جمعہ , 14 مئی 2021

امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ بہتر سمجھوتے کا خواہاں ہے؛برائن ہک

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)وائٹ ہاؤس کے جاری ایران مخالف بیان کے ساتھ ساتھ امریکی وزارت خارجہ میں ایران ایکشن گروپ کے سربراہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ بہتر سمجھوتے کا خواہاں ہے۔وزارت خارجہ میں ایران ایکشن گروپ کے سربراہ برائن ہک نے اتوار کے روز سنڈے ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ان کے ملک کو جھڑپوں پر بالقوہ طور پر کوئی تشویش نہیں ہے اور امریکی اقدامات ایرانیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہیں۔

انھوں نے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے سے متعلق امریکی پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسی دائرے میں ایٹمی معاہدے سے نکلا گیا ہے اور ایران کے خلاف پابندیوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں ڈالا گیا ہے اور ایران سے تیل کی خریداری کرنے والے ملکوں کی چھوٹ ختم کی گئی ہے۔

دوسری جانب سی این این ٹی وی کے مبصر نے رپورٹ دی ہے کہ ایران کے خلاف وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر کی جنگ پسندانہ پالیسیاں کارگر ثابت نہیں ہو ں گی۔سی این این ٹی وی کے مبصر ڈیویڈ راڈ نے ایک رپورٹ میں امریکی فوجیوں کے مشرق وسطی روانہ کئے جانے کو وائٹ ہاؤس میں ایران کے خلاف واشنگٹن کے دباؤ کے اصل محرک کی حیثیت سے امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کی پالیسیوں سے تعبیر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف دباؤ کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ جب امریکہ کے سیاسی طور طریقے اور وائٹ ہاؤس کے واضح پیغام کا مشاہدہ ہی نہیں کیا جا رہا ہے تو امریکہ کیسے مذاکرات کا خواہاں ہے۔سی این این ٹی وی کے مبصر ڈیویڈ راڈ نے کہا کہ ایران، وینزوئیلا اور چین جیسے ملکوں کا صبر و تحمل اس بات کا باعث بنا ہے کہ خود امریکی صدر ٹرمپ پر دباؤ پڑ رہا ہے۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے چھے مئی کو ایک بیان میں علاقے میں امریکہ کے ابراہم لنکن بحری بیڑے کی روانگی کا اعلان کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ بحری بیڑا روانہ کئے جانے کی وجہ روز افزوں بڑھتے ہوئے تشویناک انتباہات اور علامات ہیں اور امریکہ کی جانب سے اس بحری بیڑے کی روانگی ایران کے لئے ایک کھلا پیغام ہے۔

امریکہ کے بعض مبصرین منجملہ الن گولڈنبرگ نے بھی ابراہم لنکن جیسے بحری بیڑے کو روانہ کئے جانے کے ساتھ ایران کے خلاف جان بولٹن کے بیان کو کھوکھلی دھمکی قرار دیا ہے۔امریکہ کی جانب سے ایران پر ایسی حالت میں دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی علاقے میں امریکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف مہم میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اس نے اہم کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …