جمعہ , 14 مئی 2021

امریکی بنیادی ڈھانچے کی تیسری دنیا کے معیار تک تنزلی

(بقلم: مہدی پور صفا) 

(ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی)

سابقہ رپورٹس میں امریکہ کے اندرونی مسائل کے اسباب و عوامل اور عالمی سطح پر امریکی طاقت کی تنزلی میں ان کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ ان مسائل میں سے کچھ بڑے عجیب و غریب نظر آتے ہیں جن کی امریکہ جیسے طاقت کے دعویدار ملک سے توقع نہیں کی جاسکتی۔
امریکہ کو درپیش مسائل میں سے ایک، اس ملک کے قومی ڈھانچوں کی فرسودگی اور گھساوٹ ہے۔

*امریکہ کا بنیادی ڈھانچہ رو بہ ویرانی ہے
حقیقت یہ ہے کہ چین کا بنیادی ڈھانچہ ویران ہورہا ہے لیکن چین ساتھ ساتھ نئے ہوائی اڈوں، موٹرویز، پلوں، وغیرہ کی تعمیر کا بھی اہتمام کررہا ہے؛ جاپان ـ اور اب چین بھی ـ جدید ترین تیز رفتار ریلوے نظام کے مالک بن چکے ہیں جبکہ امریکہ یہ سب بیسویں صدی سے تعلق رکھتے ہیں۔

صرف چین میں جدید تیز رفتار ریلوے سسٹم کا جال پچاس ہزار کلومیٹر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ امریکہ میں تیزرفتار ٹرین کے لئے ایک کلومیٹر پٹڑی بھی نہیں بچھائی جاسکی ہے، [کیونکہ وہاں جدید اور تیز رفتار ریلوے کا وجود ہی نہیں ہے]۔ بیجنگ اور شنگھائی کے ہوائے اڈے جاذب نظری اور کارکردگی کے لحاظ سے نیویارک اور واشنگٹن کے ہوائی اڈوں سے کئی عشرے آگے اور ترقی یافتہ ہیں اور ان دو اہم امریکی شہروں کے ہوائی اڈوں کی ظاہری صورت اور انتظامی کیفیت تیسری دنیا کے ہوائی اڈوں کی تصویر پیش کررہی ہے۔ علامتی لحاظ سے یہ حقیقت کہ چینی ـ اگرچہ ابھی چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں وہی پرانے اور بدوی معاشرے کو تشکیل دے رہے ہیں مگر ـ اس وقت ڈھانچوں کی تعمیر میں جدتوں کے لحاظ سے امریکیوں سے بہت آگے ہیں اور اس کی قابل دید مثالیں دی جاسکتی ہیں۔

سول انجینئروں کی امریکی سوسائٹی (American Society Of Civil Engineers [ASCE]) نے سنہ 2009ع‍میں بنیادی امریکہ میں رائج بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا اوسط اسکور 50 سے 55 فیصد یا D قرارد یا۔ مثال کے طور پر ہوائی جہازوں کو D، ریلوے کو C-، شاہراہوں کی تعمیر کو D- اور توانائی کے شعبے کو D+ اسکور دیا۔ شہری تعمیر نو کی رفتار بہت سست تھی اور امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سمیت بہت سارے شہروں میں ایسے ویرانے موجود ہیں جن میں کوئی رہائشی نہیں دکھائی دیتا؛ یا غرباء کے مسکن کے طور پر ایسی بہت سی عمارتیں جو ویرانوں سے شباہت رکھتی ہیں، اور یہ سب ایک "سماجی بھول” کی علامت ہے۔

آپ اگر شدید جھٹکے کھانے والی بظاہر "تیز رفتار” امریکی ریل گاڑی پر بیٹھ کر نیویارک سے واشنگٹن کا سفر اختیار کریں تو گاڑی کی کھڑکیوں سے آپ امریکہ کے بنیادی ڈھانچے میں شدید جمود کا نظارہ کرسکیں گے جبکہ پوری بیسویں صدی کے دوران امریکی کی ذاتی خصوصیت کے عین مطابق، پورے ملک میں تعمیر و ترقی کا سفر کبھی رکتا نہیں تھا۔

کارآمد معیشت نیز اقتصادی ترقی کے لئے جدید تنصیبات اور تسلی بخش ڈھانچے ـ جو کہ ایک قوم کی عمومی حرکت پذیری (Dynamism) کی علامت ہے ـ کی ضرورت ہے۔ تاریخی لحاظ سے ترقی یافتہ قوموں کی منظم اور منصوبہ بند کامیابی کے بارے میں رائے دینے کے لئے ان اقوام کے بنیادی ڈھانچے کی نقشہ کشی اور طرز تعمیر کو بنیاد بنایا کیا ہے اور ان کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کیا کیا گیا ہے؛ جن میں رومیوں کی سڑکوں اور آب پاشی کے لئے کاریزوں کے سلسلوں سے لے کر برطانویں کے ریلوے نظام جیسے امور کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔ امریکی بنیادی ڈھانچہ آج ـ جدیدترین معیشت کی علامت ہونے کے بجائے ـ ایک ایسی سابقہ طاقت کی باقیماندہ علامت ہے جو اس وقت ویرانی کی طرف گامزن ہے۔ امریکی ڈھانچے کی بتدریج ویرانی ناگزیر طور پر ـ کسی دن ـ امریکی معیشت کا ما حصل متاثر ہوگا۔ ممکن ہے کہ یہ اثرات اس وقت ظاہر ہوجائیں جب نئی ابھرتی ہوئی طاقتوں کے ساتھ اس کا مقابلہ شدید تر اور وسیعتر ہو۔ جس دنیا میں ـ قوی امکان کے مطابق ـ امریکہ اور چین کے درمیان منظم رقابت میں شدت آئے گی، تو جو بنیادی ڈھانچہ بتدریج تباہ ہورہا ہے، امریکیوں کی کمزوری اور سستی کی علامت کے طور پر ابھرے گی اور اب امریکیوں کو توقع ہے کہ ٹرمپ سعودیوں کو بلیک میل کریں اور سعودی سرمایہ کاروں کو امیرکہ میں سرمایہ کاری پر مجبور کرکے اس صورت حال کو سدھار دیں۔

*حتی کہ امریکی نقشے پر ایران اور عراق کو تلاش نہیں کرسکے
شاید آپ نے امریکیوں کی ناخواندگی اور لاعلمی کے سلسلے میں کئی لطیفے سنے ہونگے لیکن جان لیجئے کہ امریکیوں کی لاعلمی ایک حقیقت ہے۔
دوسری قوموں کے ابتدائی جغرافیے، حالیہ عالمی واقعات اور حتی کہ تاریخ کے نہایت اہم اور حساس لمحات کے سلسلے میں امریکی عوام دنیا کی معلومات بہت زیادہ کم اور محدود ہیں اورمعلومات کی یہ قلت امریکہ کے لئے تشویشناک ہے؛ اور ایسی حقیقت ہے جس کا ـ کم از کم ـ کچھ حصہ امریکہ کے سرکاری تعلیم و تربیتی نظام کی شدید کمزوری سے جنم لیتا ہے۔

سنہ 2002ع‍میں نیشنل جیوگرافک (National Geographic) نامی رسالے کے ایک سروے کے مطابق، 18 سے 24 سال تک کے 500 امریکی نوجوانوں میں سے چھ فیصد وہ تھے جو عالمی نقشے پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا نقش تلاش کرنے میں ناکام رہے؛ جبکہ کینیڈا، فرانس، جاپان، میکسیکو اور سویڈن کے اسی عمر کے اتنے ہی نوجوانوں امریکہ ہی کا ہی تلاش رہنے میں بہتر پوزیشن میں تھے۔ اسی رسالے کے 2006ع‍کے سروے کے مطابق 63 فیصد امریکی عراق کا نقشہ تلاش نہیں کرسکے تھے جبکہ 75 فیصد افراد ایران کا نقشہ نہیں ڈھونڈ سکے تھے جبکہ عالمی نقشے میں افغانستان کا نقشہ ڈھونڈنے میں ناکام ہونے والوں کی شرح 88 فیصد تھی۔

ان سروے رپورٹوں کا تعلق عین اسی زمانے سے ہے جب امریکہ عراق اور افغانستان میں اپنی نہایت مہنگی جنگوں میں مصروف عمل تھے۔ تاریخ کے سلسلے میں حال ہی میں ـ امریکی یونیورسٹیوں کے طلبہ سے ـ ہونے والے سروے کے مطابق، 50 فیصد امریکی طلبہ نیٹو کے قیام کے اسباب بتانے میں کامیاب ہوئے اور انھوں نے کہا یہ عسکری تنظیم کمیونسٹ روس کے فروغ کے آگے مزاحمت کی غرض سے معرض وجود میں آئی تھی اور بڑی عمر کے امریکی شہریوں میں سے 30 فیصد افراد ان دو ملکوں کا نام بتانے میں ناکام رہے جن کے خلاف امریکہ دوسری عالمی جنگ کے دوران لڑا ہے۔

علاوہ ازیں امریکہ معلومات عامہ کے سلسلے میں بھی دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی نسبت بہت پسماندہ ہے۔ نیشنل جیوگرافک کے سنہ 2002ع‍کے سروے کے مطابق، روزمرہ کے واقعات اور جغرافیائی معلومات کے سلسلے میں سویڈن، جرمنی، اطالیہ، فرانس، جاپان، برطانیہ، کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے نوجوانوں کی معلوماتی سطح کا موازنہ پیش کیا گیا ہے۔

اس سروے میں امریکہ آخر سے دوسرے نمبر پر آیا [یعنی نو ممالک کے درمیان آٹھواں نمبر امریکہ کا تھا] اور اس کا رتبہ سات ممالک کے بعد اور صرف پڑوسی ملک میکسیکو سے بہتر رہا۔

امریکی معاشرے میں نا آگہی کی اس سطح کا سبب یہ ہے کہ عام لوگوں کے لئے مفید معلومات پر مشتمل بین الاقوامی رپورٹیں امریکی عوام کو میسر نہیں ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کی لا علمی میں شدت آئی ہے۔ شاید پانچ بنیادی اخبارات، کچھ مقامی اخبارات اور امریکی ٹیلی ویژن عالمی واقعات کے بارے میں بہت محدود پیمانے پر خبریں شائع یا نشر کرتے ہیں۔ جو کچھ یہ ذرائع لوگوں کو خبروں کے طور پر دیتے ہیں بہت ہی غیر اہم مسائل، یا عوام کی پسندیدہ داستانوں، یا سنسنی خیز یا مصیبت انگیز داستانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان عمومی نا آگہیوں کا بڑھتا ہوا اثر یہ ہے کہ لوگوں کو خوف زدہ کرکے بآسانی اکسایا جاتا ہے اور فریب کارانہ ہیجان انگیزی کے ذریعے حکمران اشرافیہ کے مقاصد کے حصول کے لئے مستعد بنایا جاتا ہے، بالخصوص جب خوف پھیلانے کے لئے "دہشت گردی” کا حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح کا خوف لوگوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے امکان میں اضافہ کردیتا ہے۔

من حیث المجموع، عمومی نا آگہی ایسے عجیب سیاسی ماحول کے معرض وجود میں آنے کا سبب بن چکا ہے جو معاشرے کو سادہ لوح بنانے کے لئے زیادہ مناسب ہے اور سرد جنگ سے پیدا ہونے والے حالات کے نہایت پیچیدہ اور باریک و ظریف حقائق کے سمجھنے کے لئے ہرگز مناسب نہیں ہے۔ یہ صورت حال سب سے زیادہ امریکی کانگریس میں موجود سیاسی دلالوں کے کام آتی ہے اور وہ سب سے زیادہ [99 فیصد عوام کو سادہ لوح بنا کر ایک فیصد امریکی آبادی کے مفادات کےحصول کے لئے] اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر اپنا کام چلاتے ہیں۔

*امریکی سیاسی نظام امریکہ کے انحطاط و زوال کو آسان بنا دیتا ہے
شاید امریکی زوال کا ایک اہم عامل اس ملک کا سیاسی نظام ہے جس نے امریکہ کو اندرونی اور بیرونی لابیوں کا بازیچہ قرار دیا ہے۔ گوکہ اس مسئلے نے ایک ایسے سیاسی نظام سے جنم لیا ہے جو بہت حد تک ایک جماعت کی حمایت یا بہی خواہی کے نظام میں تبدیل ہوچکا ہے اور یہ نظام امریکہ کو اندھی گلی میں دھکیل رہا ہے۔

سیاسی مصالحتیں بہت تیزی سے نظرانداز ہونے لگی ہیں اور ان مصالحتوں سے علیحدگی کا عمل معمول بن چکا ہے۔ جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عمومی ذرائع ابلاغ ـ بالخصوص ٹیلی ویژن ـ، ریڈیو اور انٹرنیٹ کے سیاسی پیجز پر تقاریر کے پروگرام جماعت کے حامیوں کی چبھتی تقاریر کے لئے مختص ہیں۔

حالانکہ، عوام الناس، بہت سی زد پذیریوں سے ناواقف اور نا آگاہ ہیں [اور بچاؤ کی تدبیر کرنے سے عاجز ہیں] چنانچہ معاشرہ سیاسی طور پر مفلوج ہوجاتا ہے اور ایسا معاشرے مسائل کے حل کو قبول کرنے سے عاجز ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں، امریکی سیاسی نظام کی موجودگی اور پوری حیثیت، ـ جو سیاسی مہمات اور کمیپنیز میں زیادہ تر عوامی امداد سے وابستہ ہوتی ہے اور عوامی شراکت داری کی محتاج ہے ـ روزافزوں طور پر، ان اندرونی اور بیرونی سیاسی دلالوں کے کرتوتوں کے آگے غیرمحفوظ ہے جو بڑی بڑی رشوتیں دیتے ہیں لیکن ان کے محرکات بہت محدود ہیں اور ان کے پاس یہ استعداد موجود ہے کہ موجودہ سیاسی ڈھانچے سے اپنے مقاصد حاصل کرسکتے اور اس کے بدلے امریکہ کے قومی مفادات کو بڑی آسانی سے بڑے بڑے نقصانات پہنچا دیتے ہیں۔

امریکی جدید جاہلیت (یا Modern Ignorance) کے سانچے میں ـ جو ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے ـ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ کس قدر وہ دوسری اقوامی کی نسبت پسماندہ رہ گئے ہیں۔ امریکی عوام سمجھتے ہیں کہ یورپ اور چین جیسے ممالک پسماندگی کا شکار ہیں اور انہیں امریکہ کے سامنے سر تعظیم خم کرنا چاہئے۔ اور انہیں امریکہ پر نکتہ چینی کے نے سے اجتناب کرنا چاہئے۔

لیکن جیسا کہ کہا گیا ـ یہ ایک حقیقت ہے ـ کہ یورپ میں سماجی مساوات اور معاشی حرکت پذیری امریکہ سے بہت زیادہ ہے۔ اس کے باوجود کہ امریکہ ـ روایتی لحاظ سے مواقع کی سرزمین (Land of opportunities) کے عنوان سے ـ مشہور ہے، لیکن یورپ کے بنیادی ڈھانچے کے تمام شعبوں میں امریکہ کی نسبت بہت زیادہ ترقی کی ہے۔ یورپ میں عام آمد و رفت کے وسائل کو ماحولیات کے لحاظ سے دور اندیشانہ اصولوں کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے؛ اور یورپ کا تیزرفتار ریلوے نظام امریکہ کے نہایت خستہ حال ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، سڑکوں، پلوں وغیرہ سے کہیں زیادہ بہتر و برتر ہے۔ یورپی عوام جغرافیائی لحاظ سے زیادہ تعلیم یافتہ اور بین الاقوامی لحاظ سے زیادہ معلومات کے حامل ہیں اور خوف و دہشت (دائیں بازو کے انتہاپسند، قوم پرست اور نسل پرست جماعتوں کے ہوتے ہوئے بھی) نیز بین الاقوامی اقدامات کے آگے امریکیوں جتنے غیر محفوظ اور زدپذیر نہیں ہیں۔

*رقیبوں سے رقابت ثالث ملکوں کے ذریعے!
دوسری طرف سے، زیادہ تر لوگ چین کو مستقبل کی طرف حرکت کی علامت سمجھتے ہیں؛ لیکن چین سماجی لحاظ سے پسماندہ ہے جو ان ممالک کے مقابلے میں امریکہ کا اصلی رقیب نہیں بن سکتا جن کی حکومتیں زیادہ کامیاب ہیں اور ان کی باگ ڈور زیادہ کامیاب، جدید اور جمہوری حکومتوں کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اگر چین اپنے موجودہ راستے پر گامزن رہے اور ہر قسم کی سماجی اور معاشی بدنظمی کا سد باب کرسکے، تو وہ عالمی سطح پر اثر و رسوخ کے لحاظ سے امریکہ کا رقیب بن سکتا ہے؛ نہ صرف یہ بلکہ وہ امریکہ کا معاشی اور فوجی رقیب بھی بن سکتا ہے۔

امریکہ کو توقع ہے کہ بھارت کو چین کے اصلی رقیب کے طور پر لاکھڑا کرے۔ بھارت سیاسی اور معاشی معیاروں کے لحاظ سے مغربی ممالک سے زیادہ شباہت رکھتا ہے، اور کثرتیت پر مبنی جمہوریت سے بہرہ ور ہے۔

نیز ہندوستان کے پاس چین کی مخالفت اور رقابت کے لئے کچھ زیادہ ہی فوجی اور معاشی محرکات اور دلائل ہیں اور یہ دو ممالک سنہ 1950ع‍کی دہائی میں مختصر سی مدت کے لئے شدید قسم کی جنگ میں بھی الجھے رہے ہیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ دوسرے ممالک کی ترقی کی مدد سے اپنے رقیبوں کے ساتھ رقابت نہیں کرسکتا۔ امریکہ جلدی یا بدیر، کہ چین اور حتی کے یورپی ممالک کے مقابلے میں اس حقیقت کو قبول کرنے پر مجبور ہوگا کہ وہ عالمی سطح پر دوسرے ممالک کی نسبت کم مقبولیت کا حامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں جنگوں کا کردار کیا ہوگا اور امریکہ کی سامراجی سیاست اس ملک کی طاقت کے زوال میں کیا کردار ادا کرے گا؟( جاری ہے۔)

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …