بدھ , 30 نومبر 2022

مکہ اجلاس میں عراقی موقف: ’حالیہ بحران حل نہ کیا گیا تو ایران سے جنگ چھڑ سکتی ہے‘

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بحری جہازوں اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد عرب ممالک نے بین الاقوامی کمیونٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کیا جائے۔یہ مطالبہ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز نے مکہ میں جاری عرب ممالک کے ایک ہنگامی اجلاس میں سامنے آیا۔تاہم ایران کے پڑوسی ملک عراق کے صدر برہم صالح نے مکہ اجلاس کے بعد جاری کیے جانے والے بیان سے اختلاف کیا ہے۔

اپنے خطاب میں عراقی صدر برہم صالح نے خبردار کیا کہ اگر حالیہ بحران سے صحیح طرح نہ نمٹا گیا تو جنگ بھی چھڑ سکتی ہے اور تمام فریق کے درمیان تعمیری مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ساتھ ہی ایران نے مکہ اجلاس کے بعد تہران پر عائد کیے جانے والے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب مکہ میں منعقد ہونے والے اجلاسوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
ایران کا ردعمل
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے ایک بیان میں عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے اجلاسوں کے بعد تہران پر لگائے گئے الزامات کو ’بےبنیاد‘ قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب ان ملاقاتوں کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کر رہا ہے اور دعوی کیا کہ ایسا کرنا اسرائیل کی دیرینہ خواہش تھی۔

سعودی عرب کا موقف
اس سے قبل، شاہ سلمان نے کہا تھا کہ ایرانی حکومت ’کی ہمارے معاملات میں دخل اندازی کے باعث ہمارے ممالک کی سکیورٹی اور سالمیت کو مسلسل خطرات لاحق ہیں‘۔سعودی فرماں روا کے مطابق ’ایران کے دہشت گردانہ عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک موثر دفاعی حکمت عملی کی عدم موجودگی نے حالات کو اس نہج پر پہنچایا ہے۔‘

انھوں نے بین الاقوامی برادری سے کہا کہ ’وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں تاکہ ایرانی ریاست کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت کے سلسلے کو روکا جا سکے‘ جو کہ نہ صرف خطے میں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرے کا باعث ہے۔عرب ممالک نے اجلاس کے اختتام پر جاری کیے جانے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ عالمی برادری کو ’ایران کی طرف سے خطے کو غیر مستحکم بنانے کی کوششوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔‘

اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں تمام فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ یمن سے داغے جانے والے ایرانی ساختہ میزائلوں سے بچاؤ سعودی عرب کا حق ہے اور یہ حملے عرب ممالک کی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

تاہم عراق کے صدر برہم صالح نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایران عراق اور دیگر عرب ممالک کا ہمسایہ ہے اور یاد دلایا کہ ان کے ملک کا ایران کے ساتھ 1400 کلومیٹر کا مشترکہ بارڈر بھی ہے۔ ’ہم نہیں چاہتے کہ اس کی سکیورٹی کو نشانہ بنایا جائے۔‘

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک پڑوسی مسلم ملک کی سالمیت کا خیال رکھنا تمام عرب ممالک اور مسلم اُمہ کے مفاد میں ہے۔سعودی عرب کی دعوت پر مکہ میں منعقد ہونے والے عرب ممالک کے اس اجلاس سے پہلے خلیج تعاون کونسل کی بھی ایک میٹنگ ہوئی۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے ساحل پر تیل ٹینکوں کی توڑ پھوڑ، سعودی عرب میں تیل کی سہولیات پر حملے سے منسلک ہے، اور یہ کہ ’واشنگٹن کو ان حملوں کے الزام میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ’ یہ اہم ہے کہ ایران میں موجود قیادت وہ جان لے جو ہم جانتے ہیں۔‘ایک ایرانی حکام نے بولٹن کے بیانات کا جواب دیتے ہوئے انھیں ’مضحکہ خیز الزامات‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا ملک ’کسی بھی فوجی یا اقتصادی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔‘

یہ بھی دیکھیں

ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کا ترکی اور شام کی سرحدوں میں کشیدگی میں اضافے پر تبادلہ خیال

تہران:ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کا ترکی اور شام کی سرحدوں میں کشیدگی میں …