اتوار , 20 جون 2021

امریکا سے تجارتی مذاکرات میں کوئی بھی دباؤ برداشت نہیں کریں گے، چین

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک)چین نے تجارتی مذاکرات کے بعض نکات سے ’پیچھے ہٹنے‘ کا امریکی الزام مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ ’کوئی بھی دباؤ‘ برداشت نہیں کرے گا۔بیجنگ نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے عہدیداران تجارتی بحران سے نمٹنے کے لیے ’کامیاب یا ناکام مذاکرات‘ کا اعلان کریں گے تاہم اس ضمن میں کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائےگا۔خیال رہے کہ مذاکرات میں امریکی وفد نے بیجنگ پر گزشتہ شرائط پر آمادگی کے باوجود ان سے منحرف ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

امریکا نے چین کی مصنوعات پر ٹیرف میں 200 ارب ڈالر اضافے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جس کے ردعمل میں بیجنگ نے بھی ’ضروری اقدامات‘ اٹھانے کی ارادہ ظاہر کیا ہے۔چین کے وزیر تجارت جاؤ فینگ نے بیجنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ ’تجارتی مذاکرات کے دوران امریکا نے کئی مرتبہ الزامات لگائے‘۔

انہوں نے کہا کہ ‘چین نے تمام وعدوں کی پاسداری کی اور کبھی اپنے موقف سے منحرف نہیں ہوا، تاہم واضح کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ تمام ممکنہ صورتحال کے لیے تیاری کر چکے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’چین کسی بھی قسم کا دباؤ قبول نہیں کرے گا اور ہم اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں‘۔

امریکا کے صدر نے گزشتہ روز ٹوئٹ کیا تھا کہ ’چینی وفد کے سربراہ لیو ’ڈیل‘ کرنا چاہتے ہیں لیکن امریکی رہنما ٹیرف لگانے کے لیے پرجوش ہیں جو ’چین کے لیے مناسب نہیں‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ویسے بھی کیا آپ کو ٹیرف نظر آتے ہیں جو ہم نے لگائے؟ کیونکہ انہوں (چین) نے ڈیل توڑ دی، انہوں نے ڈیل توڑدی۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں چین کی حکومت نے واضح کیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ تجارتی امور پر مذاکرات کا خیر مقدم کرتی ہے تاہم چین کے مفادات سے متضادم نکات پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا۔چینی حکام نے عندیہ دیا تھا کہ مذاکرات مشترکہ اور یکساں مفادات کے نتاظر میں ہونے چاہیے۔اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ بیجنگ امریکا کو تجارتی دھمکی دینے کا ارادہ رکھتا ہے اور نہ ہی مذاکرات سے قبل شرائط کو قبول کرے گا۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل کے خلاف مالدیپ کا بڑا قدم، تعلقات منقطع اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ

مالی: فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے بعد مالدیپ نے اسرائیل سے تعلقات منقطع …