جمعہ , 14 مئی 2021

چینی قونصلیٹ حملے کا اصل منصوبہ

کراچی کے ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر امیر احمد نے جمعہ کے روز پریس کانفرنس میں بتایا کہ اسپیشل سیکورٹی یونٹ اور دیگر ونگزنے حساس اداروں کے تعاون سے چینی قونصل خانے پر حملے کے 5سہولت کار بھاری اسلحے سمیت گرفتار کئے ہیں ۔ملزموں کا تعلق بی ایل اے سے ہے جبکہ حملے کا منصوبہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایما ءپر افغانستان میں بنایا گیا۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور چین کے اشتراک سے تکمیل کے مراحل طے کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک )پاکستان کے روشن مستقبل کا ضامن ہے ۔ یہ اک ایسا گیم چینجر منصوبہ ہے جس سے طاقت کا توازن بھی چین اور پاکستان کے ہاتھوں میں آجائے گا۔ کون نہیں جانتا کہ دنیا میں اس وقت جو کشمکش ہے، اسے کوئی بھی نام دے دیا جائے، دراصل یہ معاشی استحکام کی مسابقت ہے۔ تسلیم کہ اس منصوبے کے زیادہ فوائد چین کو حاصل ہوں گے لیکن پاکستان اس منصوبے سے اس قدر معاشی استحکام ضرور حاصل کر لے گا کہ اسے دوسرے ملکوں سے امداد کی ضرورت نہ رہے گی۔

سی پیک کی اسی اہمیت کے پیش نظر اس کے بارے میں نہ صرف منفی پروپیگنڈا کیا گیا بلکہ اس کی راہ روکنے کیلئے شرانگیزی بھی کی جارہی ہے۔پاکستان میں صوبائی تعصب پھیلانے کی مذموم سعی کی گئی تو پاک چین تعلقات خراب کرنے کیلئے اس منصوبے پر کام کرنے والےبعض چینی انجینئرز کو قتل اور اغوا کیا گیا۔نومبر 2018میں کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ، جس کی ذمہ داری بلوچ علیحدگی پسند گروہ بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی، بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے،تاہم یہ تمام تر تخریبی کارروائیاں پاک چین تعلقات کو اس لئے متاثر نہ کر سکیں کہ دونوں ملکوں کے علم میں ہے کہ کون کون اس منصوبے کے درپے ہے۔

لہٰذا منصوبے کی تکمیل کے عزم میں کوئی چیز حائل نہ ہوئی۔چینی قونصل خانے پر حملے کے سہولت کاروں کی گرفتاری ایک احسن پیش رفت ہے ، جس سے چین بھی مطمئن ہوگا اور پاکستان دشمن عناصر بھی جان لیں گے کہ ان کی کسی بھی حرکت پر انہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …