جمعہ , 14 مئی 2021

تھائی لینڈ میں گرفتار سعودی لڑکی کا معاملہ دیکھنے میں کچھ دن لگیں گے، اقوام متحدہ

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ میں گرفتار سعودی لڑکی کا معاملے دیکھنے میں مزید کچھ دن لگیں گے جبکہ آسٹریلین حکومت نے لڑکی کی حفاظتی پناہ لینے سے متعلق درخواست کو عالمی ادارے کے فیصلے سے مشروط قرار دیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بنکاک میں موجود اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے حکام نے تھائی لینڈ حکومت کی جانب سے سعودی لڑکی رحاف محمد القنون کو ملک بدر نہ کرنے کے فیصلے کو سراہا۔

اس معاملے کو حل کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بنکاک میں یو این ایچ سی آر کے نمائندے گُسیپی ڈی وینسینٹی نے بتایا کہ ادارے کو یہ معاملہ دیکھنے اور مزید اقدامات اٹھانے میں مزید کچھ دن لگ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ تھائی لینڈ پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کا دستخط کنندہ نہیں ہے اور یہاں غیر ملکیوں کو ملک بدر کر دیا جاتا ہے یا پھر کسی تیسرے ملک میں معاملہ طے ہونے تک اپنے ملک میں رکھا جاتا ہے، لیکن مستقل رہائش نہیں دی جاتی.

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے زور دیا کہ جو لوگ پناہ لینے کی غرض سے تھائی لینڈ آئیں تو انہیں ملک بدر نہ کیا جائے.اے ایف پی کے مطابق جب بنکاک میں موجود سعودی سفارتخانے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے جواب نہیں دیا.

تاہم سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سعودی سفارتخانے نے رحاف محمد القنون سے کسی بھی سفارتکار کی ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا خاندان کویت میں رہتا ہے اور وہ کویت سے یہاں آئی ہیں.

سفارتخانے نے بتایا کہ رحاف محمد القنون کا پاسپورٹ ضبط نہیں کیا گیا ہے جبکہ سفارتخانہ اس معاملے میں سعودی حکام سے رابطے میں ہے جبکہ سعودی حکام ان کے والد کو تمام صورتحال سے آگاہ کریں گے.ایک اور سعودی حکام نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ رحاف کے والد نے سعودی سفارتخانے سے رابطہ کیا ہے اور اپنی بیٹی کو واپس لانے کے لیے مدد بھی مانگی.

سعودی لڑکی رحاف محمد القنون کی درخواست پر غور کررہے ہیں،آسٹریلوی حکومت
ادھر آسٹریلوی حکومت نے رحاف محمد القنون کی پناہ سے متعلق درخواست پر نظرثانی کرنے کا عندیہ دے دیا.اے ایف پی کے مطابق آسٹریلیا کے محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو حفاظتی پناہ کی درخواست موصول ہوئی ہے جس پرکارروائی جاری ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ اس وقت اقوامِ متحدہ کے پاس ہے تاہم جیسے ہی عالمی ادارہ کسی نتیجے پر پہنچے گا تو سعودی لڑکی کی درخواست پر غور کرنے کا عمل شروع ہوجائے گا.

رحاف محمد القنون کون ہے؟
18 سالہ رحاف محمد القنون اپنے اہلخانہ کے ہمراہ کویت کی سیاحت پر تھیں جہاں سے وہ بنکاک کے راستے آسٹریلیا جانے کی کوشش میں گرفتار ہوئیں۔اپنے اہلخانہ کی جانب سے قتل کیے جانے کے خطرے سے دوچار رحاف نے کہا تھا کہ ’میں نے مذہب سے متعلق کچھ باتیں کیں اور مجھے خوف ہے کہ سعودی عرب واپس بھیجنے کی صورت مجھے قتل کردیا جائے گا‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی سفارتخانے نے ان کا پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے لیا جس پر آسٹریلیا کا ویزا موجود ہے‘۔امیگریشن حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ’رحاف شادی کی خواہش مند نہیں اور اسی لیے اپنے اہل خانہ سے راہ فرار اختیار کی اور اب انہیں سعودی عرب واپس جانے پر تحفظات ہیں‘۔بعدِازاں امیگریشن پولیس کے سربراہ نے کہا تھا کہ آسٹریلیا میں پناہ کی خواہشمند لڑکی کو کچھ وقت کے لیے تھائی لینڈ میں داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …