پیر , 26 فروری 2024

الجزائر کا سیاسی بحران

(تحریر: احمد کاظم زادہ)

الجزائر میں چند ہفتے قبل شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ ابتدا میں ایسا دکھائی دیتا تھا کہ مظاہرین کا مطالبہ صرف اس حد تک ہے کہ موجودہ صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ اپریل میں منعقد ہونے والے آئندہ صدارتی الیکشن میں شریک نہ ہوں لیکن اب واضح ہو گیا ہے کہ ان کا مطالبہ اس سے زیادہ وسیع ہے۔ حکومت مخالف مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر بوتفلیقہ موجودہ حکومت کو توڑ کر ایک عبوری حکومت تشکیل پانے کا مقدمہ فراہم کریں تاکہ آئندہ الیکشن نگران حکومت کے زیر سرپرستی منعقد ہو سکیں۔ حکومت کی جانب سے ان کا یہ مطالبہ مان لینے کا امکان بہت کم ہے کیونکہ حکومت، فوج اور حساس ادارے اس کے خلاف ہیں اور ان کے خیال میں ایسی صورت میں ملک میں بدامنی اور انارکی پھیلنے کا خطرہ موجود ہے۔ اگرچہ ممکن ہے حکومت مخالف رہنما یہ تصور کریں کہ حکومت اور فوج کی جانب سے ایسی وارننگ کا مقصد احتجاجی مظاہروں کو دبانے کیلئے مناسب جواز فراہم کرنا ہے لیکن بعض ایسے شواہد بھی موجود ہیں جن کی روشنی میں یہ وارننگ حقیقت پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔

الجزائر اور سوڈان سمیت بعض عرب ممالک میں عوامی احتجاج کا نیا سلسلہ رونما ہونے سے کئی ماہ پہلے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم سے وابستہ حلقوں جیسے بگین سادات تھنک ٹینک نے ان عوامی تحریکوں کے بارے میں وارننگ جاری کر دی تھی۔ اسرائیل کی جانب سے مختلف ممالک میں اٹھنے والی عوامی تحریکوں کو اپنے حق میں استعمال کرنے پر مبنی تاریخی تجربات کی روشنی میں اسرائیلی حلقوں کی یہ وارننگ قابل غور ہے۔ مثال کے طور پر اسرائیلی میڈیا نے سوڈان میں انجام پانے والے احتجاجی مظاہروں کی بھرپور حمایت جاری رکھی ہوئی ہے جس کا مقصد خرطوم پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کرنے کیلئے دباو ڈالنا ہے۔ اگرچہ سوڈان کے برعکس اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے الجزائر میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے بارے میں محتاطانہ رویہ اختیار کیا ہے لیکن اسرائیل کے اتحادی ممالک جیسے امریکہ اور سعودی عرب یہ کام انجام دے رہے ہیں اور الجزائر میں حکومت مخالف عناصر کی حمایت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف یورپی یونین نے اس مسئلے میں محتاطانہ رویہ اپنا رکھا ہے۔ سعودی میڈیا جو براہ راست سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے کنٹرول میں ہے الجزائر میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں ہو ہوا دے رہا ہے۔

موجودہ حالات میں الجزائر میں جاری حکومت مخالف تحریک کا کوئی واضح مستقبل تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تمام سیاسی رہنما اپنے اقدامات کے دلائل پیش کر رہے ہیں اور کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نظر نہیں آتا۔ دوسری طرف الجزائر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے والی بیرونی قوتوں کے مفادات میں بھی ٹکراو پایا جاتا ہے۔ لہذا اس بات کا قومی امکان موجود ہے کہ الجزائر میں پیدا ہونے والا سیاسی بحران طولانی ہو جائے گا۔ ایسے حالات میں الجزائر کے قومی مفاد کیلئے سب سے بہترین راہ حل یہ ہے کہ حکومت اور مخالفین آپس میں مل بیٹھ کر مفاہمت کے ذریعے کسی سمجھوتے پر پہنچ جائیں اور بیرونی قوتوں کو مزید مداخلت کی اجازت نہ دیں۔ یہ طریقہ کار الجزائر کیلئے سب سے زیادہ آسان اور کم اخراجات والا طریقہ ثابت ہو گا۔ اس وقت ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں اندرونی اختلافات نے بیرونی مداخلت کی راہ ہموار کر دی ہے جس میں وینزویلا کا نام لیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیرونی قوتیں اپنے مخصوص مفادات کو ہی مدنظر قرار دیتی ہیں اور مداخلت کا شکار ہونے والے ملک کے قومی مفادات کی ان کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

دوسری طرف خود اسرائیل اور امریکہ اس وقت شدید اندرونی خلفشار اور سیاسی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے حکام ایک مشترکہ پالیسی پر گامزن ہیں اور وہ اندرونی مسائل اور مشکلات سے اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے دنیا کے مختلف حصوں میں مصنوعی بحران ایجاد کرنے پر مبنی ہے۔ عام طور پر امریکہ اور اسرائیل مشرق وسطی خطے کو ہی اپنی اس پالیسی کا نشانہ بناتے ہیں جس کا نتیجہ خطے میں بدامنی اور جنگ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے دائیں بازو کے سیاست دان ایک تیر سے دو نشانے لگانے کے درپے ہیں کیونکہ وہ ایک تو خطے میں بدامنی پھیلاتے ہیں اور دوسرا اس بدامنی کے نتیجے میں مہاجرین کا سیلاب امڈ کر پوری ممالک کا رخ کرتا ہے جو ان کا دوسرا نشانہ ہے۔ لہذا امریکہ اور اسرائیل کی ان سازشوں سے بچنے کیلئے خطے کے ممالک کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ اپنے اختلافات آپس میں ہی باہمی مفاہمت سے حل کئے جائیں اور امریکہ اور اسرائیل کو مداخلت کا موقع فراہم نہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں بہترین مثال تیونس کی ہے۔ تیونس نے باہمی اختلافات اندرونی سطح پر ہی حل کرنے کا بہترین ماڈل پیش کیا ہے جسے خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مریم نواز ہی وزیراعلیٰ پنجاب کیوں بنیں گی؟

(نسیم حیدر) مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج …