ہفتہ , 25 مارچ 2023

ٹوئٹر پر ایران پر تنقید کے بعد اسرائیل پر تابڑ توڑ ’میم‘ حملے

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے پیر کو شام میں ایرانی اہداف پر حملے کرنے کی سرکاری طور پر تصدیق کی تھی۔ اسی دن اسرائیلی فوج کے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاوئنٹ سے ایران کو ایک ایسا پیغام بھیجا گیا جس کے جواب میں صارفین نے میمز کی بوچھاڑ کر دی۔

اسرائیلی ڈیفنس فورس یا آئی ڈی ایف نے اپنی ٹویٹ میں ایک نقشہ دکھایا، جس پر ایک تیر کا نشان شام کی جانب ہے اور اس پہ لکھا ہے ’ایران جہاں ہے‘ اور اس کے ساتھ متعدد تیر ایران کے اپنے رقبے پر لگے ہوئے ہیں جن پر لکھا ہے ’جہاں ایران کو ہونا چاہیے‘۔اس نقشے کے ساتھ لکھی عبارت میں کہا گیا ہے: ’ایران، لگتا ہے تم بھٹک گئے ہو۔ یہ لو‘۔

بضاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے یہ پیغام موبائل پر ڈوڈل کر کے اپنے ’بھٹکے ہوئے‘ ساتھی کو وٹس ایپ کیا ہے تاکہ وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکیں، لیکن دراصل یہ ایک سنجیدہ تنبیہ تھی کہ ایران شام میں مداخلت بند کرے اور وہاں سے نکل جائے۔

لیکن شاید اسرائیلی فوج کو اس کا اندازہ نہیں تھا کہ انھوں نے ایسا کر کے طبل جنگ بجا دیا اور وہ بھی ایک ایسی جنگ جس میں کسی قسم کی رحم اور رعایت نہیں برتی جاتی اور بدقسمتی سے جنیوا کنونشن میں بھی کوئی شق اس سے بچت نہیں کرواتی: یہ ہے میمز کی جنگ۔

جان براؤن نامی صارف نے جواباً ایک نقشہ پیش کیا جس میں اسرائیلی فوج کی نقل اتارتے ہوئے ایک تیر اسرائیل کے نقشے پر ڈالا، جس کے ساتھ لکھا ہے ’اسرائیل کو جہاں ہونا چاہیے‘ اور اس کے ساتھ متعدد تیر کے نشان فلسطینی آبادی والے علاقوں کی جانب دے کر لکھا: ’اسرائیل جہاں ہے۔‘

بات مشرقِ وسطیٰ تک ہی نہ محدود رہی۔ ابراہیم نامی صارف نے ایک ایسا ہی متنازع نقشہ دکھایا جہاں بہت سارے تیر یورپ کے گرد لگے ہیں، جن پر لکھا ہے ’اسرائیلی کہاں سے آئے‘ اور ایک تیر موجودہ اسرائیل کی جانب ہے جس پر لکھا ہے ’وہ جہاں سے آنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔‘ایک اور صارف نے موقعے کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل کے اتحادی امریکہ کو بھی نہ بخشا۔

ان کے شیئر کیے گئے نقشے میں ایک تیر امریکا کی جانب لگا ہوا ہے اور اس پر لکھا ہے ’امریکا کو کہاں ہونا چاہیے‘ اور ڈھیر سارے تیر اندھا دھند دنیا کے نقشے پر اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے ہیں جن کے ساتھ لکھا ہوا ہے ’امریکا جہاں ہے۔‘

یہ بین الاقوامی ’میم جنگ‘ جاری تھی کہ ایک صارف نے اپنی ذاتی زندگی کی مایوس کن حالت ایسے بیان کی کہ ایک تصویر میں خوبصورت ریزورٹ کا منظر ہے جہاں وہ (اور ہمیں بھی) ہونا چاہیے، جبکہ دوسری تصویر میں ان کی موجودہ صورت حال ہے۔یہ جنگ ابھی بھی ٹویٹر پر جاری و ساری ہے اور متعدد ممالک اور سیاست دان ان تیروں کی آڑ میں آ چکے ہیں۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب اور شام کے درمیان مذاکرات کا آغاز

ریاض:سعودی عرب اور شام نے کونسلر سروسز کی بحالی کے لیے مذاکرات شروع کردیئے ہیں۔ سعودی …