جمعرات , 2 دسمبر 2021
تازہ ترین

سعودی عرب نے شام میں اپنا سفارت خانہ کھولنا قبل از وقت قرار دے دیا

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں جاری خانہ جنگی کے پیش نظر سعودی عرب نے وہاں اپنا سفارت خانہ کھونا قبل از وقت قرار دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے شام میں عسکریت پسندی کے خاتمے اور امن کی فضا بحال نہ ہونے تک اپنا سفارت خانہ نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی وزیر خارجہ عادل الجیبر نے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف سے ملاقات کی اور شام کے موضوع پر مفصل تبادلہ خیال کیا۔دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے کہنا تھا کہ شام میں عسکریت پسندی اور دہشت گردوں کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ شام میں سفارت خانہ کھولنا وہاں سیاسی عمل میں پیشرفت پر بھی منحصر ہے، حالات کے مطابق مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

شام میں سنگین صورت حال کے پیش نظر سعودی عرب نے مارچ 2012 میں شامی دارالحکومت دمشق میں اپنا سفارت خانہ بند کرتے ہوئے تمام سفارتی عملے کو وطن واپس بلا لیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں سعودی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ عالمی برادری شام کا بحران ختم کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ شام کی خود مختاری اور یکجہتی کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور غیرملکی فورسز کو وہاں سے دور کردیا جائے گا، عالمی برادری بھی شام کا بحران ختم کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی سیکریٹری دفاع کی ہائپرسونک ہتھیاروں کیلئے چین کی کوششوں پر تنقید

سیول: امریکی سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے ہائپر …