ہفتہ , 15 مئی 2021

وینزویلا بحران : “فیس بک” امریکی اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار قرار

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے وینزویلا کے اپوزیشن لیڈر گوائڈو کو نکولس مادورو کی جگہ صدر تسلیم کرنے کے بعد پیداشدہ حکومتی بحران کے بعد روسی پارلیمنٹ کے اسپیکر ویاچسلاف وولودین نے فیس بک کی طرف سے اپوزیشن لیڈر کے فیس بک اکاؤنٹ کو نیلا بیج دیے جانے کو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی چال قرار دے دیا۔

گزشتہ دنوں وینزویلا کی سوشلسٹ حکومت اس وقت سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو گئی جب اپوزیشن لیڈر گوائڈو نے خود کو صدر قرار دیدیا، امریکا اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک نے حزب اختلاف کے رہنما کو صدر تسلیم کر لیا، ملک میں اپوزیشن کے مظاہروں سے 13 افراد بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی دوران وینزویلا کے منتخب صدر نکولس مادورو نے امریکی سفارت خانہ بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔امریکا نے وینزویلا کی سیاسی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تو روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے امریکا کو تنبیہ جاری کی کہ وہ وینزویلا کے اندرونی معاملات میں مداخلت نا کرے۔

تاہم ان تمام عالمی ہتھکنڈوں کے بعد معاملہ اس لحاظ سے حساس ہو گیا ہے کہ اس میں دنیا کے سب سے بڑے سوشل انجن فیس بک کی مداخلت کے شواہد بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔

روسی پارلیمنٹ کے اسپیکر ویاچسلاف وولودین نے فیس بک کو امریکا کی خارجہ پالیسی کا آلہ کار قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیس بک اکاؤنٹ کی تصدیق کے بعد ملنے والا نیلا بیج وینزویلا میں سیاسی مداخلت کے لیے استعمال ہوا ہے۔

روسی میڈیا کے مطابق روسی اسپیکر کا کہنا ہے کہ ہمیں اس بات پر حیرانی ہے کہ حقیقی صدر نکولس مادورو کے فیس بک اکاؤنٹ سے تصدیقی نیلا بیج ختم کر دیا جاتا ہے اور اپوزیشن لیڈر گائڈو کو وہ نیلا بیج عنایت کر دیا جاتا ہے، جو اس بات کی تصدیق کر رہا ہے کہ فیس بک انتظامیہ امریکی عزائم کا ساتھ دے رہی ہے۔فیس بک نے سوشل میڈیا پر گردش کرتی اس خبر کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مادورو کے اکاؤنٹ کو کبھی نیلا بیج دیا ہی نہیں گیا۔

واضح رہے قبل ازیں بھی فیس بک پر امریکی الیکشن میں مداخلت کا الزام لگ چکا ہے جس کی وجہ سے فیس بک کے سی ای او مارک زکر برگ کو کئی گھنٹے کی طویل تفتیش بھی بھگتنی پڑی تھی، اور مارک زکر برگ نے مبینہ طور پر ڈیٹا لیک کرنے کے حوالے سے امریکی کانگریس سے معذرت بھی کی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …