جمعہ , 14 مئی 2021

سرکاری ہسپتال میں اصلاحات کے آگے کسی کا دباؤ قبول نہیں، عمران خان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم دعا کرے کہ کراچی کے قریب سمندر میں گیس کا بڑا ذخیرہ برآمد ہوجائے، اگلے ہفتے تک گیس کے ذخائر ملنے کے امکانات ہیں۔پشاور میں شوکت خانم ہسپتال کے لیے فنڈریزنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسی قوم سے پیسہ جمع کرکے ملک بھی چلا کر دکھاؤں گا۔

وزیرا عظم نے پشاور کے ٹیجنگ ہسپتال میں ٖڈاکٹر اور صوبائی وزیر صحت کے مابین جھگڑے کے بعد ہڑتال کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سرکاری ہسپتال کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’شوکت خانم ہسپتال کی طرح صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں بھی معیار برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن ’چند ڈاکٹرز‘ انتشار پر مبنی مہم چلا رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ’سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام علاج کے لیے آتے ہیں جہاں طبی معیار انتہائی ناقص ہے اس لیے سرکاری ہسپتالوں میں بہتر انتظامیہ لانے کی کوشش ہے تاکہ طبی سہولیات کا معیار بہتر ہو‘۔انہوں نے کہا کہ ’سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا جارہا‘۔

وزیراعظم نے یقین دلایا کہ سرکاری ہسپتال میں اصلاحات کے آگے کسی کا دباؤ قبول نہیں کریں گے تاہم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو ڈاکٹروں سے مذاکرات کی ذمہ داری سونپی ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ہرسال عوام بڑی خوشی دلی کے ساتھ شوکت خانم کیلئے عطیات دیتے ہیں۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ پشاور میں قائم شوکت خانم ہسپتال کی آڈٹ رپورٹ جلد متوقع ہے۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ کینسر کے علاج کے لیے جدید مشین خریدی جائے گی جس کی مدد سے ابتدائی درجے کا کینسر بھی تشخیص ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں شوکت خانم ہسپتال گزشتہ 24 برس سے غریبوں کا مفت علاج کررہا ہے تاہم اب لاہور کی طرح پشاور میں بھی شوکت خانم ہسپتال مفت علاج فراہم کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہرسال پاکستانی قوم پچھلے سال سے زیادہ عطیات ہسپتال کو دیتی ہے‘۔عمران خان نے کہا کہ ’70 کروڑ روپے کا شوکت خانم ہسپتال منصوبہ شروع کیا تو اکاؤنٹ میں ایک کروڑ روپے تھے‘۔انہوں نے کہا کہ پشاور کے شوکت خانم ہسپتال میں افغانستان سے بھی لوگ علاج کرانے آتے ہیں۔

وزیراعظم کی قبائلی جرگہ سے ملاقات
قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے گورنر ہاؤس میں ضلع خیبر کے قبائلی جرگہ سے ملاقات کی۔عمران خان نے کہا کہ ’قبائلی اضلاع کا نیا نظام قبائلی عوام کے رہن سہن، روایات سےمتصادم نہیں ہوگا‘۔گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان اور وزیر اعلیٰ محمود خان بھی ملاقات میں موجود تھے، اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ کوشش ہے کہ نئے نظام سے قبائلی روایات، طرز زندگی زیادہ متاثر نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کے مسائل ان کی مشاورت سے ہی حل ہوں گے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں، عارف علوی

پاکستان کے صدر عارف علوی نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور …