اتوار , 26 فروری 2017

سعودی عرب کا غرور سمجھ سے بالاتر

(تسنیم خیالی)

سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی روان ماہ کی 8تاریخ کو وفات پاگئے ان کی وفات پر جہان دنیا بھر سے تعزیت کی گئی ہے وہیں خلیجی ریاستیںامارات، کویت ،بحرین، قطر اور عمان نے اختلافات کے باوجود ایرانی صدر حسن روحانی کو تعزیت پیش کی،تعزیت پیش کرنے والے کوئی اور نہیں انہیں ممالک کے سربراہان ہی تھے۔ مگر خلیجی ریاستوں میں سے ایک نے تا حال تعزیت پیش نہیں کی یہ ملک کوئی اور نہیں سعودی عرب ہے۔
سعودی عرب کی اس غیر اخلاقی حرکت نے سعودی عرب کے چہرے سے ایک اور نقاب اٹھادیا ہے۔ ایران کے عمان کے علاوہ تمام خلیج ریاستوں سے اختلافات ہیں اور یہ اختلافات چھوٹے نہیں بلکہ بڑے معاملات میں ہیں۔ اس کے باوجود اماراتی صدر شیخ خلیفہ ،بحرینی فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ قطر کے امیرتمیم حمد اور کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح نے بزات خود ایرانی صدر حسن روحانی کو تعزیتی پیغام بھیجا مگر سعودی عرب کے شاہ سلمان نے نہ جانے کس غرور و تکبر کے تحت ایسا نہیں کیا۔
ہاشمی رفسنجانی ہمیشہ ہمسائیوں سےاچھے تعلقات کے قائل رہے اور ان کے متعدد سعودی شخصیات کیساتھ اچھے تعلقات بھی تھے اور رفسنجانی کے حوالے سے یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ وہ ان شخصیات میں شمار ہوتے تھے جو ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرسکتے تھے ۔ان سب حقائق اوررفسنجانی کی خلیجی ریاستوں کے حوالے سے فراخ دلی کے باوجود سعودی عرب نے رفسنجانی کی وفات پر تعزیت پیش نہیں کی۔ میں یہاں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ سعودی عرب کو تعزیت کرنی چاہیے یا نہیں نہ ہی سعودی عرب سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ تعزیت پیش کرے۔ہاں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ سعودی عرب نے اپنے غرور اور تکبر کے باعث ایران کیساتھ جاری کشیدگی کو کم کرنے کا موقع ضائع کرلیا،سعودی عرب کو اگر اخلاقی طور پر نہیں تو کم از کم سیاسی طور پر تو ایران سے تعزیت کرنی چاہیے تھی(کیونکہ سعودی عرب اخلاقیات کو ماننے سے قاصر ہے)۔ایران اور امریکہ کی دیرینہ دشمنی سے سبھی واقف ہیں اسکے باوجود امریکہ نے بھی اپنے دفتر خارجہ کے ذریعے ایران کو رفسنجانی کی وفات پر تعزیت پیش کی۔ مگر سعودی عرب اپنے آقا امریکہ سے بھی اخلاقیات یا پھر سیاست کا سبق حاصل نہیں کرسکا۔ سعودی عرب کی اس حرکت سے کئی باتیں واضح ہوتی ہیں۔
۱۔ سعودی عرب کے نظام میں کوئی ایسا شخص نہیں جسکے بارے میں یہ کہا جاسکے کہ وہ عقلمند سمجھدار شخص ہے۔
۲۔ سعودی عرب مشکل حالات اور سیاسی ناکامیوں کے باوجود اب بھی اکڑ اور غرور میں بیٹھاہوا ہے۔
۳۔ سعودی عرب ایران کیساتھ اختلافات کو کم یا ختم کرنے میں دلچسپی نہیں لیتا۔
۴۔ سعودی عرب کی غیردانشمندانہ پالیسیوں سے باقی پڑوسی خلیجی ریاستیں تنگ ہیں۔
ایک بات تو حقیقت ہے اور وہ یہ کہ سعودی عرب حقیقتاً اپنے ہاتھ سے ایران کیساتھ تعلقات بہتر کرنے کا موقع گنوا بیٹھا ہےاور سعودی عرب کے لئے یہ کوتاہی کافی حد تک نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے سعودی عرب ایران کیساتھ تعلقات میں مزید خرابی برداشت نہیں کرپائیگا اور اس نقصان سے بچنے کے لیے سعودی عرب کو اپنی خارجہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا پڑے گا وگرنہ سعودی عرب کی ڈوبتی ہوئی کشتی اور تیزی سے ڈوب جائیگی۔

یہ بھی دیکھیں

ایک اور حادثہ

(خورشید ندیم) ہم پہ ایک اور بڑا حادثہ گزر گیا۔ اس وجہ سے نہیں کہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے