اتوار , 28 نومبر 2021

‘فلسطینی اور امریکی حکام کی واشنگٹن میں خفیہ ملاقاتیں ہوتی رہیں’

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک)مشرق وسطیٰ کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی جیسن گرین بیلٹ نے فلسطینی اتھارٹی اور صدر عباس کی طرف سے امریکا کے بائیکاٹ کے دعوے کی قلعی کھول دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر عباس کے اعلانیہ موقف کے باوجود فلسطینی اتھارٹی اور امریکی حکام کے درمیان واشنگٹن میں ملاقاتیں جاری رہتی ہیں‌۔خیال رہے کہ امریکا کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے اعلان کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے امریکا کے ساتھ رابطے ختم کر دیئے تھے۔

امریکا کے ایک ٹیلی ویژن چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں جیسن گرین بیلٹ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے حکام کے ساتھ امریکا میں میل ملاقات اور بات چیت جاری رہتی ہے تاہم انہوں‌ نے ان فلسطینی حکام کی شناخت ظاہر نہیں‌ کی۔ انہوں‌ نے کہا کہ ہم فلسطینیوں سے بات چیت کرتے ہیں۔ میرے دفتر کے لوگوں کی بھی فلسطینیوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ امن کے لیے امریکی انتظامیہ کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔

انہوں‌ نے کہا کہ میرے دفتر میں مجھ سے ملے والا ہر فلسطینی عہدیدار اپنی شناخت راز میں رکھنے کا کہتا ہے۔ یہ افسوسناک ہے مگر حقیقت ہے۔ فلسطینی عہدیدار ہمیں تنازع کے حل کے لیے امید دلاتے ہیں۔

جیسن گرین بیلٹ کا کہنا ہے کہ ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم براہ راست صدر عباس یا فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ رابطے میں نہیں تاہم امریکا میں ملنے والے فلسطینی صدر عباس کے مقربین میں ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے دسمبر 2017ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد بہ طور احتجاج امریکا کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات ختم کر دیے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی و ہندوستانی وزرائے خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے مزید فروغ کے لئے پر عزم

نیویارک: اسلامی جمہوریہ ایران اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل …