اتوار , 20 جون 2021

کالعدم تنظیموں کو این آر او دیا جارہا ہے، بلاول بھٹو

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو اپنی منزل کا تعین خود کرنے دیا جائے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارتی جارحیت کا نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ گجرات کا قصاب کشمیریوں کا قتل عام کررہا ہے، بھارت کے اقدامات غیر منصفانہ اور ظالمانہ ہے۔اس موقع پر انہوں نے دشمن کا طیارہ گرانے پر پائلٹ حسن صدیقی اور پاک فضائیہ کو خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے ان سپاہیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے جام شہاد نوش کی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مودی پر دہشت گردی کے باعث امریکہ داخلہ پر پابندی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے، بچوں کو بیلٹ گنوں سے بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے، ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ کسی اپوزیشن رکن نے وزیراعظم عمران خان کو ملک کے لیے سیکورٹی رسک قرار نہیں دیا۔ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں خودکش حملہ وہاں کے مقامی نوجوان نے کیا، کشمیریوں کو ان کا حق دیں تو وہاں خود ہی امن آجائے گا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاک فضائیہ نے ثابت کردیا کہ بہترین فضائیہ ہے، بھارتی جارحیت کے خلاف قوم متحد ہو گئی۔انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ملک کی فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہ ہوسکا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی، بھارتی جارحیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، دنیا مودی کو نہیں لیکن گجرات کے قصاب کو جانتی ہے، نہتے کشمیریوں کے خلاف پیلٹ گن استعمال کی جا رہی ہے۔دلچسپ بات یہ دیکھنے میں آئی کہ بلاول بھٹو زرداری اپنی تقریر کے دوران مسلسل اپنے اسمارٹ فون کا استعمال کرتے رہے۔

’بھارتی پائلٹ کو واپس کرنے میں جلدی کی گئی‘
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بھارتی پائلٹ کو واپس کرنے میں جلدی کی۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وزیراعظم کو نوبل انعام دینے کی قرارداد جمع کروائی گئی، اگر یہ ایوان میں منظور یا مسترد ہوتی تو پاکستان کی جگ ہنسائی ہونی تھی، اچھا ہے کہ قرارداد واپس لے لی گئی، حکومت نے ایک اور یو ٹرن لے لیا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت نے او آئی سی اجلاس میں شرکت نہ کرکے غلطی کی، ہم نے اجلاس میں پاکستان کا موقف پیش کرنے کا موقع ضائع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کو این آر او دیا جارہا ہے، ان پر جے آئی ٹی کیوں نہیں بنائی گئی؟ ہم کیوں نیشنل ایکشن پلان (نیپ) اور ایف اے ٹی ایف پر بھرپور عملدرآمد نہیں کر رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف بھرپور کاروائیاں کرنا ہوں گی، سانحہ اے پی ایس کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، امید ہے کہ اب اس پر مکمل عملدرآمد ہو گا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے کیا تبدیلی آئی؟ بجلی گیس کے بلوں میں اضافہ ہوا، مہنگائی کا بم گرایا گیا اور یہ سب کچھ عوام دوست بجٹ کے نام پر کیا گیا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کوئی وزیر خزانہ سے کہے کہ کسی غریب کے گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں، کیسے کوئی غریب اپنے گھر کا نظام چلا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پاکستان کو خودمختار معیشت بنانا ہوگا، موجودہ حکومت نے ملک کی معیشت کی بہتری کے لئے کچھ نہیں کیا، ملک کا جاری خسارہ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان جنوبی پنجاب فاٹا کے لئے اس بجٹ میں کچھ نہیں، ہمیں کئی طرح کے بحرانوں کا سامنا ہے، آج کے فیصلوں کو نوجوانوں کو بھگتنا ہوگا، ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کی خوشحالی کے لئے کام کرنا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

کابل میں پھر دھماکے، آٹھ افراد جاں بحق، شیعہ ہزارہ نشانے پر

کابل: افغانستان کے دارالحکومت میں جمعرات کو ہونے والے دو الگ الگ بم دھماکوں میں …