اتوار , 26 فروری 2017

پاناما لیکس اور نظام عدل

(تحریر:حسنین اشرف ایڈووکیٹ ہائی کورٹ)
ایک مشہور قانونی کہاوت ہے کہ ’’جج نہیں بولتے،ان کے فیصلے بولتے ہیں‘‘بحیثیت وکیل میں خود پاکستان کے نظام عدل کا حصہ ہوں۔ کافی عرصہ سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر پاناما لیکس کا ہنگامہ ہے اور لوگ اب آخری اُمید کے طور پر سپریم کورٹ پر نگاہین جمائے بیٹھے ہیں۔
پاناما لیکس پر کیا فیصلہ آتا ؟کون صحیح ہے، کون غلط؟یہ تو آنے والا وقت یا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی بتائے گا۔صرف چند مشاہدات ہیں جن کا ذکرکرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ پانامالیکس کے سامنے آنے پر دُنیا بھر میں ہنگامہ برپا ہوگیا اور دُنیا کے تمام ممالک میں اس کا شور ہوا لیکن اس شور کی آواز اب دُنیا کے کسی دوسرے ملک سے نہیں آرہی سوائے پاکستان کے۔جہاں پاناما لیکس دو فریقوں کے درمیان زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اسے پاکستان کے عوام کی بد قسمتی کہیںیاتقدیرکی ستم ظریفی کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک بلکہ تاریخ کے زیادہ تر ادوار میں بڑوں کی لڑائی میں ہمیشہ عوام ہی پستے رہےہیں۔
پاکستان کی تاریخ کو دہرانا اس مختصر مضمون میں ممکن نہیں مختصریہ کہ عوام نے ہر نئے آنے والے لیڈر سے اور انصاف اور نیب جیسے اداروں سے ہمیشہ توقعات وابستہ کیں لیکن سوائے مایوسی کے اور مزید بدحالی کے کچھ ہاتھ نہ آیا ۔ایک بار پھر قوم اُسی موڑپر آگئی ہے جب وہ سپریم کورٹ ،نیب، حکومت، سیاسی اور مذہبی قائدین اور دیگر اداروں بشمول پاک فوج کے، اُمید بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے کہ قوم کو مسائل کے اس گرداب سے کون نکالے گا؟پانامالیکس یقیناًایک اہم ایشو ہے کیونکہ اس میں پاکستان کے سب سے طاقتور عہدے پر بیٹھنے والی شخصیت کے خاندان پر الزام ہے اور عدلیہ کو جلد از جلد انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کر کے قوم کو اس ہیجانی کیفیت سے باہر نکا لنا چاہیے۔
دوسری چیز پاناما لیکس پر فریقین کی میڈیا جنگ ہے اور معزز جج صاحبان کے ریمارکس پر تبصرہ کرنا ہے۔ کوئی بھی معاملہ جب عدالت میں زیرِ التواہو تو اس پر کسی قسم کا تبصرہ کرنا یا اُسے سیاسی رنگ دینا عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے مترادف ہے اور سپریم کورٹ کو خود اس چیز کا نوٹس لینا چاہیے اور سیاسی جماعتوں اور میڈیا کوسختی سے پابند کرنا چاہیے کہ سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ آنے تک اس پر کسی قسم کا تبصرہ نہ کیا جائے۔
تیسری اور سب سے اہم چیز یہ ہے کہ پانامالیکس کا فیصلہ نواز شریف کے حق میں یا مخالفت میں آنے کی صورت میںاس کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
کیا اس فیصلے سے طیبہ جیسی بچیوںپرتشدد رک جائے گا؟
کیا اس فیصلے کے بعد نیب بڑےبڑے مجرموں کو پلی بارگین کے قانون تحت پیسے لے کر چھوڑنے کی بجائےجیلوں میں بند کرنا شروع کردے گی؟
کیا ریلوے کے محکمہ میں کراچی ،لودھراں اور گوجرانوالہ جیسے حادثات ہونا بند ہوجائیں گے؟
کیا قصور کی زہرہ بی بی کی والدہ کی ٹھنڈے فرش پر موت جیسے واقعات پھر نہیں ہوں گے؟
کیا پاکستانیوں کو صحت ،تعلیم روزگار ،رہائش ، بجلی ،گیس اور مہنگائی جیسے مسائل سے نجات مل جائے گی؟
کیا کالعدم تنظیم کے رہنمائوں کو آزادی سے کام کرنے اور جلسے جلوس کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی؟اور کیا سلمان حیدر جیسے پڑھے لکھے اور درد دل رکھنے والے افراد کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کی پاداش میں غائب نہیں کروایا جائے گا؟اور کیا دہشت گرد قانون کے شکنجے میں آئیں گے اور مظلوموں کو انصاف مل سکے گا؟
یہ ایک لمبی فہرست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس ہی روندی جاتی ہے؟موجودہ نظام بوسیدہ ہوچکا ہے،گل سڑ چکا ہے،اس میں نواز شریف اور شہباز شریف کے بعد پنجاب میں حمزہ شہباز اور مریم نواز ہی آسکتے ہیں،سندھ میں بھٹو کے وارث ہی سندھ پر حکومت کریں گے یا پھر کوئی اور جنرل ضیاء اور جنرل مشرف آ جائے گا۔
اگر اس ملک کا نظام بدلنا ہے تو سب سے پہلے اداروں کی تطہیر کرنی ہوگی،عدلیہ کو آزادنہ فیصلے کرنے ہوں گے،کرپٹ حکمرانوں سے جان چھڑانا ہوگی، قائداعظم کے فرمان کے مطابق ’’اتحاد،ایمان ،تنظیم‘‘ پر پوری یکسوئی سے عمل کرنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر اسلام کے اصولوں کے تحت اخوت اور رواداری کے تحت معاشرے کو بنیاد پرستی ،انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ جذبہ حب الوطنی کے تحت پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے مقابلہ کرنے کیلئے مذہب، فرقے،خاندان ،نسل ،زبان اور علاقے کی تفریق سے بالاتر ہو کر اسلامی اتحاد اور پاکستانی قوم ہونے کا ثبوت دیناہوگا۔
خدانخواستہ!اگر ہم یہ سب نہ کر سکے تو پھر جس طرح سرے محل ،سوئس اکائونٹس، مشرف پر آرٹیکل 6،ماڈل ٹائون سانحہ اور ڈان لیکس، پانامالیکس جیسے واقعات ہوتے رہیں گے اورچند دن کے شور شرابے کے بعد لوٹ مار کا نظام جاری رہے گا۔ عوام اسی طرح بدسے بدتر حالات کا شکار ہوتی رہے گی اور قوم کے یہ نام نہاد مسیحا ،صرف 2 یا 4 فیصد خاندان ،جدہ ،دبئی ،لندن اور سوئٹرز لینڈ میں اپنے بچوں کے اثاثے بڑھاتے رہیں گےاور بار بار چہرے بدل کر 90 فیصد سے ذیادہ عوام کودین، فرقہ، علاقہ اور زبان کی بنیاد پر آپس میں لڑاتے رہیں گے اور اسی طرح ہم پر حکومت کرتے رہیں گے۔
۔ پانامالیکس کیس کے مسقتبل کے حوالے سے ایک شعر پر مضمون ختم کرتا ہوں!
دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
آغاز بھی رسوائی ، انجام بھی رسوائی!

یہ بھی دیکھیں

برطانیہ کا داعش کو 20 ملین پائونڈ دینے کا قصہ

برطانیہ میں آجکل ایک اسکینڈل گردش میں ہے اور وہ یہ کہ برطانیہ نے 20ملین برطانوی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے