اتوار , 20 جون 2021

سری لنکا کے مذہبی حالات اور سانحۂ کولمبو

(سید جواد حسین رضوی)

21 اپریل سری لنکا میں مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر مختلف دھماکوں میں 359 کے قریب افراد ہلاک ہوئے جبکہ تقریباً پانچ سو کے قریب زخمی ہیں۔ سری لنکا کے حکام نے ان حملوں کی ذمے داری لوکل سری لنکن تنظیم نیشنل توحید گروپ پر ڈالی ہے، جو ایک چھوٹی سی علاقائی تنظیم ہے۔ اس حوالے سے حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے کہ کس طرح یہ چھوٹا سا گروہ اس قدر منظم کارروائی کرسکتا ہے اور اس کے پیچھے محرکات کیا تھے؟ اس سلسلے میں ہمیں سب سے پہلے سری لنکا کے مذہبی حالات کو سمجھنا ہوگا۔

سری لنکا کی کم و بیش نو فیصد آبادی مسلمان ہے۔ یہ مسلمان صدیوں سے سری لنکا میں رہتے آرہے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ سری لنکا کے مسلمان جنوبی ایشیا کے ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے، تو غلط نہ ہوگا۔ بنو امیّہ کے دور میں ہی مسلمان عرب تاجر سمندر کے راستے بھارت کے جنوبی علاقوں مالابار و کیرالہ اور سری لنکا کے سواحل پر لنگر انداز ہوتے گئے۔ بہت سے عرب ان علاقوں میں بس گئے اور مقامی افراد میں گھل مل گئے۔ ان تاجروں کی وجہ سے بہت سے مقامی افراد نے اسلام قبول کیا۔ محمد بن قاسم کے حوالے سے جو کہانی بتائی جاتی ہے، اس میں سراندیپ (موجودہ سری لنکا) سے سمندری تجارتی قافلوں پر ڈاکو حملہ کرتے ہیں، جن کو راجہ داہر پناہ دیتا ہے۔ گویا سندھ کے فتح ہونے سے پہلے سری لنکا میں مسلمانوں کی آبادی موجود تھی۔

سری لنکا کے ساحلوں میں تجارت مسلمانوں کے ہاتھ میں رہی ہے۔ یہ مسلمان تاجر گرم مصالحے اور دیگر بہت سی اشیا کی تجارت کیا کرتے تھے۔ لیکن مسلمانوں کا یہ امتیاز پرتگیزیوں کی آمد کے بعد ختم ہوا۔ اسپین اور پرتگال میں اسلامی ریاست کے خاتمے اور عیسائیت کے غلبے کے بعد، وہاں کے جہاز راں دنیا بھر میں تجارت و اقتدار کے لیے لنگر انداز ہوتے رہے۔ ان میں سے ایک جہاز راں واسکو ڈی گاما 1498 میں ہندوستان تک کا بحری سفر ایک عرب تاجر کے دیے ہوئے نقشے کی مدد سے طے کرتے ہوئے جنوبی ہندوستان کی بندرگاہ کالی کٹ پہنچا۔ اس کے بعد پورے خطے کے سمندروں میں پرتگیزیوں کی اجارہ داری قائم ہوئی۔
ان پرتگیزیوں نے سری لنکا کی مسلمان آبادی جو متمول تھی اور تجارت کے پیشے سے منسلک تھی، کے خلاف قتل و غارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے تجارتی تفوّق چھین لیا۔ یہ مسلمان سری لنکا کے اندرونی علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ کینڈی کے راجہ سنارات نے مسلمانوں کی مشرقی علاقوں میں بسنے میں مدد کی۔ اسی لیے آج سری لنکا کے مشرقی علاقوں میں مسلمانوں کی غالب آبادی ہے۔ یہ مسلمان زیادہ تر تامل زبان میں بات کرتے ہیں اور اکثر شافعی و حنفی مسالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب سری لنکا ڈچ کالونی بنا تو ملایا (موجودہ ملائیشیا) اور جاوا (انڈونیشیا) سے بہت سے مسلمان سری لنکا آباد ہوئے، کیونکہ یہ تمام علاقے اس وقت ڈچ کالونی تھے۔ یہ ملائی سری لنکن آج بھی ملائی زبان میں بات کرتے ہیں اور اکثریت شافعی مسلک کی پیرو ہے۔

سری لنکا کے مسلمانوں میں صوفی تعلیمات کی گہری چھاپ ہے، متعدد صوفی سلسلے صدیوں سے رہے ہیں۔ البتہ حالیہ دور میں تصوف کے خلاف باقاعدہ مہم چلی، جس کے نتیجے میں چند سال قبل سری لنکن مسلمانوں میں مسلکی جھگڑے نمایاں ہوئے۔ ان ہی سخت گیر تعلیمات کے نتیجے میں سری لنکا کی توحید جماعت وجود میں آئی۔ جس پر آج ان حملوں کی ذمے داری عائد کی جارہی ہے۔ یہ جماعت 2017 میں بدھ مت کے پیروکاروں کے خلاف حملوں میں ملوث رہی، اور مہاتما بدھ کے متعدد مجسموں کے چہرے مسخ کیے۔ ان حرکتوں کی وجہ سے بدھ مت کے پیروکاروں کے دل میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال میں اضافہ ہوا۔

ان چھوٹی موٹی کارروائیوں کے باوجود یہ جماعت اس قابل نہیں کہ اس قدر منظم طریقے سے حملے کرسکے۔ بی بی سی کے مطابق سری لنکا میں تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ڈائریکٹر ایلن کینن نے بتایا کہ توحید گروپ وہی گروہ معلوم ہوتا ہے جو مانیوالا بدھ مندر توڑ پھوڑ میں ملوث تھا۔ سری لنکا کے صدر میتھری پال سریسینا نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ غیر ملکی دہشتگردوں کے تعاون کے بغیر یہ حملے ممکن نہیں۔

دوسری طرف داعش نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔ لیکن ماہرین اس دعوے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ عراق اور شام میں بدترین شکست کے باوجود داعش مکمل ختم تو نہیں ہوئی لیکن سمندر پار اس قسم کی منظم سرگرمیوں کی قابل نہیں رہی۔ افغانستان میں طالبان سے پھوٹے چند چھوٹے چھوٹے گروہ داعش کا دم بھرتے ہیں لیکن یہ محض افغانستان تک محدود ہیں۔ البتہ بعض مسلمان سری لنکن نوجوانوں پر داعش کے انتہاپسند نظریات کے اثرات عین ممکن ہیں۔

سری لنکن حکام ان حملوں کی منصوبہ بندی میں ظہران ہاشم کا نام لے رہی ہے، جو نیشنل توحید گروپ کا سربراہ تھا۔ ظہران ہاشم 2017 سے دیگر مسلمان فرقوں کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے پولیس کو مطلوب تھا اور تب سے مفرور تھا۔ ظہران کے علاوہ 8 مزید افراد کے نام لیے جارہے ہیں، جن میں دو سری لنکن مسلمان تاجر محمد یوسف ابراہیم کے بیٹے تھے۔

حکام کے مطابق سری لنکا حملے نیوزی لینڈ کے سانحے کا جواب تھے۔ سری لنکا بھر سے غیر ملکیوں سمیت درجنوں افراد کو پکڑا گیا ہے، جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، ان میں شامی اور مصری باشندے بھی شامل ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف غلیظ پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی کہ ان واقعات میں پاکستان ملوث ہے، تاہم سری لنکن حکام نے اس الزام کی پرزور تردید کی اور پاکستان کو سری لنکا کا دیرینہ دوست کہا۔

یہ صورتحال تب دلچسپ ہوئی جب ظہران ہاشم کے متعلق یہ انکشاف ہوا کہ وہ کافی عرصہ بھارت میں روپوش رہا اور تامل ناڈو میں تربیت حاصل کرتا رہا۔ ظہران ہاشم خود بھی سری لنکن تامل تھا۔ اس سے ہمیں اس کنکشن کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو سابقہ ایام میں تامل ٹائیگرز کے را کے ساتھ رہے ہیں۔ بھارت نے تاحال اس پر موقف دینے سے گریز کیا ہے، تاہم اس انکشاف کو اہم پیشرفت سمجھا جارہا ہے۔

اس حوالے سے کسی عالمی گیم کے خدشے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ نیوزی لینڈ حملوں کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوئے تھے، اور وہ امیج جو ابتر تھا بہتر ہونے لگا تھا۔ ممکن ہے کہ بعض عناصر نے سری لنکا میں یہ حملے کروائے تاکہ اپنے تئیں اسلام کا مکروہ چہرہ پیش کیا جاسکے۔

گزشتہ دنوں سری لنکا کی ایک بندرگاہ کو چین کو تحویل دیے جانے پرامریکا نے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا، ممکن ہے کہ سری لنکا کے امن و امان کو پھر سے تباہ کرنے کی غرض سے یہ دھماکے کروائے گئے ہوں۔

اس وقت سری لنکا کی مسلمان آبادی اضطراب کا شکار ہے، جنہیں برسوں سے بدھ انتہا پسندوں کی طرف سے سخت شکایات رہی ہیں۔ جبکہ ان تمام برسوں میں سری لنکا کی مسیحی آبادی کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات اچھے تھے کیونکہ دونوں اقلیت میں ہیں۔ اب اس واقعے کے بعد مسیحی برادری کے دلوں میں شکوک و خدشات کا اضافہ یقینی ہے۔ ملک بھر میں مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے، کیونکہ مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے کسی حملے کا خدشہ موجود ہے۔ مسلمان رہنماؤں نے حملہ آوروں کی لاشیں لینے اور نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سری لنکا کی مسلمان آبادی نے اس دکھ کی گھڑی میں اپنے مسیحی بھائیوں کے ساتھ ہمدردی کا بھی اظہار کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو اس حوالے سے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم مرنے والے کا مذہب دیکھ کر افسوس کرتے ہیں۔ سانحۂ نیوزی لینڈ کے موقع پر تمام مسلمان ماتم کناں نظر آئے، لیکن اس کا عشر عشیر بھی سانحۂ سری لنکا کے موقع پر نظر نہیں آیا۔ پورا عالم اسلام نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا شکرگزار نظر آیا، لیکن ہم میں سے کسی نے جیسنڈا کے پیغام کا ادراک نہیں کیا۔ جیسنڈا نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا تھا کہ تمام ناحق مرنے والے ہمارے اپنے ہیں، اور کبھی بھی مرنے والے کا مذہب دیکھ کر افسوس نہ کیا جائے بلکہ انسانیت کے ناتے ہم سب کو مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے۔ لیکن جیسنڈا کو یہ کون سمجھائے کہ ہم مرنے والے کا ’’مسلک‘‘ بھی دیکھتے ہیں، مذہب تو بعد کی بات ہے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

بلیک ستمبر: کیا 1970 میں فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ میں ضیاالحق بھی ملوث تھے؟

عابد حسین اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری حالیہ تنازع پر دنیا بھر کے مختلف …