اتوار , 5 دسمبر 2021

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے پہلے سال میں مالیاتی خسارہ 8.9 فیصد رہا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے پہلے سال میں مالیاتی خسارہ 8.9 فیصد رہا جو ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔حکومت کے پہلے سال میں مالیاتی خسارہ، جو وفاقی حکومت کے آمدن اور خرچ کے درمیان فرق ہوتا ہے، جی ڈی پی کا 8.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔جون 2019 میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ مالیاتی خسارہ 7.1 فیصد تک رکھے گی جبکہ سال کے آغاز میں انہوں نے 4.9 فیصد کا ہدف طے کیا تھا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے مالیاتی آپریشنز کی تفصیلات میں بتایا گیا کہ پورے سال میں ملک کا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 34.45 کھرب روپے (8.9 فیصد) رہا، جو اقتصادی سروے کے مطابق 80-1970 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال ملکی خسارہ جی ڈی پی کا 22.6 کھرب روپے یا 6.6 فیصد رہا تھا۔آمدن اور خرچ، دونوں جانب تمام اہم مالی معاملات میں جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران بگاڑ نظر آیا۔اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ خرچ پر کنٹرول کے لیے جو بھی اقدامات کیے گئے تھے وہ ضائع گئے جبکہ آمدن میں کمی کا سلسلہ سال کی پہلی سہ ماہی میں ہی ہوگیا تھا۔

زیادہ تر خسارہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں سامنے آیا، رواں سال 31 مارچ تک خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد تھا تاہم آخری سہ ماہی کے درمیان اس میں 80 فیصد (15.23 کھرب روپے) کا اضافہ سامنے آیا۔سابق اقتصادی مشیر اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے بزنس اسکول کے سربراہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے اپنے کیریئر کے دوران اتنا زیادہ خسارہ نہیں دیکھا، وزارت خزانہ نے خرچ پر قابو پانے پر کبھی توجہ ہی نہیں دی جبکہ آمدن تاریخ کی کم ترین سطح کی جانب جارہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافے سے 11 کھرب 10 ارب کی سود کی ادائیگی سامنے آئی جس میں 10 کھرب 20 ارب اندرونی قرضے اور 90 ارب کے بیرونی قرضے شامل ہیں۔

انہوں نے روپے کی قدر میں کمی بھی مسئلے کی وجہ بتائی اور کہا کہ ‘اس سے قرضے میں 32 کھرب روپے کا اضافہ ہوا اور جب سود کی ادائیگی میں اضافہ ہوتا ہے تو موجودہ خرچے اور کُل اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے’۔

مالی سال 19-2018 کے دوران ترقیاتی اخراجات 45 فیصد کم ہونے کے باوجود خسارے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ ہوا۔رواں سال سود کی مد میں ادائیگیاں 21 کھرب روپے یا جی ڈی پی کا 5.4 فیصد رہیں، جو 2001 کے بعد سے سب سے زیادہ ہے جبکہ گزشتہ سال یہ 4.4 فیصد تھی۔

تحریک انصاف کے حکومت میں آتے ہی پالیسی ریٹ 7.5 فیصد سے 13.2 فیصد پر جانے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی سے سود کی شرح میں اضافہ ہوا اور ان دونوں میں اضافے سے مارک اَپ کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا۔دفاعی اخراجات گزشتہ سال کے مقابلے میں تبدیل نہیں ہوئے جو جی ڈی پی کا 3 فیصد رہے۔

یہ بھی دیکھیں

پاک افغان تجارت پاکستانی روپے میں کرنے کا فیصلہ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت پاکستانی روپے میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ …