اتوار , 20 جون 2021

اصلاحات کے باوجود ہم کیوں ڈوب رہے؟

(بریگیڈیئر (ر) محمود الحسن سید)

موجودہ حکومت بھاری اکثریت سے انتخابات میں کامیاب ہوئی۔مورخہ 20اگست 2019میں نئی کابینہ نے حلف اُٹھایا۔اگر پچھلے تقریباً آٹھ ماہ کے دوران اس حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے توصورت حال زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔اس ضمن میں حقائق درج ذیل ہیں۔

۱۔ 20اگست 2018کو ڈالر پاکستانی کرنسی کے مطابق122(ایک سو بائیس) روپے کا تھا۔جو کہ اس وقت 144(ایک سو چوالیس ) روپے ہو گیا۔بقول اس حکومت کے ہماری درآمدات اور برآمدات کی مد میں بہتری آتی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ پھر روپے کی قیمت کیوںاس قدر گرتی جا رہی ہے۔۲۔اگست2018میں کل گردشی قرض 1.14ٹرلین تھا جو اب بڑھ کر جنوری میں 137 دنوں میں 260بلین یعنی تقریباً 2(دو)بلین روزانہ کے حساب سے بڑھا۔سوال یہ ہے کہ اگر ENERGY TASK FORCEُٓاپنا کام صحیح طور پر انجام دے رہی ہے تو ایسا کیوں ہوا؟ ۳۔ PAK BUREAU OF STATISTIC (PBS) 2018ٰٓ کی ایک رپورٹ کے مطابق INFLATION یعنی پہلے مہنگائی سالانہ 5.8(پانچ عشاریہ آٹھ ) فیصد بڑھتی تھی۔لیکن مارچ2019 میں 9.4% (نو عشاریہ چار)کے حساب سے بڑھی۔بقول اس حکومت کے اگر ہماری معیشت صحیح خطوط پر استوار ہے توعام استعما ل کی اشیاء کی قیمتوں میں پچھلے سال کی مقابلے میں اتنا زیادہ اضافہ کیوں ہوا؟

۴۔ جنوری 2019 میں 8.794گیس یونٹ کا بل فی یونٹ 2,184 کے حساب سے مجھ سے لیا گیا۔جبکہ جنوری 2019 میں میںنے 10794یونٹ گیس استعمال کی جس کا بل 6,195فی یونٹ لیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ میرا گیس کا بل جو جنوری 2018 میں 22,628سے بڑھ کر جنوری 2019میں 66.840 کیوں بڑھ گیا۔اب کی اطلاعات کے مطابق گیس کمپنیوں نے مزید 14%اضافے کا جو کہا ہے 1جولائی 2019سے لاگو کرنے کا عندیہ دیا گیا۔ اوراگر گیس کمپنیاں اپنا کام ایمانداری اور احسن طریقے سے کر رہی ہیں۔ تو گیس کی قیمتیں آسمان کو کیوں پہنچ رہی ہیں۔27اگست2018 کو ہمارے وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ ہم نے ـ”کیبنٹ کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں FBRمیں اصلاحات کرنے کیلئے اقدامات پیش کئے گئے ہیں” لیکن 18مارچ 2019 کو NEWS اخبار کے مہتاب حیدر نے کہا کہ ایک بہت ”پریشان کن صورت حال پیدا ہو گئی ہے جو کہ اس محکمے کے شروع ہونے کے بعدسے سب سے زیادہ گھمبیر ہے۔ جس کے تحت بینکوں میں اس وقت 485.9 بلین کی کمی ہو گئی ہے۔ اگر بقول حکومت FBR ا صلاحات کی جا رہی ہیں۔ توتشکیل میں اتنی زیاد ہ تا خیر کیوں واقع ہوتی ہے۔ کیا اس کا ملبہ بھی ہم پچھلی حکومت پر ڈال سکتے ہیں۔ جہاں تک ملک میں کاروبار ی افراد کاحکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا سوال ہے تو 20اگست 2018 میں KSE- 100انڈیکس 42,245 پوائنٹ تھا لیکن اب تک اس انڈیکس 5000پوائنٹ کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ جو کہ پاکستانی روپے میں ایک ٹریلین اور 7بلین ڈالر بنتا ہے۔ اور اتنی ہی رقم اب IMFسے حاصل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ اگر بقول اس حکومت کے کاروباری افرادکا حکومت پر اعتماد بحال ہوا ہے تو سٹاک مارکیٹ اتنی تیزی سے کیوں کم ہوئی ہے؟موجودہ حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے۔کہ ملک میں کاروبار کر نے میں بہت سہولیا ت دی گئی ہیں۔جس سے بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں۔لیکن اس کے برعکس سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق بیرونی سرمایہ کاری میں جولائی سے فروری تک یہ سرمایہ کاری 73 فی صد کم ہو گئی ہے۔اور اب یہ صرف 1.216بلین ڈالر تک گر گئی ہے۔ آخر کیوں؟

قارئین ۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا مسائل کے باوجود اس حکومت نے بہت سے مثبت اور عوام دوست اقدام بھی کئے ہیں۔ جس کا اس کو پورا CREDIT ملنا چاہیے۔ مثلاً اول: CURRENT ACCOUNT میں کمی جو کہ پہلے 18 بلین ڈالر تھی اب 14ملین ڈالر ہو گئی ہے۔ حکومت اور بھی بہت سے اچھے کام کر رہی ہے۔ مثلاًوزیراعظم نے اُن وزرا کو جن کا کام تسلی بخش نہیں تھا فارغ کر دیا ہے۔ نیز FATA کی ترقی کے اقدامات اور اسے ملک کا ایک اہم حصہ بنانے کا مثبت کام کیا گیا۔علاوہ ازیں ان غریب لوگوںکے جن کے پاس رہائشی سہولیات نہیں تھیں رہنے کا بندو بست کیا گیا ہے۔ اور SHELTER HOMEکاتعمیر کیے جا رہے ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی بھی بہت بہتر حالات میں ہے۔بہر حال اس کے باوجود مو جودہ حکومت کو روزانہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اور ان کو ہر حالت میں کم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ عام آدمی کو اس کا فا ئدہ پہنچے۔

یہ بھی دیکھیں

بلیک ستمبر: کیا 1970 میں فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ میں ضیاالحق بھی ملوث تھے؟

عابد حسین اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری حالیہ تنازع پر دنیا بھر کے مختلف …