی میں امریکی تیل کمپنی کے ملازمین کو قتل کیا تھا اور اسی گروپ نے کابل میں شیعہ کمیونٹی کے 55 افراد کو قتل کر دیا تھا۔ دہشت گردی کی ان بدترین کارروائیوں کے باوجود لشکر جھنگوی پاکستان میںسرعام کارروائیاں کر رہی ہے حالانکہ پاکستان نے اس تنظیم پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
حکومت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے بہت سارے نامور سیاستدان لشکر جھنگوی کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھتے ہیںاور انہی کے بل بوتے پر الیکشن میں فتح حاصل کرتے ہیں۔ لشکر جھنگوی کے سیاسی اثر رسوخ کے بارے میں اتنا کہنا کافی ہو گا کہ حال میںاس تنظیم کے بانی حق نواز جھنگوی کےبیٹے مسرور جھنگوی نے انتخابات میں فتح حاصل کی ہے۔لشکر جھنگوی کی بقا پاکستان کی بقا کے لیے انتہائی خطرناک ہو تی جا رہی ہے اور اب یہ گروپ تحریک طالبان سے بھی زیادہ بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ پاکستان کی حکومت کو یہ سمجھنا ہو گا کہ پاکستان کی بقا کے لیے لشکر جھنگوی کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔

یہ بھی دیکھیں

فوجی عدالتوں میں توسیع پر حکومت اور اپوزیشن میں تعطل برقرار

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی حکومت فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لیے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے