اتوار , 28 نومبر 2021

امریکا-طالبان مذاکرات: امن عمل میں افغان حکومت کا شامل ہونا لازمی ہے:زلمے خلیل زاد

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں ممکنہ طور پر شرکت کرنے والے افغان سیاستدانوں کے بڑے وفد میں افغان حکومت کے نمائندوں کی شرکت کا امکان ہے۔ سفارتی ذرائع نے نجی چینل کو بتایا کہ افغان حکومت کے نمائندے افغان سیاستدانوں کے اس بڑے وفد میں شامل ہوسکتے ہیں، جو ممکنہ طور پر اپریل کے وسط میں دوحہ میں طالبان اور امریکا کے مذاکرات میں شرکت کرے گا۔

اس حوالے سے طالبان کے ساتھ امریکی مذاکرات کے سربراہ زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ امن عمل میں افغان حکومت کا شامل ہونا لازمی ہے۔تاہم طالبان مسلسل افغان حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کرتے آرہے ہیں۔ادھر واشنگٹن میں سفارتی مبصرین کہتے ہیں کہ اس معاملے کو حل کرنے کا ایک طریقہ ہے کہ افغان سیاستدانوں، قبائلی عمائدین، خواتین اور دیگر کے بڑے وفد میں حکومتی نمائندے شامل ہوں۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کی جانب سے اب بھی طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت کا اصرار کیا جاسکتا ہے لیکن لگتا ایسا ہے کہ امریکا کی طرف سے طالبان کو اس بات پر قائل کرنا کامیاب نہیں ہوسکتا۔

علاوہ ازیں فارن پالیسی نیوز ویب سائٹ پر شائع ایک مضمون میں افغانستان کے سابق نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی نے بھی افغان حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ افغان عوام کے واحد نمائندہ ہونے پر اصرار نہ کریں۔

انہوں نے لکھا کہ ’ افغان حکومت اپنے طور پر طالبان کے ساتھ امن قائم نہیں کرسکتی، پورے افغانستان کی نمائندگی کرنے والے ایک جامع گروپ جس میں صرف سینئر سیاستدان شامل نہ ہوں وہ ہی دیرپا معاہدے تک پہنچنے کا واحد طریقہ ہے‘۔خیال رہے کہ سابق نائب وزیر خارجہ نے گزشتہ ہفتے کابل میں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے بھی ملاقات کی تھی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغان صدر اشرف غنی کی حکومت’سینئر افغان سیاستدانوں کی اکثریت سے دور ہوئی اور کنارہ کشی اختیار کرلی‘ ساتھ ہی ’ملک میں اقتصادی اور سیکیورٹی صورتحال میں بہتری میں بھی یہ ناکام ہوگئی‘ ہے۔

سابق نائب وزیر خارجہ نے لکھا کہ افغان حکومت کو چاہیے کہ اب وہ ’قومی مذاکرات ٹیم کے قیام اور امن اور مفاہمت کے لیے اجتماعی کوششوں کو مضبوط کرنے‘ کے اقدامات کی حمایت کرے۔

قبل ازیں رواں ہفتے امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے کئی اہم افغان سیاست دان اور حکومتی حکام سے ملاقات کی اور ان سفارشات کے ساتھ ساتھ دیگر پر بھی تبادلہ خیال کیا۔صدر اشرف غنی، سی ای او عبداللہ عبداللہ اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقات کے بعد مختلف ٹوئٹس میں زلمے خلیل زاد نے جامع اور بین الافغان مذاکرات کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

یہ بھی دیکھیں

القاعدہ اگلے ایک سال میں افغانستان سے امریکا پر دوبارہ حملہ کر سکتی ہے، امریکی انٹیلی جنس

واشنگٹن: امریکی انٹیلی جنس اداروں نے وارننگ جاری کی ہے کہ القاعدہ ایک سال کے …