جمعہ , 14 مئی 2021

پاک ترکی تعلقات میں نیا موڑ

پاکستان اور ترکی کے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات صدیوں پر محیط ہیں اور ان میں ہمیشہ بہتری کی نہ صرف گنجائش رہی ہے بلکہ عملی طور پر بھی دونوں ملکوں کی جانب سے اقدامات کئے جاتے رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ان دنوں ترکی کے دورے پر ہیں جہاں گزشتہ روز انہوں نے قونیہ میں عالم اسلام کی عظیم ہستی مولانا رومی کے مزار پر حاضری دی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم ترکی کیساتھ اپنے مثالی برادرانہ تعلقات پر فخر کرتے ہیں اور اس تعلق کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ ترکی سے تاریخی’ تہذیبی اور ثقافتی تعلقات صدیوں پر محیط ہیں۔ پاکستان کے عوام قونیہ کے لوگوں سے گہری محبت کرتے ہیں اور مولانا جلال الدین رومی کی بہت تعظیم کرتے ہیں۔

مولانا رومی کے روحانی پیغامات نے تمام مذاہب اور ہر شعبۂ زندگی کے افراد کو انسانیت میں متحد کرنے میں کردار ادا کیا۔ پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال بھی مولانا جلال الدین رومی کے روحانی شاگرد تھے جبکہ مولانا کی صوفیانہ تصنیفات روحانی موضوعات پر شاہکار اور لازوال ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ترکی کے صدر طیب اردگان کی دعوت پر دو روزہ دورے پر دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے گئے ہیں اور ان سطور کے شائع ہونے تک وہ واپس پاکستان آچکے ہوں گے۔ اس دورے کے دوران دونوں ملکوں کے مابین کیا کیا معاہدات طے پاتے ہیں یہ تو بعد میں پتہ چل جائے گا تاہم جہاں تک دونوں ملکوں کے تعلقات کا تعلق ہے تو برصغیر کے مسلمانوں نے انگریز عملداری میں ہوتے ہوئے بھی جس طرح ترکی میں خلافت کیخلاف مغربی استعماری قوتوں کی سازشوں کیخلاف نہ صرف آواز بلند کی بلکہ حقیقی معنوں میں دامے’ درمے’ سخنے مدد کی اسی وقت سے ہی ترکی عوام کے دلوں میں برصغیر کے مسلمانوں کیلئے تشکر اور محبت کے جذبات موجزن ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد دونوں ملکوں کے مابین بھی برادرانہ تعلقات ہمیشہ قائم رہے جبکہ آر سی ڈی کے نام سے پاکستان’ ایران اور ترکی کے مابین دوستانہ برادرانہ تعلقات ایک نئی بلندی کو چھوتے نظر آتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ تنظیم بعد میں ختم ہوگئی تھی مگر پاکستان اور ترکی کے باہمی تعلقات پر کبھی کوئی آنچ نہیں آئی۔ اب ایک بار پھر دونوں ملکوں نے ان تعلقات کو فروغ دینے پر توجہ دی ہے تو امید ہے کہ یہ تعلقات نئی بلندیوں کا مظہر بن کر اُبھریں گے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …