جمعہ , 3 دسمبر 2021
تازہ ترین

2014 سے اب تک سنکیانگ سے 13ہزار ’دہشت گردوں‘ کو گرفتار کیا، چین

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک)چین نے انکشاف کیا ہے کہ مسلمان اکثریتی خطے سنکیانگ سے 2014 سے اب تک 13ہزار دہشت گرد قرار دیے گئے افراد کو گرفتار کر کے سینکڑوں دہشت گروپوں کو نیست و نابود کردیا گیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق سنکیانگ کی صورتحال پر حکومتی رپورٹ میں یہ اعدادوشمار پیش کیے گئے جہاں 10لاکھ سے زائد آبادی کے حامل صوبے میں ایغور اور دیگر مسلم برادری کو حراستی مراکز میں رکھے جانے پر بڑھتی ہوئی تنقید کو دیکھتے ہوئے حکومت نے رپورٹ طلب کی تھی۔

چین کی جانب سے کئی ماہ تک حراستی مراکز کی موجودگی کا انکار کیا جاتا رہا ہے لیکن عالمی دباؤ کے بعد چین نے ان حراستی مراکز کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں عارضی ٹریننگ سینٹر قرار دیا تھا۔ابھی تک چین کی جانب سے اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں کہ ان حراستی مراکز میں کتنے لوگ موجود ہیں اور انہیں کب تک وہاں رکھا جائے گا۔چین کا کہنا ہے کہ یہ ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز ہیں جس میں لوگ رضاکارانہ بنیادوں پر شریک ہوتے ہیں۔

ان حراستی مراکز سے نکلنے والے افراد کا کہنا ہے کہ انہیں انتہائی بری حالت میں رکھا جاتا ہے اور اسلام چھوڑ کر چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ناقدین بھی یہی الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کیمپوں میں اقلیتی ایغور مسلمانوں کو مذہب ترک کرنے اور چینی معاشرے کو اپنانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔چین کے مغربی علاقے میں مقامی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی نگرانی کی جاتی ہے اور انہیں ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ سنکیانگ میں 2009 میں ہونے والے خونی فسادات کے بعد چین نے وہاں کی مسلم برادری کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا تھا اور انہیں حکومت کے حراستی کیمپوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔تاہم چین کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ لوگ ان ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز میں انتہا پسند خیالات سے چھٹکارے کے لیے آتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی نسلی تعصب کے خاتمے کے لیے قائم کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ 10 لاکھ سے زائد ایغور اور دوسری مسلم اقلیتوں کے افراد چین کے صوبے سنکیانگ میں جنگی قیدیوں کے کیمپوں میں رکھے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی کمیٹی نے رپورٹ میں اس تعصب کو ’خطرناک’ قرار دیا تھا کہ سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں کہ کتنے افراد طویل عرصے سے ان کیمپوں میں قید ہیں یا کتنے افراد کو سیاسی تعلیمی سینٹر میں مختلف وقت گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔چین نے اس رپورٹ کے رد عمل میں کہا تھا کہ ایغور مسلمانوں سے متعلق رپورٹ انسداد دہشت گردی کے تناظر میں بنائی گئی ہے جو حقائق کے منافی ہے۔

ایغور کون ہیں؟
چین کے جنوبی صوبے سنکیانگ میں مسلم اقلیتی برادری ‘ایغور’ آباد ہیں جو صوبے کی آبادی کا 45 فیصد ہیں۔سنکیانگ سرکاری طور پر چین میں تبت کی طرح خودمختار علاقہ کہلاتا ہے۔گزشتہ کئی عرصے سے ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ایغور سمیت دیگر مسلم اقلیتوں کو سنکیانگ صوبے میں قید کرلیا جاتا ہے لیکن چین کی حکومت ان خبروں کو مسترد کررہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی سیکریٹری دفاع کی ہائپرسونک ہتھیاروں کیلئے چین کی کوششوں پر تنقید

سیول: امریکی سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے ہائپر …